از؛۔نقاش نائطی +919448000010
زمانہ تلمیذی کلیہ ابتدائی ہمارے خالہ زاد بھائی سیف اللہ شاہ بندری مرحوم اور صبغت اللہ شاہ بندری مرحوم جو ان ایام ممبئی میں مصروف معاش تھے, انہوں نے سب سے پہلے نقش نوائط پندرہ روزہ اخبار کے کچھ شمارے ہمارے ہاتھ میں لا دئیے, اسے گھر گھر تقسیم کرتے ہوئے, سالانہ خریدار لوگوں کو راغب کرنے کی خدمات پر ہمیں معمور کیا ہوا تھا اور یوں شروع دن ہی سے نقش نوائط سے ہمارا تعلق خاص شروع ہوا تھا۔ویسے تو ہم اسکول ایام ہی سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھ , اس وقت کے مشہور ماہنامہ نور رامپور میں چھپنے پھیجتے تھے لیکن ہمارے خود کے لکھی کہانیاں بہت ہی کم چھپ پاتی تھیں جب بھی نور میں ایک آدھ مرتبہ کچھ ہمارے نام سے چھپتا تو وہ دن ہی نہیں پورا مہینہ ہمارے لئے عید سے کم نہ ہوتا تھا۔ نور ڈائجسٹ صدا ہمارے پاس ہوا کرتا تھا اس وقت کے ہمارے ساتھ پڑھتے ضیاءلدین دامودی صدا طباعت معاملے میں ہم سے کچھ آگے نکل جاتے تھے۔ 15 اپریل 1976 بمطابق ١٤ ربیع الثانی ۱۳۹٦ ہمارے لئے اس لحاظ سے عید کا دن تھا کہ قوم ہی کا پندرہ روزہ نقش نوائط بمبئی سے طبع و توزیع ہورہا تھا۔ہماری لکھی کاوشات طبع ہوئے اپنوں تک پہنچنے کی ایک امید جاگی تھی ۔اسکول چھٹیوں میں ہم اپنی ہمشیرہ کے یہاں بمبئی پہنچے ہوئے تھے۔ سر شام سے رات گئے تک نقش نوائط آفس ہی میں ہمارا وقت کٹنے لگا تھا۔ نقش نوائط کے ایڈیٹر مرحون عبدالرحیم ارشاد اور مرحوم محمد علی قمر اردو ادب سے جڑے ہوئے قلمکار شخصیات تھیں، انہی ایام مرحوم زاہد سی اے بھٹکلی سے بھی ہماری اچھی خاصی دوستی ہوچکی تھی عبدالرحیم ارشاد میں اخبار نویسی کا بڑا فن تھا ان ایام روزنامہ انقلاب کے ساتھ نکلنے والے مڈ ڈے شام کے اخبار جب بھی خرید ساتھ لئے نقش دفتر پہنچتے تو مڈ ڈے اخبار میں کون کون سے ھیڈ لائیں چھپی ہیں اخبار دیکھے بنا ہی بتادیتے تھے۔ جب ہم ان سے کہتے کہ آپ نے کسی اور کے ہاتھ آج کا اخبار دیکھ لیا ہوگا تو کہتے کل صبح آنا شام کے مڈ ڈے میں کون سی ھیڈلائین ہوگی یہ ہم بتائیں گے۔ اور وہ واقعتا” وہ آنے والے اخبار کی ھیڈ لائیں بتایا کرتے تھے۔ ہم ان کی اخبار نویسی مہارت سے اتنے زیادہ متاثر ہوئے تھے کہ زمانہ تلمیذ کلیہ انجمن کالج, انگلش ھیڈ اف ڈپارٹمنٹ پروفیسر مولانا رشید کوثر فاروقی اصلاحی علیہ الرحمہ کے درس قران میں بیٹھتے بیٹھتے, انکے ‘الشبان المسلموں’ تحریک کے رکن بن چکے تھے اور ان ایام ہماری کچھ دوسٹ احباب قاضیہ طیب ساکن امریکہ سلطان خلیفہ وغیرھم نے بھٹکل سے دعوتی انگرئزی ماہنامہ شروعات کا ارادہ کیا تھا تب غالبا” 1978 یا 79 میں خصوصی طور بمبئی جاکر عبدالرحیم ارشاد سے ملک کر ان کے سامنے اپنا دعوتی انگرئزی جریدہ نکالنے کا ارادہ رکھے, انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی تھیں کہ دفترنقش نوائط کو بھٹکل منتقل کرلیں اس سے ہم اپنے انگرئزی دعوتی ماہنامہ بھی انکی نگرانی میں آسانی سے نکال سکیں گے۔ لیکن اس وقت وہ نقش نوائط دفتر بھٹکل منتقل کرنے پر راضی نہ ہوئے,البتہ کچھ سالوں بعد وہ خود بمبئی سے بھٹکل نقش آفس منتقل کر وطن واپس آگئے تھے۔
زمانہ تلمیذی کلیہ کالج گیدرنگ کے ایام نقش نوائط ہی سے جڑے عبداللہ رفیق مرحوم سے ملاقاتیں ہوئیں انہوں نے دوبئی چو وھریت ڈرامہ کا تخیل ہمارے سامنے پیش کیا , انہی دنوں ہمارے ایک ہمعصر طالب علم ایکری نعیم شبر کے ساتھ رائتاچو پسولو ڈرامہ لکھے اسے اسٹیج کرنے کی تیاریوں میں مشغول تھے۔ یوں اسی سال دو نائطی ڈرامے دوبئی چو وھریت اور رائتاچو پسولو ترتیب دئیے اچھے انداز اسٹیج کرنے ہماری ہمت افزائی ہوئی۔ چونکہ ہم نقش نوائط کے ان ایام بڑے معروف طنز و مزاح گڑ گڑی میران کالم بڑے شوق سے پڑھتے تھے اس لئے "گڑگڑی میران شیؤنو پللو” عنوان سے ڈرامہ لکھنا شروع کیا چونکہ وہ گڑگڑی میران کالم نقش نوائط والوں کا تھا اس لئے اسکول چھٹیوں میں جب بمبئی جانا ہوا تو نقش نوائط آفس گئے ان سے اپنے گڑگڑی میران ڈامہ لکھنے کی اجازت چاہی۔ انہوں نے نہ صرف ہمیں گڑگڑی میران ڈرامہ لکھنے کی اجازت بخشی بالکہ ہماری بہت ہمت افزائی کئے, گڑگڑی میراں کالم بھی لکھنے کو کہا۔ یہاں تک کہ مالک نقش نوائط محترم عبدالعلیم قاسمی نے خود بنفس نفیس گڑگڑی میران ڈرامہ اسٹیج پر ہوتے دیکھنے کی بات بھی کہی اور ان ایام انہوں نے شب کی تاریکیوں میں خود آئی اے یو ہائی اسکول گراؤنڈ میں آکر شب کے آخری پہر گڑگڑی میران ڈرامہ کو بھی دیکھا۔ عبدالرحیم ارشاد و محمد علی قمر سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ محمد علی قمر کے قطعات و ایکاگے سیانو اورعبدالرحیم ارشاد کا اداریہ نقش, انکی دل چھودینے والی نائطی نظمیں رہ رہ کے انکی یاد دلاتی رہتی ہیں۔ان کے نقش نوائط والا وہ اداریہ "کسکٹ” روزگار پر رہے ہمارے اپنے لوگوں کےریٹائرمنٹ بعد والی بھٹکل کی زندگی کو کسکٹ دھرلو جیسے الفاظ میں خوبصورت انداز نت نئے نائطی الفاظ میں پروئے اردو ادب کی چاشنی کو نائطی زبان میں ڈھالے,نائطی ادب کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کا خوب تر موقع دیا تھا۔ کسکٹ غالبا” ارشاد صاحب بیمار پڑے صاحب فراش حیثیت لکھا اداریہ تھا جسے آج بھی پڑھتے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔ خصوصا” اس وقت کے بھٹکل معاشرتی حالات پر محمد علی قمر صاحب کے طنز و مزاح سے منور وہ الفاظ و جملے ہمیں صدا یاد رہ گئے جب بھٹکل کی معاشرتی باگھ ڈوڑ سنبھالتے تیں بڑے چہرے,یس ایم یحییٰ محتشم عبدالغنی اور ڈی ھیج شبر ( اللہ غریق رحمت کرے کل مرحومین کو) میں سیاسی دراڑ پیدا ہوئے یحیی صاحب کو بھٹکل اسمبلی ٹکٹ محروم کئے جاتے پس منظر میں, ایک شب چوک بازارمجلس اصلاح و تنظیم مجلس مشاورت کے مجلس عام میں,کھچا کھچ بھرےتنظیم ھال میں احتجاجا” ڈی ھیچ شبر صاحب کو آزاد امیدوار انتخاب لڑوانے کا فیصلہ بالاتفاق لئے جاتے تناظر میں, اچانک ایک آدھ گھنٹہ بعد عبدالغنی صاحب کی رہائش گاہ منعقد غیر رسمی نشست میں ڈی ھیح شبر کی جگہ قاضیہ مزمل کی موجودگی میں, اچانک بالاتفاق "قومی” آزاد امیدوار کے بجائے شمبھو گوڈا کو آزاد امیدوار انتخاب لڑوانے کا ذاتی فیصلہ جب لیا جاتا ہے تب مرحوم محمد علی قمر صاحب نے آپسی تبادلہ خیال دوران برجستہ کہا جملہ, اس واقعہ پر پینتالیس سال گرنے کے باوجود ہم سے بھلایا نہ گیا ہے,اس وقت مسجد کے باہر کھڑے کھڑے تبصراتی تاثرات پیش کرتے کرتے مرحوم محمد علی قمر نے کہا تھا”بھٹکلی معاشرے پر کافی عرصہ سے جو غشی(غ ش ى) طاری تھی اچانک شب کی تنظیم نشست, شبر کو لیڈر بناتے بناتے, قوم پر طاری غشی (غ ش ى), غمی (غ م ی) میں تبدیل ہوچکی ہے اب دیکھنا یہ ہے, قوم پر طاری ہوئی یہ "غمی” کا ماحول کب تک قوم کو سیاسی یتیمی میں مبتلا کئے رکھتا ہے”۔ اور ان ایام 45 سال قبل بھی وہی ہوا تھا جو فی زمانہ سرمایہ دارانہ طبقہ شرفاء و زرداران اپنے ذاتی فیصلوں کو,قومی فیصلے کی صورت بڑی ہی چالاکی سے قوم پر نافذ کرنے کامیاب رہتے ہیں۔ یوپی کے غیر معروف شاعر مظفر بزمی کے مشہور شعر”یوں ظلم بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے” (شرفاء و زرداران کے لمحوں میں لئے گئے قوم پر نافذ کئے گئے فیصلوں کے تناظر میں) لمحوں نےخطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی ہے”
اس وقت مجلس،اصلاح و تنظیم کے عوامی بالاتفاق فیصلے کو بالائے طاق رکھے قوم ہی کے فرزند ڈی ھیچ شبر صاحب مرحوم کو انتخاب لڑوائے دوسری لائن کی لیڈر شپ تیار کی جاسکتی تھی جسے اس وقت کے زرداران و شرفاء نے, اپنی اناء پرستی کا مسئلہ بنائے, قوم کو نہ صرف دوسری لائن کی لیڈرشپ ہی سے محروم کردیا تھا بالکہ ان کی وقتی لغزشوں سے سابقہ پچاس سالوں سے, قوم کو سیاسی یتیم رکھ چھوڑا تھا۔
ابھی دس بارہ سال قبل اپنوں ہی کے خادم قوم کو ایک مرتبہ انتخاب لڑنے موقعہ بھلے ہی دیا گیا تھا لیکن جس طرح شرفاء و زرداران اور انکے مقامی گرگوں نے, ان کی جیت کے لئے جس باہم اتفاق و یگانت کو درشانہ مطلوب تھا پوری طرح اتفاق سےنہ لڑنے کی وجہ کچھ ہزار ووٹوں سے قومی امیدوار کو شکست دیکھنی پڑی تھی۔ اور ایک ہی ہار سے قوم کو مایوس کرتے, دشمن مسلم اغیار امیدوار کے حق میں قوم کو مائل کرنے کے ہنر سے شرفاء زرداران بڑے ماہر نظر آتے ہیں جبکہ مسلسل دو مرتبہ اندرا گاندھی کے مقابلے انتخاب لڑے مسلسل ہارنے کے باوجود, بعد ایمرجنسی تیسری مرتبہ اندرا گاندھی کے خلاف انتخاب لڑے, کانسی رام عالمی سطح کی لیڈر اندرا گاندھی کو شکست فاش دئیے اپنا ایک اچھوتا مقام بنائے, آپنی دلت قوم کو سراٹھاکر جیتنے لائق بہوجن سماج پارٹی بنا چھوڑ جانے کامیاب ہوئے تھے۔ عمومی طور قوم ہی کے شرفاء و زرداران قومی امیدوار کے مقابلہ ہزار حیلے بہانوں سے میانہ رؤ یا معتدل معاشرت سے کسی اپنے کو, اپنے لئے لیڈر کے طور منتخب کرنے کے بجائے اغیار کی ثناءخوانی کو فوقیت دیتے پائے جاتے ہیں۔ شاید اسی لئے عالمی سطح اپنی خاص پہنچان رکھنے والی یہ قوم اہل نائطہ سابقہ پچاس سالوں بعد بھی, اپنی قوم کو ایک لائق سیاسی امیدوار دینے میں کامیاب نہیں رہی ہے۔
اسی کے دہے سے پہلے زرداران و شرفاء کی طرف سے قوم کو دکھائے گئے بہت بڑے خواب نرسنگ ہوم اور اس پر خلیج کی وادیوں میں کی گئی چندہ وصولیابی مہم بعد, ھند کے کبار علماء وشیوخ کی موجودگی میں, بڑے ہی طمطراق سے نرسنگ ہوم کی سنگ بنیاد رکھے جانے اور بیسیوں کنکریٹ کھمبوں پر مشتمل پہلی منزل تک عمارت تعمیر کئے جاتے پس منظر میں بھی, دور دورتک نرسنگ ہوم کا قوم کو دکھایا گیا خواب پورا نہ ہوتے پس منظر میں, ہم چند نقاد قوم, بے کسوں نے, قوم کی شفایابی ضروریات کے پیشن نظر اپنے طور 1983جو شفا ہاسپٹل قائم کئے قوم و وطن میں نیک نامی حاصل کرنے کوشش کی تھی۔لیکن افسوس صدافسوس جس عظیم قصد کے ساتھ قومی شفایابی کے لئے شفا نرسنگ ہوم کو شروع کیا گیا تھا قومی زرداران و شرفاء کی طرف سے خاطر خواہ تعاون نہ رہنے کی وجہ ہی سے, اپنے سلور جوبلی سنگ میل حصول قبل ہی, اپنے قومی شفایابی خواب کو ادھورا چھوڑے شفا نرسنگ ہوم جو بند ہوگیا تھا گو اب اس میں کپرا بنک,روٹی بنک اور بک بینک جیسے عوامی فلاحی کام عالم دین ہی کی سرپرستی میں چل رہے ہیں لیکن 1983 اس وقت کے کرناٹک کے مشہور سیاسی شخصیت عزیز سیٹھ اور قومی پہلے سند یافتہ ڈاکٹر سیداحمد برماور علیہ الرحمہ ہی کے ہاتھوں بڑے ہی شان دار انداز افتتاح پزیر ہوئی شفا نرسنگ ہوم عمارت, بڑی ہی بےکسی کے ساتھ قومی جذبہ اتحاد یا انکے ٹانگ کھینچنے کے انداز کو بڑی حسرت سے تکتے پائی جاتی ہے جب سے خلیج کونسل کا وجود عمل میں لایا گیا ہے, اس وقت ان پینتیس سالوں سے شرفاء و زرداران کا قوم کو مکرر دکھایا گیا اچھے قومی ہاسپٹل اور ہمہ وقت ہوتے رہتے حاثاث پس منظر میں ایک معیاری ٹروما سینٹر قیام کا خواب کچھ شرفاء ہی کی طرف سے شروع کئےگئے زندگی کی حفاظت کرتے تجارتی طرز شفاخانہ کی صورت, سابقہ تین دہے قبل سے قوم کو دکھائے گئے معیاری قومی ہاسپیٹل و ٹروما سینٹر خواب شرمندہ تعبیر نہ ہونے کی گویا پیشین گوئی کرتا محسوس ہورہا ہے۔ فی زمانہ ہم مجبور و مفلس انسانون کی اس انگرئزی ادویات دوائی مافیا لوٹ کھسوٹ کرتے پس منظر میں اور ہم اپنی انانیت کے چلتے حکومتی شفاخانوں کے استعمال ماورائیت رجحان کے چلتے,بھارت کےغریب ترین صوبے بہار کے ایک ٹیوشن ٹیچر خان سر کی کوششوں کے چلتے اعلی سے اعلی تمام تر طبی سہولیات کے ساتھ نہ صرف انتہائی رعایتی قیمت بالکہ یہاں تک کے بالکل مفت ہی کی طرح پرائیویٹ بڑے سے بڑے ہاسپیٹل جیسا پہلا ہاسپیٹل بہار میں کھولتے ہوئے بالکل ویسے ہی مزید پانچ رعایتی قیمت والے ہاسپیٹل کھولنے کے خان سر اعلان نے,عالمی سطح اپنی تجارت کے لئے مشہور قوم اہل نائطہ میں, کئی کئی ہزار کروڑ کےمالکان شرفاء و زرداران کی طرف سے,ایسے فری نہ صحیح رعایتی ہاسپیٹل یا شفاخانہ تک نہ کھول سکنے پر,تاسف کرنے لائق بھی ہمیں نہیں چھوڑا ہے۔ قوم پر اپنی زرداری کا رعب جھاڑتے قومی فیصلے اپنی مناسبت سے موڑتے توڑتے شرفاء و زرداران نے, ہم منطقہ شرقیہ کے کچھ نوجوانوں کیطرف سے شروع کئے گئے تقریبا” مفت چلتے اور روزانہ کی بنیاد پر صبح و شام سو مریض, مہینے کے چھبیس دن والے ڈھائی ہزار اور سال بھرکے تیس ہزار مریضوں سے فقط دس روپئیےلئے انہئں شفایاب کرتے رابطہ کلینک کو دس بیس سال ہی میں قوم کے میڈیکل مافیا کے ہاتھوں لوٹے جانے والے کروڑوں روپیہ کی بچت کرتے, رابطہ شفا خانہ کو بھی اپنوں کو نوازنے میں بند کردیا گیا ہے۔ صدقے جاواں جب تک یہ رابطہ کلینک قوم کے ہی ڈاکٹر ضرار کی ذمہ داری میں چلتی تھی بھلے انکا ہزاروں کا نقصان سالانہ ہوتا تھا لیکن رابطہ کلینک نہایت اطمینان سے چل رہی تھی۔
رابطہ کلینک جیسے کم از کم ایک دو ہی نہیں بیک وقت کئی شفاخانہ بھی معمولی ڈاکٹر کو ساتھ لئے کھولے جائیں تو, قوم و وطن کے کروڑوں کی سالانہ بچت فقط میڈیکل شفایابی ہی سے بچائی جاسکتی ہے۔ ہماری جماعتوں یا رابطہ آفس کی نگرانی میں ایسے تقریبا” فری شفاخانے اب بھی کھولے جائیں تو اس سے نہ صرف قومی و غیر قومی غرباء مساکین کے کروڑوں خرچ ہونے والے صرفہ سے قوم کو نجات دلائی جا سکتی ہے بالکہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی طرف امراض شفایابی مد میں خرچ کئے جانے والے بڑے صرفے کو, ان شفا خانون میں علاج معالجہ کے بعد ہی, شفایابی نہ ملنے والی شہادت بعد ہی,مزید علاج کے لئے منگلور بھیجے کئے گئے اخراجات پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
ان ایام ذمہ داران نقش نوائط کی اجازت سے ہم نے جب گڑگڑی میران نام سے ڈرامہ لکھے کالج اینول ڈےپر کامیاب انداز ڈرامہ اسٹیج کروایا تھا ان ایام ہماری ہی سرپرستی میں لکھےاور کامیاب انداز اسٹیج کئے گئے مختلف نائطی ڈرامے "گرگڑی میران پسؤلو زالو” , "سآٹو گلاکاٹو”, "ونتی پائیں”, "ونتی کان”, "رائیتاچو پسولو” "دوبئی چو وھریت” نائطی ادب اور نائطی تہذیب کے ان منٹ نقوش ہیں۔ فی زمانہ موجود سائبر میڈیا تفریحی اسباب مواقع غیر دستیابی اس دؤر میں, سال میں ایک دو ہونے والے اسکول و کالج گیدرنگ, پردہ دار بھٹکلی نساء تفریح طبع سامانی کے اکلوتا ذریعہ تھے اس لئے نساء کا جم غفیر صبح اذان تک ان تفریحی پروگرام کا اثاثہ ہوا کرتے تھے۔ الحمد للہ احقر کو انہی ایام زمانہ تلمیذی کلیہ نقش نوائط صفحات کے واسطے سے, اپنے بہت سارے تخیلات کو طنز و مزاح انداز سلسلہ وار قارئین نقش کے سامنے پیش کرنے کا موقع, ہمیں اس پچاس سالہ نقش نوائط کی واسطے سے ہمیں دستیاب رہا ہے۔ ان میں کچھ ایک "گڑگڑی میران چی دھوئے چے توڑگوڑ” اور "گڑگڑی میران انی گویا گری” بڑے مشہور ہوئے تھے اب نقش نوائط اس پچاس سالہ گولڈن جوبلی مجلے میں کم از کم پہلے نقش نوائط ہی میں طبع ہوئے یہ دو گڑگڑی میری طنز و مزاح مضامین دوبارہ طبع کئے نائطی ادب اس سائبر میڈیا وقت گزاری کرتی قوم اہل نائطہ کے اذہان میں تازہ دم کیا جائے تو قومی نونہالوں میں نوائط فہمی و پڑھنے کا شوق تو جاگے گا۔
١٤ ربیع الثانی ١٣٩٦ھجری سال سے ١٤ ربیع الثانی ۱٤٤۸ آج سے چار ساڑھے چار ماہ بعد عربی کیلنڈر تاریخ کے اعتبار سے نقش نوائط کی تاسیس عمر ٥٢ سال ہوچکے ہیں لیکن انگرئزی تاریخ اعتبار 15 اپریل 1976 سے 15 اپریل 2016 تک پورے 50 سال ہورہے ہیں ۔ فی زمانہ سائبر میڈیا واٹس آیپ و دیگر ذرائع سے, لحظوں میں اخبارات سورہ شمسی عالم کے کونے کونے تک پہنچتے پس منظر میں,جہاں بڑے بڑے اردو انگریزی و دیگر زبانوں کے روزنامہ پندرہ روزہ و ماہنامہ مجلات بند ہوتے پائے گئے ہیں ویسے قحط القراء اخبار پڑھنے والے ماورارئیت پس منظر میں, نائطی زبان وہ بھی مکمل زبان میں شمار نہ کئے جانے والی نائطہ زبان والے پندرہ روزہ اخبار نقش نوائط کا, اپنے 50 سالہ تاریخ تاسیس یعنی یوم گولڈن جوبلی منانا یقینا” ریکارڈ ساز معرکہ سے کم نہیں ہے اس کے لئے روز اول سے مالک نقش نوائط رہے المحترم عبدالعلیم قاسمی مدظلہ کی جتنی تعریف کی جائے یہ کم ہی ہے اس سمت ہم انکے دیندار ماحول میں تعلیم حاصل کئے انکے تجار بچوں کے بھی مشکور و ممنون ہیں جنہوں نے اس مہمیز کے لئے, اپنے والد بزرگوار کے شانہ بشانہ رہے ہیں اور اس مادی دنیا میں اپنا اپنا دیکھ والے تفکر میں بھی محترم مولوی اظہر برماور کے بھی ہم مشکور ہیں جو انہوں نے, حضرت مولانا عبدالعلیم قاسمی کے ساتھ کئی سالوں سےکھڑے پائے گئے ہیں ۔ کوئی بھی ریکارڈ ساز چیز کا قیام اتنا مشکل کام نہیں ہوتا بالکہ اسے لمبی مدت تک چلائے لے جانا بہت بڑا ٹاسک ہوتا ہے۔کسی بھی چیز کے لئے مستقلا” کتنے دنوں تک عوامی ساتھ رہتا ہےاس آگہی کےہوتے,محترم مولانا عبدالعلیم قاسمی نے اس نائطی ادب و ثقافت کر صرف اپنے دم پر نصف صدسال کامیابی سے چلا کے دکھایا ہے تو انکی آل میں کوئی نائطی ادب و تہذیب ہی کو جلا بخشنے کی نیت کے ساتھ, اس کو اگلے پچاس سال تک لئے چلنا اتنا مشکل امر نہ ہوگا۔ ہم امید کرتے ہیں ال مولوی عبدالعلیم قاسمی مدظہ اس عظیم کو اپنی ذمہ داری تصور کئے اسے آگے رواں دواں لئے چلیں گے ومالتوفیق الا باللہ
