ایم آئی ایم صرف مسلمانوں کی نہیں ،ملک کے تمام طبقات کی سیاسی جماعت ہے:لطیف خان پٹھان

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ:۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین صرف مسلمانوں کی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ وہ ملک کے تمام طبقات،مذاہب اور ذاتوں کی سیاسی جماعت ہے،البتہ اس سیاسی جماعت کے سربراہ ایک مسلمان ہیں جو تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔اس بات کااظہار اے آئی ایم آئی کے ریاستی صدر لطیف خان پٹھان نے کیاہے۔انہوں نے اپنےشیموگہ دورے کے دوران روزنامہ سے خصوصی طورپربات کرتے ہوئے کہاکہ ایم آئی ایم کو بی جے پی کی Bٹیم قرار دینے والے کانگریس پارٹی کے وہ مسلمان ہیں جوکانگریس کی غلامی میں چل رہے ہیں۔آج پارلیمنٹ میں ہویاپھر پارلیمنٹ کے باہر اگر فرقہ پرستوں کا کوئی منہ توڑ جواب دے رہاہے تو وہ بیرایسٹر اسدالدین اویسی ہی ہیں جبکہ کانگریس اور دوسری سیکولرپارٹیوں کے مسلمان وقت آنے پر پارلیمنٹ میںسے غائب ہوجاتے ہیں۔طلاق ثلاثہ کے قانون کا بل اسدالدین اویسی نے ہی پارلیمنٹ میں پھاڑاتھا،جبکہ کانگریس سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کے مسلم لیڈران اپنی پارٹیوں کے آقائوں کے اشاروں پر خاموش بیٹھے ہوئے تھے،ان تمام باتوں سے واضح ہے کہ کون بی جے پی کے Bٹیم ہیں۔کرناٹک میں ایم آئی ایم نے ماضی میں جے ڈی ایس کے ساتھ اشتراک کیاتھا،کیونکہ ایم آئی ایم کی ایک پالیسی ہے جو علاقائی سیاسی جماعت سیکولر ہو اُس کے ساتھ آگے بڑھے۔لیکن اب کمارسوامی نے فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ہاتھ ملایاہے،اس نسبت سے ایم آئی ایم جے ڈی ایس سے اپنے تعلقات ختم کرچکی ہے۔شیموگہ،ٹمکورواور میسورو کے کارپوریشن انتخابات میں پارٹی اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارے گی اورآزادانہ طورپر یہ الیکشن لڑے گی۔اسی مقصدکے تحت میں ان حلقوں کا دورہ کرتے ہوئے حقائق کو جاننے کی کوشش کررہاہوں۔ریاستی صدر لطیف خان پٹھان نے بتایاکہ ایک دورمیں میں بھی کانگریس پارٹی کا وفاداررہاہوں،لیکن ہمیں بعدمیں احساس ہواہے کہ یہ پارٹی صرف مسلمانوں کا استعمال کرنا جانتی ہے اور مسلمانوں کو قیادت دینے کیلئے وہ تیارنہیں ہے،اگر واقعی میں مسلمان اپنے سیاسی وجودکو بحال رکھناچاہتے ہیں اور اپنی قیادت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو اُنہیں اپنی سیاسی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کیلئے آگے آناچاہیے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی ضرورت ہے۔جب ان سےیہ پوچھاگیاکہ کیا ایم آئی ایم دیگر طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہی ہے تو انہوں نے بتایاکہ ہماری پارٹی گذشتہ اسمبلی انتخابات میں ہبلی سے دلت امیدوارکو ٹکٹ دیاتھا،جبکہ ہبلی کے150سے زائد علماء نے قومی صدر بیریسٹر اسدالدین اویسی سے خودیہ مطالبہ کیاتھاکہ ہبلی میں ہمیں متبادل سیاسی شناخت کی ضرورت ہے،اس بنیادپر ہم نے وہاں اسمبل الیکشن میں دلت امیدوارکو ترجیح دی تھی،لیکن کانگریس کی غلامی کی وجہ سے بعدمیں یہی علماء کانگریس کے ساتھ چلے گئے تھے۔ہم مخصوص طبقے کیلئے سیاست نہیں کررہے ہیں،بلکہ ملک کی جمہوریت کی بقاء،سالمیت اور ملک کی بہبودی کیلئے سیاست کررہے ہیں۔