پہلی جماعت کے نتائج کا اعلان ؛ ٹاپرس کی فہرست جاری ؛ نئی بحث چھیڑ دی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو؛۔ریاست کرناٹک کے ایک پرائمری اسکول کی وائرل مارک شیٹ نے تعلیمی نظام پر شدید تنقید کی لہر پیدا کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس رزلٹ چارٹ کی وائرل ہونے کے بعد والدین، اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے کم عمر کے بچوں پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ کی سخت مذمت کی ہے۔نندنا پرائمری اسکول کا تعلیمی سال 2025-26 کا دوسرا سمسٹر رزلٹ سامنے آیا ہے جس میں پہلی اور دوسری جماعت کے طلبہ کے غیر معمولی نمبرات نے بحث چھیڑ دی ہے۔ اس رزلٹ شیٹ کے مطابق ایس یگیہ سوریہ ایتال اور خوشیکا وی نے 200 میں سے 200 مکمل نمبرات حاصل کیے جبکہ کئی دیگر بچوں نے 197 سے 199 کے درمیان اسکور کیے۔ یہ چارٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا تو لوگوں نے اسے بچوں کی ذہانت کی بجائے تعلیمی نظام کی ناکامی اور بچوں پر غیر ضروری دباؤ کی مثال قرار دیا۔ بڑی تعداد میں صارفین نے کہا کہ پہلی اور دوسری جماعت جیسے نازک مراحل میں بچوں کو رینک، مقابلہ بازی اور سو فیصد نمبروں کی دوڑ میں ڈالنا ان کے بچپن کا قتل ہے۔بہت سے لوگوں نے لکھا کہ اس عمر کے بچوں کو کھیلنے، تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور آزادانہ طور پر بڑھنے کی بجائے صرف کتابوں اور امتحانات کے بوجھ تلے دبانا نفسیاتی طور پر خطرناک ہے۔ ایک صارف نے کہا، بچے اب سکول نہیں، دباؤ کی فیکٹری بن چکے ہیں۔ ان کا بچپن چھین لیا جا رہا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان پورے معاشرے کی غلط سوچ کو ظاہر کرتا ہے جہاں والدین اور اسکول بچوں کو صرف مشین بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اتنی کم عمر میں سخت مسابقت بچوں میں اضطراب، ڈپریشن اور عدم اعتماد پیدا کر رہی ہے۔ ماہرین تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کا دباؤ بچوں کی قدرتی ذہنی نشوونما کو روک رہا ہے اور ان کی طویل مدتی نفسیاتی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔بہت سے مبصرین نے اسے والدین کی غیر ضروری توقعات اور اسکولوں کی کاروباری ذہنیت کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول اب تعلیم دینے کی بجائے رزلٹ بنانے والے کارخانے بنتے جا رہے ہیں جو بچوں کی خوشی اور تخلیقی صلاحیتوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔اس بحث کے دوران لوگوں نے نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کا حوالہ دیا جس میں کم عمر کے بچوں کے لیے کھیل پر مبنی تعلیم، دباؤ سے پاک ماحول اور جامع نشوونما پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو آنے والا نسل ذہنی طور پر کمزور اور تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہو کر سامنے آئے گی۔ سوشل میڈیا پر یہ سوال بار بار اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم بچوں کو صرف نمبروں کا غلام بنا کر ان کا مستقبل محفوظ کر رہے ہیں یا ان کے بچپن کو برباد کر رہے ہیں؟۔یہ واقعہ ایک بار پھر تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے