دہلی :انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نیشنل ہیرالڈ کیس میں ینگ انڈیا کے 751.9 کروڑ روپے کے اثاثوں کو ضبط کیا ہے۔ منی لانڈرنگ کے معاملے میں کانگریس سے وابستہ ینگ انڈیا کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے۔ اس کمپنی میں سونیا-راہل کی 76 فیصد حصہ داری ہے۔اس معاملے میں، ای ڈی نے 3 اگست 2022 کو ہیرالڈ بلڈنگ، دہلی میں واقع ینگ انڈیا کمپنی کے دفتر کو سیل کر دیا تھا۔ پچھلے سال 2 اور 3 اگست کو ای ڈی کی ٹیم نے نیشنل ہیرالڈ کے 16 مقامات بشمول دہلی، ممبئی اور کولکاتہ میں صبح سے دیر شام تک چھاپے مارے تھے۔ یہ کارروائی سونیا اور راہول سے پوچھ گچھ کے بعد کی گئی۔ای ڈی نے کہا کہ تحقیقات میں غیر قانونی جائیداد ملی۔تفتیش ایجنسی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سونیا گاندھی، ان کے بیٹے راہول گاندھی اور صدر ملکارجن کھرگے سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ اس بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ ای ڈی نے مزید کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ینگ انڈیا کے پاس دہلی، ممبئی اور لکھنؤ میں ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کی 661.69 کروڑ روپے کی غیر قانونی جائیدادیں ہیں۔ اس کے علاوہ اے جے ایل نے اس میں 90.21 کروڑ روپے کی غیر قانونی آمدنی کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پراپرٹی منسلک کردی گئی ہے۔نیشنل ہیرالڈ کیس پہلی بار بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے 2012 میں اٹھایا تھا۔ اگست 2014 میں ای ڈی نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا۔ کیس میں سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور کانگریس کے موتی لال وورا، آسکر فرنانڈیز، سیم پتروڈا اور سمن دوبے کو ملزم بنایا گیا تھا۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کا الزام ہےکہ کہ کانگریس نے نیشنل ہیرالڈ چلانے والی اے جے ایل سے 90 کروڑ روپے کے قرض کی وصولی کا حق ینگ انڈین لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کو منتقل کیا اور ینگ انڈین لمیٹڈ نے اے جے ایل سے 2000 کروڑ روپے لیے۔ جائیداد صرف ادائیگی کرکے حاصل کی گئی۔ کانگریس پارٹی کو 50 لاکھ روپے۔سوامی نے الزام لگایا کہ راہل-سونیا کی ینگ انڈین لمیٹڈ نے نیشنل ہیرالڈ چلانے والی اے جے ایل کمپنی پر کانگریس کے واجب الادا 90 کروڑ روپے کے قرض کی ادائیگی کے لیے 50 لاکھ روپے ادا کیے، جس کے بعد کانگریس نے اے جے ایل سے باقی 89.50 کروڑ روپے ادا کیے، قرض معاف کر دیا گیا۔سوامی نے الزام لگایا کہ وای آی ایل کو اپنے قرض کی وصولی کیلئے نیشنل ہیرالڈ کی جائیدادوں کو حاصل کرنے کا حق حاصل ہوا، بشمول دہلی میں ایک اہم مقام پر واقع اس کی عمارت، جس کی مالیت تقریباً 2000 کروڑ روپے ہے۔الزام ہے کہ 2010 میں 5 لاکھ روپے سے بننے والی ینگ انڈین لمیٹڈ کے اثاثے چند سالوں میں بڑھ کر 800 کروڑ روپے ہو گئے۔دوسری جانب محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی نے ینگ انڈین لمیٹڈ کے شیئرز سے 154 کروڑ روپے کمائے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے پہلے ہی ینگ انڈین لمیٹڈ کو 2011-12 کیلئے 249.15 کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔نیشنل ہیرالڈ کی مالک کمپنی اے جے ایل سے 90 کروڑ روپے کا قرض ینگ انڈین لمیٹڈ کو منتقل کیا گیا، جس میں سونیا-راہل کا 76 فیصد حصہ ہے۔
