میسورو: ایس ایس ایل سی امتحانات کا اہتمام کرتے ہوئے کرناٹکاحکومت بچوں کو موت کے منہ میں دکھیل رہی ہے۔ یہ الزام سابق وزیر برائے ثانوی تعلیم اورایم ایل سی ایچ وشوناتھ نے لگایا ہے۔ انہوں نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس ایل سی کے امتحانات کا اہتمام کرنے کی زد پر اڑی ریاستی حکومت بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کا کام کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خود مختاری کررہے ہیں ، دنیا بھر میں جو اقدامات امتحانات کے تعلق سے اٹھائے گئے ہیں ، انہیں نظرانداز کرتے ہوئے امتحانات کا انعقاد درست نہیں ہے۔ اگلے دس پندرہ دنوں میں ڈیلٹا وائرس میں اضافہ ہونے کی بات بین الاقوامی میڈیا کررہی ہے۔ بچے مستقبل کا سرمایا ہیں ہربچہ اسکول آرہا ہے۔ تعلیم ہر بچے کا حق ہے ایسا کہہ کراپنے بچوں کو خطرے میں ڈالنا مناسب نہیں ہے۔ ایچ وشوناتھ نے مزید بتایا کہ ودھان سودھا میں پہ درپہ نشستوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس تعلق سے کل جماعتی نشست میں فیصلہ لینا ہے۔ کم ازکم اتنی بھی حساسیت حکومت کے پاس نہیں ہے جب مرکزی حکومت سی بی ایس سی امتحان ہی منسوخ کرچکی ہے تو ریاستی حکومت کو ضد پر آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ایس ایس ایل سی کے بچوں کو 40 مارکس کا امتحان لکھنا ہے یہ کافی بتایا جارہا ہے ایک ہی دفعہ 3سبجیکٹ کا امتحان لکھنا بچوں کے ذہین پر دبائو ڈالنے والی بات ہے۔ اس سے کیا نقصانات ہیں اسکا بھی اندازہ نہیں کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم مودی خود کہہ رہے ہیں کہ جان ہے جہان ہے۔ لیکن ریاستی حکومت کو کسی کی پرواہ نہیںاوریہ حکومت نے کونسے ماہرین کی رائے لی ہے اسکا اندازہ نہیں ہورہاہے۔ حکومت کو چاہئے تھاکہ امسال ایس ایل ایل سی کے امتحان کو منسوخ کردیتی۔ اگلے 15 سے 20 دنوں میں کورونا کی تیسری لہر کے ابھرنے کے خدشات ماہرین نے ظاہر کئے ہیں، کچھ ماہرین حکومت کے اشارے پر کام کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر دیوی شیٹی یہ کہہ رہے ہیںکہ ریاست میں تیسری لہر پیدا ہونے والی ہے اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ اسکول چلائے جاسکتےاورامتحانات لئے جاسکتے ہیں۔ حکومت فیصلہ کرے کہ آخر ماہرین کی سننا ہے یا حکومت کی۔
