چنگیری:۔(الطاف رضوی):۔ڈی وائی یس پی پرشانت جی منولی ایک ایماندار پولیس افسر جس نے مشتعل ہجوم کو سمجھانے کی پوری کوشش اورمعاملہ کی مکمل تحقیق کے ساتھ عادل کو انصاف دلانے کی بات کرتے ہوئےیقین دلایاتھامگر مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ شروع کی، پولیس کی گاڑیوںکو نقصان پہنچایاجس کے نتیجہ میں گیارہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ اعلیٰ حکام نے معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عادل کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ضلع اسپتال منتقل کیاتھا۔اس اثنا میں وزیر اعلیٰ نے بغیر ایف آئی آر کے اسٹیشن میں رکھنے کو قصور کہتے ہوئے ڈی وائی یس پی پرشانت منولی اور سرکل انسپکٹر نرنجن کو معطلی کے احکام دئے ،ریاستی حکومت کے اس اقدام سے تعلق کی عوام میں بے چینی اور خوف کا ماحول پایا جارہا ہے کہ حفاظت پر مامور افسران کو معاشرے میں امن قائم کرنے کی پاداش میں معطل ہونا پڑا ،ریاستی حکومت کا افسران کو معطل کرنا مجرمانہ سر گرمیوں کو بڑھاوا دینے کے برابر تصور کیا جانے لگا ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس افسران کی معطلی کے احکامات فوری واپس لئے جائیں ورنہ خود ریاستی حکومت لوگوں کو خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کررہی ہے۔اس درمیان سابق رکن اسمبلی کے ماڈال ویروپاکشپا نے اخباری کانفرنس کےذریعہ کہا کہ مشتعل ہجوم کے ذریعہ پولیس اسٹیشن پر حملہ، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ ،پولیس اہلکاروں کو زخمی کیا جانا تعلق کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جو تعلق کیلئے ایک بدنما داغ ہے ۔ عادل کی موت کی تحقیق ہونی چاہیئے کسی کو بھی بے قصور موت کی آغوش میں ڈھکیلنا اچھی بات نہیں ،مگر پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح کی حرکت کو قانون بھی اجازت نہیں دیتا ۔ ماڈل ویرو پاکشپا نے اس بات کا شبہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی حرکت کو انجام دینے کیلئےپہلے سے ایک منظم سازش ہے ،کیونکہ اچانک سے پولیس تھانے پر پتھرائو اور نقصان کو انجام دینا سوچنے والی بات ہے ، شاید ہوسکتاہے کہ اس غیر قانونی حرکت کو انجام دینے کیلئے کسی کاہاتھ ہو ؟۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس افسران کے خلاف معطلی کے احکامات کو فوری واپس لےا ور عادل کی موت کے تعلق سے تحقیقات کروائی جائے تاکہ سچائی سامنے آسکے۔عادل کی موت کو لیکران کے والدکلیم اُللہ کے بیانات بھی متضاد طور پر سامنے آرہے ہیں ،اس لئے عادل کی موت کی جانچ گہرائی کے ساتھ کروائی جائے ۔ پولیس تھانے پر پتھرائو اور پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنےوالے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنےکیلئے بھی حکومت پیش رفت کرے۔
