رمضان کے چاند پر اختلاف اور امت کی وحدت

مضامین
تحریر؛۔ شمش الدین خان، داونگیرے
رمضان المبارک کا مہینہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے روحانی، اخلاقی اور اجتماعی تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دنیا بھر کے مسلمان روزہ، نماز، تلاوتِ قرآن اور صدقہ و خیرات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ رمضان کے آغاز اور اختتام یعنی چاند دیکھنے کے مسئلے پر مسلمان اکثر آپس میں منقسم نظر آتے ہیں۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے
اگر ایک امت چاند دیکھنے جیسے مذہبی معاملے میں متحد نہیں ہو سکتی، تو کیا وہ دنیاوی معاملات، مثلاً سیاسی اور سماجی امور میں متحد ہو سکے گی؟
⸻چاند دیکھنے کا مسئلہ
اسلامی مہینوں کا انحصار چاند کی رویت پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
"چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔”
اس کے باوجود مختلف وجوہات کی بنا پر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں، جیسے
•مقامی رویتِ ہلال یا عالمی رویتِ ہلال کا اختلاف
•فلکیاتی حسابات اور عینی شہادت کا فرق
•فقہی آراء میں تنوع
•مختلف تنظیموں اور جماعتوں کے الگ الگ فیصلے
نتیجتاً بعض شہروں میں ایک ہی محلے کے لوگ مختلف دنوں میں روزہ شروع کرتے ہیں اور عید مناتے ہیں۔ یہ منظر عام مسلمانوں کے دلوں میں تشویش اور کمزوری کا احساس پیدا کرتا ہے۔
⸻اتحاد کی اہمیت
اسلام میں اتحاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”
جب ہم ایک واضح اور اجتماعی عبادت کے معاملے میں یکجہتی پیدا نہیں کر پاتے، تو سیاسی نمائندگی، تعلیمی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف جیسے پیچیدہ معاملات میں اتحاد کیسے ممکن ہوگا؟
سیاسی اتحاد کے لیے اعتماد، مشاورت، نظم و ضبط اور اجتماعی سوچ ضروری ہوتی ہے۔ اگر ہم مذہبی معاملات میں ہی باہمی ہم آہنگی پیدا نہ کر سکیں تو دنیاوی معاملات میں اتفاق رائے اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
⸻اصل مسئلہ کیا ہے؟
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر اختلاف تفرقہ نہیں ہوتا۔ فقہی اختلافات اسلام کی علمی روایت کا حصہ رہے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کے زمانے میں بھی بعض مسائل میں اختلاف پایا جاتا تھا، لیکن دلوں میں محبت اور احترام قائم تھا۔
اصل مسئلہ اختلافِ رائے نہیں بلکہ دلوں کا بٹ جانا ہے۔ جب انا، تعصب اور ضد غالب آ جائیں تو معمولی اختلاف بھی بڑی تقسیم بن جاتا ہے۔
سیاسی اور سماجی انتشار کی وجوہات صرف چاند دیکھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومیت، مسلکی تعصبات، قیادت کا فقدان اور اجتماعی وژن کی کمی بھی ہیں۔
⸻آگے بڑھنے کا راستہ
اگر ہم اس مسئلے کو کمزوری کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھیں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں
•بااعتماد اور مشترکہ رویتِ ہلال کمیٹیاں قائم کی جائیں
•علماء اور ماہرینِ فلکیات کے درمیان تعاون بڑھایا جائے
•فقہی اختلافات کو برداشت اور احترام کے ساتھ قبول کیا جائے
•عوام میں شعور بیدار کیا جائے کہ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں
حقیقی اتحاد کا مطلب ہر معاملے میں یکسانیت نہیں، بلکہ مقصد اور دلوں کا ایک ہونا ہے۔
⸻نتیجہ
سوال یہ نہیں کہ چاند کے مسئلے میں اختلاف کیوں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اللہ کی رضا کے لیے اپنی انا کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں؟
اگر ہمارے دل متحد ہو جائیں، اگر ہم باہمی احترام اور مشاورت کو اپنائیں، تو نہ صرف رمضان بلکہ سیاسی اور سماجی میدانوں میں بھی امت مضبوط ہو سکتی ہے۔
رمضان ہمیں نفس کی اصلاح، صبر اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ آئیے اس مہینے کو اتحادِ امت کی بنیاد بنانے کی کوشش کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے