وقت آنے پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کیلئےتیار ہیں: حزب اللہ

انٹرنیشنل نیوز سلائیڈر
لبنان:۔لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ تحریک نے جمعہ کو کہا کہ وہ صحیح وقت آنے پر اسرائیل کے خلاف جنگ میں اپنے فلسطینی اتحادی حماس کے ساتھ شریک ہونے کیلئےمکمل طور پر تیارہو گی۔ حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے اس وقت بات کی جبکہ حماس اور اسرائیل کے درمیان ساتویں روز بھی شدید گولہ باری جاری ہے۔ ہفتے کے روز حماس کے سینکڑوں مسلح افراد نے غزہ سے اسرائیل میں سرحد پار یلغار کر دی اور 1300 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں کم از کم 2200 سے زائدافراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری اور 600 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔قاسم نے بیروت کے جنوبی مضافات میں فلسطینی حامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بحیثیتِ حزب اللہ تصادم میں حصہ لے رہے ہیں اور اپنے نظریئے اور منصوبے کے تحت حصہ لیتے رہیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور جب کارروائی کا وقت آئے گا تو ہم انجام دینگے۔حزب اللہ کے نائب افسر جن کے تبصرے اتفاقاً ایران کے وزیرِ خارجہ کے بیروت کے دورے کے موقع پر سامنے آئے ہیں، نے حزب اللہ کے اسرائیل-حماس جنگ سے دور رہنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔انہوں نے مزید کہاکہ بڑے ممالک، عرب ممالک اور اقوامِ متحدہ کے سفراء کی طرف سے براہِ راست اور بالواسطہ ہم سے جنگ میں مداخلت نہ کرنے کا کہا گیا ہے لیکن اس سے ہم پر کوئی اثر نہیں ہو گا،حزب اللہ اپنے فرائض سے واقف ہے۔اسرائیل نے حالیہ دنوں میں لبنان میں حزب اللہ اور اتحادی فلسطینی گروہوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے۔جمعہ کو جنوبی لبنان میں رائٹرز کا ایک صحافی ہلاک اور اے ایف پی، رائٹرز اور الجزیرہ کے چھ دیگر زخمی ہو گئے جب وہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری میں پھنس گئے۔اسرائیلی فورسز نے کہا تھا کہ اس کے فوجی "لبنانی علاقے کی طرف توپ خانے سے جوابی فائرنگ کر رہے تھے” جب ایک دھماکے سے سرحدی رکاوٹ کو نقصان پہنچا۔ہفتے کو صبح سویرے اسرائیلی فضائیہ نے ایکس، سابقہ ٹویٹر پر کہا کہ اس کی افواج نے "اسرائیل میں نامعلوم فضائی اشیاء کی دراندازی اور ایک اسرائیلی ڈرون پر فائرنگ کے جواب میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنایا۔