{یومِ انسانی حقوق }

مضامین

از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038

ہرسال 10 دسمبر کو ”یومِ انسانی حقوق” دنیا بھر میں منایا جاتا ہے ۔ 1948ء میں اسی دن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی اعلامیہ حقوقِ انسانیUniversal Declaration of Human Rights۔ (UDHR)منظور کیا تھا۔ اس دن کا مقصد انسانی وقار، مساوات، آزادی اور بنیادی حقوق کی اہمیت اجاگر کرنا اور دنیا کو ان کے احترام کی یاد دہانی کرانا ہے۔ 10 دسمبر سن 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ تشکیل دیا. یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی شعور، اس کے دکھ، اس کے تجربات اور اس کی جدوجہد کا نچوڑ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام نے دنیا کو جس بربادی، تقسیم اور اخلاقی بحران سے دوچار کیا، اس نے عالمی قیادت کو مجبور کیا کہ انسان کی حرمت، اس کے وقار، اس کی آزادی اور اس کے بنیادی حقوق کے لیے ایک ایسی عالمی بنیاد رکھی جائے جو کسی ایک قوم یا خطے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ضرورت ہو۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی تشکیل دراصل اسی احساس اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا نتیجہ تھی۔
دوسری عالمی جنگ انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ 1939 سے 1945 تک جاری رہنے والی اس جنگ میں تقریباً سات کروڑ انسان جان کی بازی ہار گئے۔ بڑی طاقتیں صفحہ ہستی بدلنے کے جنون میں مبتلا تھیں، شہروں پر اندھا دھند بمباری، لاکھوں لوگوں کی جبری نقل مکانی، عورتوں اور بچوں کے قتل عام، اور جنگی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نے دنیا کو ایک ایسے تاریک دور سے گزارا جس نے انسانیت کا چہرہ مسخ کر دیا تھا۔ جب جنگ کے بعد دھواں چھٹا اور انسان نے اپنی وحشتوں کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ اگر انسان کی عزت و حرمت کے لیے کوئی جامع عالمی اصول نہ بنائے گئے تو دوبارہ ایسی قیامت صغریٰ برپا ہونے میں دیر نہ لگے گی۔ یہی احساس انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی بنیاد بنا۔ جنگ کے دوران نازی جرمنی کے ہاتھوں ہونے والی ظلم و زیادتی نے عالمی ضمیر کو سب سے زیادہ جھنجھوڑا۔ ہولوکاسٹ میں لاکھوں یہودیوں ، مسلمانوں، عیسائیوں، معذور افراد، سیاسی مخالفین اور دیگر اقلیتی گروہوں کو اذیت ناک طریقوں سے قتل کیا گیا۔ انسانوں کو محض ان کی شناخت، عقیدے یا نسل کی بنیاد پر ختم کر دینے کی کوشش نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انسان کے حقِ زندگی، حقِ آزادی اور حقِ تحفظ کو عالمی سطح پر یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔ جب اتحادی قوتوں نے نازی کیمپوں کو آزاد کرایا تو وہاں انسانی جسموں کے ڈھیر، بھوک سے نڈھال بچے، درندگی کی انتہا کرتے آلاتِ شکنجہ اور اجتماعی قبریں دیکھ کر عالمی قیادت اس نتیجے پر پہنچی کہ انسان کو ریاست اور طاقت کے ظلم سے بچانے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اصول ہونے چاہئیں۔
اسی پس منظر میں اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی۔ 1945 میں سان فرانسسکو کانفرنس میں جب دنیا کے ممالک نے مل کر اس عالمی ادارے کی تشکیل کی تو اس کے بنیادی مقاصد میں عالمی امن، انسانی ترقی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ شامل کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ہی اس بات کا واضح اعلان موجود ہے کہ انسان کا وقار، اس کی برابر حیثیت اور اس کے بنیادی حقوق کی حفاظت اس ادارے کی اولین ترجیح ہے۔ لیکن یہ چارٹر ایک عمومی خاکہ تھا۔دنیا کو ایک واضح، جامع اور عملی دستاویز کی ضرورت تھی جو ہر ملک کے لیے اخلاقی اور اصولی معیار قائم کرے۔ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ تشکیل دیا گیا۔ نوآبادیاتی نظام بھی انسانی حقوق کے اعلامیے کے پس پردہ ایک اہم عنصر تھا۔ اس وقت ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں کے کئی ممالک اب بھی یورپی طاقتوں کے قبضے میں تھے۔ مقبوضہ ممالک کے لوگوں پر سیاسی، معاشی اور سماجی ظلم جاری تھا۔ آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں اور عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی جنم لے رہی تھی۔ نوآبادیاتی طاقتوں کے ظلم اور عوام کی بے بسی نے یہ حقیقت آشکار کی کہ جب تک انسان کے بنیادی حقوق کا عالمی طور پر اعتراف نہ ہو، کمزور اقوام مضبوط اقوام کے رحم و کرم پر رہیں گی۔ اس لیے آزادی، برابری اور انسانی وقار کو عالمی سطح پر بنیادی اصولوں کے طور پر تسلیم کرنا ضروری تھا۔ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں فاشزم، نسل پرستی، مذہبی تعصب اور افراطیت نے دنیا کو جس دلدل میں دھکیلا، اس سے نکلنے کے لیے ایک مشترکہ اخلاقی منشور کی ضرورت تھی۔ انسانی حقوق کا اعلامیہ اسی اخلاقی منشور کا عملی اظہار تھا۔ یہ دستاویز 10 دسمبر 1948 کو جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی اور 48 ممالک نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ صرف آٹھ ممالک نے اپنی سیاسی وجوہات کی بنا پر غیر حاضر رہنے یا رائے شماری میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ پوری دنیا نے اسے اخلاقی اعتبار سے تسلیم کر لیا۔اس اعلامیے نے پہلی بار انسان کو بطور انسان، بغیر کسی قوم، مذہب، نسل یا طبقے کے امتیاز کے، برابر حقوق کا حامل قرار دیا۔ اس میں حقِ زندگی، حقِ آزادی، حقِ تعلیم، حقِ انصاف، حقِ مذہب، حقِ روزگار، حقِ تحریر و تقریر، حقِ اجتماع، حقِ تحفظِ خاندان اور معاشرتی و معاشی حقوق جیسے اصول شامل کیے گئے۔ یہ وہ حقوق تھے جو جنگ کے دوران سب سے زیادہ پامال ہوئے تھے، اور جن کی بحالی انسانیت کی بقا کے لیے ضروری سمجھی گئی۔ اس اعلامیے کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ اس نے حقوق کی فہرست مرتب کی، بلکہ اس میں یہ روح بھی شامل تھی کہ ہر انسان کی عزت اور وقار مقدس ہے، اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو چھین نہیں سکتی۔ یہ ایک اخلاقی اعلان تھا جس کی بنیاد پر بعد میں عالمی قوانین، علاقائی معاہدے اور ملکی آئین تشکیل دیے گئے۔ آج یورپی انسانی حقوق کنونشن، بین الاقوامی شہری و سیاسی حقوق کا معاہدہ، معاشی و سماجی حقوق کا عہدنامہ اور بچوں، عورتوں، اقلیتوں اور پناہ گزینوں کے حقوق سے متعلق عالمی قوانین اسی ایک اعلامیے سے نکلنے والی روشنی کے عملی مظاہر ہیں۔ 1948 کا اعلامیہ محض جنگ کا ردِ عمل نہیں تھا بلکہ ایک نئی دنیا بنانے کا نظریاتی خواب بھی تھا۔ ایک ایسی دنیا جہاں ریاستیں اپنے شہریوں کی مالک نہیں بلکہ خدمت گزار ہوں، جہاں قانون طاقتور کا نہیں بلکہ انصاف کا ہو، جہاں نفرت کی جگہ احترام اور جنگ کی جگہ امن ہو ۔ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اسی امید، اسی خواب اور اسی وژن کا بنیادی سنگِ میل ہے۔
آج، جب دنیا ایک بار پھر جنگوں، عدمِ برداشت، سیاسی انتہاپسندی، پناہ گزین بحران اور طاقت کی کشمکش سے دوچار ہے، تو 1948 کے اس اعلامیے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ یہ دستاویز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کی حفاظت کیلئےعالمی اصولوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ انسان کے وقار کا وہ چراغ ہے جو وقت کے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتا رہے گا اور انسانیت کو ظلم، جنگ اور ناانصافی کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونے کی تحریک دیتا رہے گا۔ یوں 1948 کا انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ صرف ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ انسان کا انسان سے کیا ہوا عالمی وعدہ ہے کہ ظلم دوبارہ نہ دہرایا جائے، اور ہر انسان کو عزت، آزادی اور انصاف ملےخواہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ رہتا ہو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر دوسری عالمی جنگ کی ہول ناک تباہ کاریاں پیش نہ آتیں تو شاید اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو حقوقِ انسانی کی تدوین کی فوری ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ مگر جنگ عظیم کی بے پناہ بربادی نے دنیا کی آنکھیں کھول دیں اور انسانیت کو انسانی جان کی حرمت و عظمت کا خیال آیا۔ بقولِ شاعر،
چل دیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومن
جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا
کے مصداق، جدید دنیا کی اقوام کو بھی اچانک یہ احساس ہوا کہ انسان کی زندگی، اس کے وقار اور اس کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے بغیر دنیا کا امن اور تمدن قائم نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ یہی احساس حقوقِ انسانی کے عالمی منشور کی بنیاد بنا۔
اسلام نے انسانی حقوق کا جو تصور پیش کیا ہے وہ اپنی جامعیت، فطرت سے مطابقت اور آفاقیت کی بنا پر ہر دور کے انسانی حقوق کے منشور سے بلند اور ہمہ گیر حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام نے فرد کی حرمت، جان و مال کے تحفظ، اظہارِ رائے کی آزادی، عدل، مساوات، مذہبی آزادی، معاشی انصاف، عورتوں، بچوں، کمزوروں اور اقلیتوں کے حقوق یہ سب اصول اُس وقت واضح کر دیے تھے جب دنیا میں انسانی وقار کا کوئی منظم قانون موجود نہ تھا۔ اس کے برعکس 1948 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والا انسانی حقوق کا عالمی منشور ایک تاریخی پیش رفت ضرور تھا، مگر اپنی نوعیت میں ایک سیاسی، عالمی اتفاقِ رائے کا نتیجہ تھا، جو وقت و حالات کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسلام کے حقوق کی بنیاد وحی، اخلاقی اصولوں اور الٰہی ہدایات پر ہے، اس لیے وہ غیر متبدّل، جامع اور ہر طبقے کے لیے یکساں کارآمد ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا منشور زیادہ تر قانونی اور ریاستی سطح کے حقوق بیان کرتا ہے، جبکہ اسلام انسانی حقوق کو صرف قانون تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انہیں اخلاقی فریضہ، سماجی ذمہ داری اور روحانی قدروں کا حصہ بناتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام میں پڑوسی کے حقوق، یتیموں کا خیال، کمزوروں کی حمایت، معاشرتی ہمدردی، اور انسانی مساوات کو عبادت کے درجے تک بلند کیا گیا ہے۔ اس طرح اسلامی حقوق صرف فرد کی آزادی نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور خیر کے فروغ کا مکمل نظام پیش کرتے ہیں۔مزید یہ کہ اسلامی تعلیمات میں حقوق کی پابندی کسی ریاستی قانون کے خوف سے نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ اور جواب دہی کے احساس سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی عنصر حقوق کی حفاظت کو زیادہ مضبوط اور مؤثر بناتا ہے۔ لہٰذا 1948 کا عالمی منشور اگرچہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر اسلام کے بتائے ہوئے حقوق اپنی وسعت، پائیداری اور انسان دوستی میں اس پر واضح طور پر حاوی اور کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔ اسلام نے جو حقوقِ انسانی عطا کیے ہیں، ان کا کوئی نعم البدل نہیں، کیونکہ یہ حقوق محض انسانی تجربات یا وقتی ضرورتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی طرف سے نازل کردہ عدل، رحمت اور حکمت پر مبنی ہیں۔ اسلام انسان کی حرمت، مساوات، آزادی، انصاف، جان و مال کے تحفظ، عزتِ نفس اور سماجی بھلائی جیسے بنیادی اصولوں کو آفاقی اور ابدی حیثیت دیتا ہے۔ ان حقوق کی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف نظری نہیں بلکہ عملی نظامِ زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح اور فلاح کو یقینی بناتے ہیں۔