بنگلورو:۔مسلم خواتین کو لیکر متنازعہ بیان دینےوالے آر ایس ایس لیڈرکلڑکاپربھاکربھٹ کے خلاف عائد مقدمات کے تحت اس کی ضمانت کی عرضی پر فیصلہ17 جنوری تک محفوظ کیاگیاہے ۔ منڈیاضلع کے سری رنگاپٹن کی 3اڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس معاملے کی شنوائی چل رہی ہے۔24 دسمبرکو ٹائون میں ہونےوالے ہنومان مالادھری کیرتن یاتراکے دوران کلڑکا پربھاکر بھٹ نے مسلم خواتین کو لیکر متنازعہ بیان دیاتھا،اس بیان کو لیکر سماجی کارکن نجمہ نذیرنے کلڑکاپربھاکربھٹ کے خلاف مقدمہ درج کیاتھا۔نجمہ نذیرکی طرف سے ہائی کورٹ کے سینئروکیل ایس بالن نے عدالت میں نمائندگی کی۔اس دوران اڈوکیٹ بالن نے اپنے دلائل میں کہاکہ کلڑکاپربھاکربھٹ نے نہایت اشتعال انگیز بیان دیاہے،ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے،اس کے خلاف ٹاڈا اور کوکا قانون کے مطابق معاملہ درج کرنے کی ضرورت ہے۔شنوائی کےدوران سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے اہم فیصلوں کاحوالہ دیاگیا۔اس موقع پرکلڑکاپربھاکربھٹ کے وکیل چندرے گوڈانے اپنے دلائل میں بتایاکہ کلڑکاپربھاکربھٹ کے خلاف جو مقدمہ عائدکیاگیاہے وہ پھانسی کی سزایا عمرقیدکی سزاکے ماتحت نہیں ہے،سوشیل میڈیاپر جو ویڈیووائرل ہواہے اُس کی جانچ ابھی ہونی باقی ہے،کلڑکاپربھاکربھٹ دل کے امراض کاشکارہیں،باوجوداس کے وہ جانچ میں پوراتعائون کررہے ہیں،اس لئے انہیں ضمانت دی جائے۔اس موقع پر نجمہ نذیراوروکیل لکشمن چیرن ہلی موجودتھے،عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ17 جنوری کو سنانے کا اعلان کیاہے۔
