از؛۔- حفصہ بیگ
سایہ فگن تھے لا کھ شجر راہ زیست میں
پر تیرے جیسا کوئی یہاں، سائباں کہاں
(رضاء)
رات کے پچھلے پہر کی نیم جاں خاموشی میں احسن آنگن کے اُس کہنہ شجر کے نیچے بیٹھا تھا جس کی جڑوں میں اس کے بچپن کی ہنسی دفن تھی اور جس کے سائے میں اس کے ابا کی پیشانی سجدوں سے آشنا ہوا کرتی تھی..
چاندنی نے زمین پر چاندنی کی چادر چھاگئی تھی.. مگر اس کے دل کا آنگن اندھیروں کی دبیز تہوں میں لپٹا ہوا تھا..
ہوا نے آہستہ سے پتے ہلائے.. جیسے فضا نے کسی فراق رسیدہ دل کی آہ سن لی ہو..
احسن کی نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں کھو گئیں..
لب کپکپائے، اور دل کی اتھاہ گہرائی سے ایک ٹوٹی ہوئی صدا ابھری
جن کے باپ رخصت ہو جاتے ہیں اُن کے صحن میں ایک سایہ دار درخت ضرور ہونا چاہیے…
کیونکہ دھوپ جھلسانے لگتی ہے.. تو انسان کو کسی محفوظ سائے کی ضرورت پڑتی ہے..
کچھ آنسوں پلکوں سے ٹوٹ کر مٹی میں جذب ہو گئے..جیسے کسی نے دکھ کو زمین کے سپرد کر دیا ہو..
وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا مگر آواز میں صدیوں کی تھکن تھی..
میں نے ‘ماں’ کی جمع دیکھی ‘مائیں’ مل گئیں…
پھر ‘باپ’کی جمع تلاش کی.. مگر کوئی لفظ نہ ملا..
شاید اس لیے کہ باپ کی ہستی تقسیم نہیں ہوتی…
وہ ایک ہی ہوتا ہے اور جب وہ چلا جائے تو اس کا کمی پوری کائنات بھی دورنہیں کر سکتی..
ماں کے دامن سے کئی رشتے وابستہ ہو جاتے ہیں
مگر باپ…
وہ ایک ستون کی مانند ہوتا ہے..
جس کے گرنے سے پوری چھت لرز جاتی ہے۔
احسن کی یادوں کے دریچے کھل گئے..
ابا…
جو خود جلتے رہے تاکہ گھر میں روشنی باقی رہے..
جو اپنی خواہشوں کو دفن کر کے اولاد کے خوابوں کو سانس دیتے رہے..
جن کے ہاتھوں کی سختی میں محبت کی وہ نرمی تھی جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتی..
جو خود فاقہ کر لیتے، مگر بیٹے کی پلیٹ خالی نہ دیکھتے..
اور بدلے میں فقط ایک کامیاب مسکراہٹ کی تمنا رکھتے..
احسن نے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے..
آواز ٹوٹنے لگی
ابا…
جب زندگی کی دھوپ میں آپ کا سایہ نہ رہا
جب تھکے ہوئے سر کے لیے وہ مضبوط کندھا نہ رہا
جب ڈانٹ میں چھپی ہوئی دعائیں چھن گئیں
جب پشت پر رکھا ہوا وہ حوصلہ افزا ہاتھ ہمیشہ کے لیے اُٹھ گیا..
تو یقین مانیے، خوشی نے بھی میرے دروازے کا راستہ بھلا دیا..
اب کوئی نہیں کہتا…
‘بیٹا، گھبرانا نہیں، میں ہوں نا..
آنکھیں بند ہوتے ہی وہ خواب کی دھند میں اتر گیا..
وہی صحن، وہی شجر…
اور سامنے ابا کھڑے تھے..
چہرہ نور سے منور آنکھوں میں بے پنہاہ شفقت
احسن دیوانہ وار لپکا، ان کے قدموں میں بیٹھ گیا ہاتھ تھام لیا..
مگر لمس دھند میں تحلیل ہونے لگا..
ابا کی آواز فضا میں گھل گئی
غم کو اپنی تقدیر مت بنا لو…
میں تمہارے ساتھ ہوں.. بس تمہاری آنکھیں مجھے دیکھ نہیں سکتیں..
احسن چونک کر بیدار ہوا..
سینہ ہچکیوں سے لرز رہا تھا..
آنکھوں سے بہنے والے آنسو مٹی میں اس طرح جذب ہو رہے تھے جیسے زمین بھی اس کے دکھ میں شریک ہو..
درخت کے پتے ہلکی ہوا کے زور سے ہل رہے تھے..
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو خاموشی سے سینے سے لگائے کھڑا ہو..
احسن نے آسمان کی طرف دیکھا اور اس کی آواز میں کرب کا دریا موجزن تھا
باپ کے بغیر بیٹا یتیم نہیں ہوتا…
وہ ادھورا ہو جاتا ہے..
وہ ہنستا ضرور ہےمگر اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے..
وہ جیت بھی لے تو دل میں شکست کا احساس باقی رہتا ہے۔
باپ…
وہ دعا ہے جو سر پر سایہ بن کر رہتی ہے..
وہ سرمایہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں..
وہ سایہ دار شجر ہے..
جس کے کٹ جانے کے بعد زندگی کی دھوپ کبھی پہلے جیسی نہیں رہتی..
فضا میں ایک خاموش لرزش سی پھیلی..
چاندنی کچھ اور سفید ہو گئی..
اور ہوا نے جیسے سرگوشی کی..
”میں یہیں ہوں بیٹا…
تمہارے ہر آنسو کے ساتھ…
بس نظر نہیں آتا..
