از؛۔نقاش نائطی۔ +966562677707

ترکی اسکول کےبچے استقبال رمضان کا جشن اپنے اسکولوں میں کچھ اس طرح سے مناتے ہوئے, دینی اقدار سے اپنی پوری وابستگی بتاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ دیکھ کر یورپ و امریکہ کے یہود و نصاری کو شرم سے ڈوب مرنا چاہئیے کہ انہوں نے تقریبا” 13 سو سالہ خلافت راشدہ سے خلافت عثمانیہ تک تقریبا” تین چوتھائی عالم انسانیت پر, وقوع پذیر اسلامی حکومت کے 1923 سکوت خلافت عثمانیہ استنبول ترکیہ بعد, دوبارہ اسلامی خلافت سر اٹھا نہ پائے, اس لئے خلافت عثمانیہ کے وارثوں کو مختلف یورپین ملکوں میں غلامانہ زندگی بسر کرنے مجبور کرتے ہوئے, ترکیہ سے اسلامی سلطنت کی آواز تک ابھر ہی نہ پائے,اسکے لئے ترکیہ پر انکے غلام پٹھواتارک والی جمہوری اسلام دشمن حکومت بٹھاتے ہوئے, عربی زبان ترکیہ میں ممنوع قرار دئیے, عربی میں قرآن پڑھنے اور آذان دینے تک کی جو پابندی عائد کی ہوئی تھی, اس سب کےباوجود ترک مسلمانوں میں اسلامی احیاء پسندی کی ایسی ہوائیں چلیں کہ پورے عالم اسلام میں اب ترکی مدارس کے طلبہ ہی ایسے, اسلامی اقدار بتاتے اور جتاتے پروگرام کرتے پائے جاتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر علامہ اقبال کا وہ معرکہ الآراء شعر گنگنانے کو دل کرتا ہے
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دباؤ گے
عالم کی سب سےبڑی سیکیولر جمہوریت میں, حکومتی اقتدار نشے میں دیش کی آبادی کے پانچویں حصے ہم 300 ملین مسلمانوں پر اسلامی احکام نمار قربانی وغیرھم سے, جس انداز دبایا جارہا ہے یہ ایک اعتبار اچھا ہی ہے, اس سے حضرت آدم و نوح علیہ السلام کے امتی زبرالاولین اورصہوف اولا والی آسمانی کتب مختلف وید گرنتھوں والی سناتن دھرمی (وحدانیت والی) قوم کے ماننے والے, اپنے رشی منی (پیغمبر) منو(حضرت نوح علیہ السلام ) اور ویت گرنتھوں میں ایشور کے پیشین گوئی کردہ ایشور کے آخری رشی منی (پیغمبر) کلکی اوتار ( آخری نبی) پر انکا اسلام لانا آسان ہوجائیگا اور رسول خاتم الانبیاء کے اشاروں کنایوں میں پیشینگوئی کردہ, آسمانی فیصلہ ایک دن کے دنیوی ایک ہزار سال برابر اور ایشور کیطرف سے نصف دن کی مہلت یعنی 500 سال کی مہلت کےساتھ اسلامی دیڑھ ہزار سال تک یعنی کم و بیش 2078 عیسوی کے آس پاس تک, زیادہ ترسناتن دھرمی ھندو قوم کے مسلمان ہوجاتے ہوئے, مہان بھارت میں ہم۔مسلمان کثرت میں ہوجاتے ہوئے, اس وقت کی مسلم حکومتی کالے جھنڈے بردار اسلامی فوج جو شام کی طرف جہاد کے لئے نکلے گی وہی دراصل پیشینگوئی رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کےمطابق غزوہ ھند کررہی ہوگی
ہم بھارتیہ مسلمانوں سے بس یہی درخواسٹ کرنا چاہیں گے وہ اپنے میں جہادی جذبات کو موجزن باقی رکھتے ہوئے, اپنے حقوق العباد نماز روزوں کے ساتھ اصلی دعوت خاتم الانبیاء? سچائی ایمان داری امانت داری وعدہ وفائی , بڑوں سے شفقت تو چھوٹوں سے پیار اور اپنے معاش سے منسلک رہتے ڈننڈی مار دھوکہ دہی سے بچتے ہوئے, اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہوئے,اپنے دین اسلام پر قائم دائم رہیں گے اور اہنے حسن اخلاق سے برادران وطن کو دین آسمانی سناتن دھرمی کی آثاث وحدانیت کی دعوت دیتے رہیں گے ۔ ہم آپ کے گھر کوئی چائینیز مہمان آتا ہے تو کیا ہم اسے اپنے گھر پکی تیز مرچ والی مصالحہ دار بھٹکل بریانی یا حیدرآباد برہانی کھلائیں گےیا انٹرنیٹ پر دیکھ یا کسی جانکار سے بنواکے لئےچوپ سوئی نوڈیولز اسکے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے پائے جائیں گے بالکل اسی طرح ہمارے پڑوسی یا دوست یا ہم سفر یا روزگار کے ساتھی کسی برادران وطن کو قال قالا رسول اللہ ﷺ یا ہمارے نبی نے یہ فرمایا ہے ایسے اسے دعوت دیتے پائے جائینگے یا ان سناتن دھرمی ھندوؤں کے پاس موجود انکے وید گرنتھ کا مطالعہ کئے وید گرنتھوں اور ویدوں میں اور قرآن و حدیث میں مشترک پائے گئے احکام خداوندی کو کھول کھول کے انکے سامنے پیش کرتے ہوئے, ہمارے اور انکے آسمانی دھرم کی یکسانیت ان پر واضح کرتے ہوئے,انہی کے ویدوں میں انکے ہی ایشور کے پیشین گوئی کئے, آخری زمانے میں اونٹوں والے صحراء میں امن و چین نام والی ماتا آمنہ کے پیٹ سے پیدا ہونے والے کلکی اوتار جس کا انتظار سناتن دھرمی ھندو زمانے سے کررہے ہیں, وہ تو چودہ سال قبل عرب صحراء میں آچکے ہیں۔ کچھ اسی طرح ہم اپنے اپنے طور کھلے ذہن والے سیکولر سناتن دھرمی برادران وطن کو دین اسلام کا پیغام دیتے رہینگے اور انشاءاللہ اپنی آخرت سنوارتے ہوئے ہزاروں سالہ آسمانی سناتن دھرمی (وحدانیت والے) بھارت کو صدا کے لئے امن و چین و آشتی والا گہوارہ بنانے کی پیہم کوشش کرتے پائے جائیں گے۔ یقین مانئے وہ دن دور نہیں ہم نہیں تو ہماری آنے والی نسل غزوہ ھند کی برکات سےفیض یاب ہوتی پائی جائے گی۔ انشاءاللہ وماالتوفیق الا باللہ
https://www.facebook.com/share/v/16zLLk6kJo/
