چراغِ دل

مضامین

از؛۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا، ہبلی۔9902672038

سن ستر کی دہائی میں میٹرک امتحان کا خوف ایک ایسا ہمہ گیر فوبیا ہوا کرتا تھا جو طلبہ کی جان تک پر بن آتا تھا۔ آٹھویں جماعت ہی سے میٹرک کے امتحان کا تصور اعصاب پر اس طرح سوار رہتا جیسے کوئی مستقل عذاب ہو۔ دل میں ہمہ وقت ایک انجانا سا اضطراب، ذہن میں بے شمار وسوسے اور راتوں کی نیند کو چھین لینے والی تشویش بسی رہتی۔ اس زمانے میں نقل اور شارٹ کٹس کا تو دور دور تک کوئی تصور ہی نہ تھا، بلکہ محنت، تیاری اور قابلیت ہی کامیابی کا واحد ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ امتحان محض ایک تعلیمی مرحلہ نہیں بلکہ زندگی اور موت کا سوال بن کر سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔
جب میرا آٹھویں جماعت میں اضطراب کے عالم میں داخلہ ہوا تو مجھے حال سے زیادہ مستقبل کی فکر نے گھیر لیا تھا۔ دل میں ایک ہی سوال بار بار سر اٹھا رہا تھا کہ آخر کس طرح دسویں جماعت کی ناؤ کو کامیابی کے ساحل تک پہنچایا جائے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آنے والے کل کا بوجھ آج ہی میرے ناتواں کندھوں پر آن پڑا ہے اور لگتا یہ شعر
مکتب عشق کا دستور نرالہ دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
گویا مجھ پر ہی صادق آ تا ہو۔ہائی اسکول کے ایام کی بات ہے کہ جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو اسکول کی جانب سے حیدرآباد کی سیر و سیاحت کا پروگرام طے پایا۔ یہ خبر ہم سب کے لیے کسی عید سے کم نہ تھی۔ دل خوشی سے جھوم رہا تھا، آنکھیں نئے مناظر دیکھنے کے خواب بُن رہی تھیں، اور ہم تمام طلبہ اپنے محترم اساتذہ کے ساتھ ٹرین میں سوار ہو کر حیدرآباد کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ ٹھیک ایک دن پہلے اطلاع ملی کہ اسکول میں سبجیکٹ انسپکٹر تشریف لانے والے ہیں اور وہ نہ صرف اسکول کا معائنہ کریں گے بلکہ طلبہ سے سوالات بھی پوچھیں گے۔ یہ دن میرے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔ دل مسلسل دھڑک رہا تھا، ذہن میں عجیب سی گھبراہٹ تھی، اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ معائنہ خاص طور پر میرے ہی لیے رکھا گیا ہو۔ ادھر حیدرآباد کا خواب تھا، ادھر انسپکشن کا خوف ۔دل ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھا۔ دوسرے روز سبجیکٹ انسپکٹر حسبِ معمول تمام کلاسوں کا معائنہ کرتے ہوئے ہماری کلاس روم میں داخل ہوئے۔ اس وقت سائنس کے استاد بلیک بورڈ پر سبق سمجھا رہے تھے۔ انسپکٹر نے ایک سرسری مگر گہری نگاہ ہم سب طلبہ پر ڈالی، پھر اچانک مجھ سے ایک سوال پوچھ لیا۔ میں گھبرا گیا، زبان لڑکھڑا گئی اور میں نے غلط جواب دے دیا۔ بس پھر کیا تھا، پوری کلاس کے طلباء ہنس پڑے۔ وہ لمحہ میرے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔انسپکٹر نے وہی سوال میرے ایک اور ساتھی سے پوچھا، اس نے درست جواب دیا اور وہ آگے بڑھ گئے۔ مگر میرے دل و دماغ پر جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ کر چلے گئے ہوں۔ اس دن کلاس روم میں میری جگہ جیسے سکڑ کر رہ گئی تھی۔ دل چاہ رہا تھا زمین میں گڑ جاؤں۔ سوچتا رہا کہ کاش یہ معائنہ حیدرآباد سے واپسی کے بعد ہوتا، کم از کم سفر کی خوشی تو پوری طرح محسوس کر لیتا۔اب تو دل پر ایسا خنجر گرا تھا کہ زخم بہت گہرا تھا۔ چار دن حیدرآباد میں رہا،سالار جنگ میوزیم دیکھا، گولکنڈہ کا قلعہ دیکھا، برلا مندر گیا، نہ جانے کتنے مقامات کی سیر کی،مگر ان سب مناظر کے درمیان بھی وہ ایک غلط جواب مسلسل میرا منہ چڑا رہا تھا۔ جیسے کوئی ہتھوڑا بار بار میرے سر پر ضرب لگا رہا ہو۔ خوشی کے ہر لمحے میں وہ تلخ یاد کسی سائے کی طرح میرے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ پھر جب ذرا سا ذہن وہاں سے ہٹتا تو فوراً دسویں جماعت کا امتحان آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا۔ دل میں خوف پیدا ہوتا کہ اگر وہاں بھی ناکامی ہو گئی تو میرے لیے آخری راستہ کیا بچے گا؟ ایک معمولی سا غلط جواب میرے پورے حیدرآباد کے سفر کی چاشنی کو ختم کر گیاتھا، اور میٹرک میں ناکامی کا تصور اس سانحے کو کئی گنا بڑھا دیتا تھا۔ میں سوچتا رہا کہ اگر ایسا ہوا تو میں اس صدمے کو کس طرح برداشت کر پاؤں گا؟یوں حیدرآباد کے وہ چار دن جسمانی طور پر تو سیر و تفریح میں گزرے، مگر ذہنی طور پر وہ خوف، شرمندگی اور مستقبل کی فکر کی ایک طویل داستان بن کر رہ گئے۔ دراصل یہی وہ فکر تھی جو میرے اس پورے سفر کا اصل حاصل بن گئی۔ایک ایسی یاد جو آج بھی دل کے کسی گوشے میں چبھتی رہتی ہے۔ دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سال میں ڈھلتے چلے گئے۔ یوں وقت کی رفتار کا احساس ہی نہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دسویں جماعت کے سالانہ امتحان کا ٹائم ٹیبل نوٹس بورڈ پر آویزاں ہو گیا۔ اس ایک کاغذ کے ٹکڑے نے گویا پورے ماحول میں ایک انجانا سا سنّاٹا اور اضطراب پھیلا دیا۔ پھر امتحانات کا سلسلہ شروع ہوا اور ہفتہ بھر میں دسویں جماعت کے تمام طلبہ اپنے اپنے پرچوں سے فارغ ہو گئے۔ اس کے بعد نتیجے کے انتظار کا وہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ آیا جو بظاہر تو مختصر تھا، مگر دل پر یوں گزر رہا تھا جیسے صدیوں پر محیط ہو۔ ہر دن اعصاب پر ایک ان دیکھے بوجھ کی طرح چھایا رہتا۔ کبھی کوئی سوالیہ پرچہ ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاتا اور اپنی ہی نظر میں ہر سوال کے نمبر جوڑنے لگتا، خود کو تسلی دیتا کہ کم از کم سو میں سے پینتیس نمبر تو ضرور مل جائیں گے۔ کبھی امید غالب آ جاتی اور کبھی خدشات دل کو گھیر لیتے۔ پورا ڈیڑھ ماہ اسی کشمکش، اسی بے چینی اور اسی خود ساختہ حساب کتاب میں گزر گیا۔ بالآخر بقول شاعر؎
’’کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے‘‘
کے مصداق وہ دن بھی آن پہنچا جب نتیجہ ظاہر ہونا تھا۔ نتیجے سے ایک دن پہلے کی رات تو گویا آنکھوں سے کوسوں دور تھی؛ نہ نیند آتی تھی، نہ چین۔ عجیب وسوسے، طرح طرح کے خیالات اور دل کی دھڑکنوں کی تیز رفتار گنتی پتہ ہی نہ چلا رات کے کس پہر کب بے خبری میں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
صبحِ صادق کی ٹھنڈی اور خاموش فضا میں والدہ کی پُرسوز آواز کانوں سے ٹکرائی تو میں نیند کے بوجھ سے بیدار ہو کر اٹھ بیٹھا۔ سامنے والدہ کھڑی تھیں، جن کی نگاہوں میں ہمیشہ کی طرح محبت، شفقت اور فکر کی ایک ملی جلی کیفیت جھلک رہی تھی۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ آج میٹرک کے نتیجے کا دن ہے، اور میرا دل بے چینی، اضطراب اور انجانے خوف سے مسلسل دھڑک رہا تھا۔ نماز سے فارغ ہو کر جب میں ان کے قریب بیٹھا تو انہوں نے بڑے نرم، دلنشیں اور حوصلہ افزا لہجے میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا’’بیٹا! آج تمہارا رزلٹ ہے، میں دیکھ رہی ہوں کہ تم خاصے پریشان ہو، مگر یاد رکھو، اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ اس طرح کے امتحان زندگی میں بار بار آتے رہتے ہیں۔ یہ کوئی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ میٹرک کے امتحان میں پاس ہو جانا یا فیل ہو جانا انسان کی پوری زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا معیار نہیں بنتا۔ امتحانات کے نمبر نہ تو ہمیشہ کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں اور نہ ہی ناکامی کا فیصلہ کن اعلان۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر بے شمار صلاحیتیں، خوبیاں اور پوشیدہ خزانے رکھے ہیں، جن کی بدولت انسان ترقی کی منزل کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ اگر تم کامیاب ہو گئے تو شکر ادا کرنا، اور اگر ناکام ہو گئے تو سمجھنا کہ یہ بھی تمہاری کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔‘‘ والدہ کے یہ الفاظ میرے دل میں کسی مرہم کی طرح اترتے چلے گئے۔ دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا، اور ایک نئی ہمت، نیا حوصلہ اور نیا اعتماد اندر سے جنم لینے لگا۔ والدہ نے مختصر مگر نہایت جامع انداز میں زندگی کا فلسفہ سمو دیا، گویا چند لفظوں میں صدیوں کی دانائی رکھ دی ہو۔ پھر والدہ نے نرمی سے پوچھا کہ کیا والد صاحب بھی ساتھ اسکول چلیں؟ میں نے مودبانہ انداز میں انکار کر دیا، اب دل میں گھبراہٹ کی جگہ ایک عجیب سی مضبوطی آ چکی تھی۔ آخر میں والدہ نے یہ بھی تاکید کی کہ جو بھی نتیجہ ہو، سیدھے گھر واپس آ جانا، اِدھر اُدھر بھٹکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کی اس شفقت بھری کونسلنگ نے میرے دل سے ناکامی کا خوف اس طرح نکال دیا تھا کہ اب اگر میں امتحان میں فیل بھی ہو جاتا تو مجھے کسی قسم کی شرمندگی یا بے عزتی کا احساس نہ ہوتا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ آخر ایک امتحان میں ناکام ہو جانے سے کون سی زندگی ختم ہو جاتی ہے؟ فیل ہو کر بھی تو آدمی زندہ رہتا ہے، سانس لیتا ہے، سیکھتا ہے اور آگے بڑھنے کے نئے راستے تلاش کرتا ہے۔
دراصل والدہ کی اس پُرخلوص ہے اور دل سوز کونسلنگ کے پس منظر میں ایک ایسا واقعہ بھی کارفرما تھا جس کا ذکر انہوں نے ایک مرتبہ نہایت رنجیدہ لہجے میں مجھ سے کیا تھا، وہ بتایا کرتی تھیں کہ سن پچاس کے دہے میں ساتویں جماعت کے امتحان کو ’’ملکی امتحان کہا جاتا تھا، اور اس کی حیثیت و اہمیت اس قدر مسلم تھی کہ ساتویں پاس کرتے ہی پرائمری اسکول میں بطور ٹیچر تقرر کیا جاتا تھا۔ گویا یہ ایک ایسا سنگِ میل تھا جو طالب علم کی پوری زندگی کا رخ متعین کر دیتا تھا۔والدہ جب خود ساتویں جماعت کی طالبہ تھیں تو اسی جماعت میں اولڈ ہبلی کے ایک معروف وکیل کے صاحبزادے بھی ان کے ہم جماعت تھے۔ ذہین، باوقار اور خوش اخلاق لڑکا تھا، جس سے سبھی اساتذہ اور طلبہ کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر جب ساتویں جماعت کے نتائج کا اعلان ہوا تو تقدیر نے ایک ایسا المناک موڑ لیا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ وکیل صاحب کے فرزند امتحان میں ناکام ہو گئے۔ یہ ناکامی اس حساس دل کے لیے اتنی ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی کہ وہ شدید شرمندگی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر گھر میں ہی اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خودکشی کر بیٹھا۔ یہ سانحہ صرف ایک گھر کا غم نہیں تھا، بلکہ پورے ہبلی شہر کے لیے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ بن گیا تھا۔ کئی دنوں تک اس کی بازگشت لوگوں کے دلوں میں گونجتی رہی، محفلوں میں اسی کا تذکرہ ہوتا رہا، اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ شاید اسی اندیشے نے والدہ کو میرے معاملے میں حد درجہ محتاط اور فکرمند بنا دیا تھا۔ ان کے دل میں یہ خدشہ پل رہا ہوگا کہ کہیں امتحان میں ناکامی کی صورت میں مجھ سے بھی کوئی جذباتی یا غیر معمولی قدم سرزد نہ ہو جائے۔ اسی لیے انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا آیا والد صاحب بھی ساتھ میں اسکول چلیں، اور مجھے بار بار یہ تاکید کی تھی کہ رزلٹ کچھ بھی ہو، چاہے کامیابی ہو یا ناکامی، میں سیدھا گھر واپس آؤں۔ یوں والدہ کی وہ نصیحت محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ ایک ماں کے دل کی گہرائیوں سے اُبھرا ہوا وہ خوف تھا جو ماضی کے ایک دردناک المیے سے جنم لے چکا تھا، اور جو اپنی اولاد کو ہر قیمت پر محفوظ دیکھنے کی بے چین خواہش میں ڈھل چکا تھا۔
قریب گیارہ بجے کا وقت تھا جب میں لرزتے قدموں کے ساتھ اسکول کے احاطے میں داخل ہوا۔ فضا میں ایک عجیب سا اضطراب معلق تھا، جیسے ہر سانس کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہو رہی ہو۔ ابھی تک نوٹس بورڈ پر رزلٹ شیٹ چسپاں نہیں کی گئی تھی، مگر اس کے باوجود پورا احاطہ طلبہ کے ہجوم سے بھرا ہوا تھا۔ ہر چہرے پر امید اور خوف کی ملی جلی پرچھائیاں تھیں، کوئی خاموشی سے دعاؤں میں مشغول تھا تو کوئی بے اختیار اپنے دوستوں سے خیالی اندازوں میں الجھا ہوا۔ گویا پورا ماحول ایک خاموش مگر شدید نفسیاتی کشمکش کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پھر تقریباً ایک گھنٹے کے طویل اور بے چین انتظار کے بعد اچانک خبر پھیلی کہ رزلٹ شیٹ نوٹس بورڈ پر لگا دی گئی ہے۔ بس یہی سنتے ہی طلبہ کا جمِ غفیر ایسے لپکا جیسے بند باندھ کر رکھے ہوئے جذبات یکایک ٹوٹ پڑے ہوں۔ دھکم پیل، شور و غوغا اور بے قرار آوازوں کا ایک طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا۔ کسی کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے، آنکھوں میں چمک تھی، لبوں پر مسکراہٹیں تھیں، اور کچھ ایسے بھی تھے جن کے چہرے مرجھائے ہوئے، نظریں جھکی ہوئی اور دل بجھے بجھے سے محسوس ہو رہے تھے، جیسے کسی نے اندر ہی اندر ان کے خوابوں پر گرد ڈال دی ہو۔ میں کچھ دیر وہیں ٹھہر گیا۔ سوچا، اس ہجوم میں گھسنے سے بہتر ہے کہ تھوڑا انتظار کر لیا جائے۔ آخر رزلٹ ابھی دیکھ لوں یا کچھ دیر بعد، قسمت تو وہی رہنی تھی، اس میں چند لمحوں کی تاخیر سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ ویسے بھی دل اس وقت اتنا بھرا ہوا تھا کہ آنکھوں کو خود پر یقین دلانے کے لیے کچھ سکون چاہیے تھا۔ جب بھیڑ کچھ کم ہوئی تو میں دھیرے دھیرے نوٹس بورڈ کی طرف بڑھا۔ بورڈ پر تین رزلٹ شیٹس چسپاں تھیں۔ ایک فرسٹ ڈویژن کی، دوسری سیکنڈ ڈویژن کی اور تیسری تھرڈ ڈویژن کی۔ دل نے کانپتے ہوئے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے تھرڈ ڈویژن دیکھ لو، شاید وہی سچ ہو۔ میں نے لرزتی نگاہوں سے تھرڈ ڈویژن کی فہرست پر نظر دوڑائی، مگر وہاں میرا نمبر موجود نہ تھا۔ دل نے ایک لمحے کو سکون کا سانس لیا، مگر ابھی مکمل اطمینان باقی تھا۔ پھر ہمت جمع کر کے سیکنڈ ڈویژن کی شیٹ کی طرف نظر اٹھائی۔ انگلیاں بے اختیار فہرست کے نمبروں پر پھسلنے لگیں، اور اچانک… وہاں میرا نمبر تھا! میں نے ایک بار نہیں، دو بار نہیں، بلکہ کئی بار آنکھیں مل کر دیکھا، جیسے خود کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی خواب یا نظر کا دھوکا نہیں۔ جب دل نے تسلیم کر لیا کہ واقعی یہی میرا نمبر ہے تو اندر کہیں ایک دبے دبے انداز کی خوشی جاگ اٹھی۔ اس کے بعد میں نے گہری سانس لی اور آہستہ آہستہ اپنے مضامین میں حاصل شدہ مارکس نوٹ کرنے لگا، گویا ہر ہندسہ میرے لیے کسی نئے باب کے آغاز کی نوید تھا۔
رزلٹ دیکھ لینے کے بعد جب میں نے گھر کی راہ لینے کا ارادہ کیا تو اچانک میری نظر اسکول کے احاطے کے ایک گوشے پر پڑی، جہاں چند ہم جماعت ساتھی خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ان کے درمیان ہمارا ایک دوست ایسا بیٹھا تھا جو اپنے مخصوص انداز میں سب کو ہنسانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دراصل یہ وہ طلبہ تھے جو امتحان میں ناکام ہو چکے تھے، اور درمیان میں بیٹھا ہوا یہ دوست ان کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی کے فریضے پر مامور تھا۔ اس دور میں کوئی دو،تین سال پشتر ریلیز ہوئی فلم ”مقدر کا سکندر” کا قبرستان والا منظر جس کا مکالمہ بہت مشہور ہوا تھا جہاں پر ایک لڑکا اپنی ماں کی مزار پہ روتا ہے وہاں ایک فقیر اس بچے کو ہمت دلاتا ہے اور نصیحت کرتا ہے سکھ کو ٹھوکر مار اوردکھ کو گلے لگا لے۔ بس اسی فلمی مکالمے کو ہمارا یہ دوست پورے ڈرامائی انداز میں دہرا رہا تھا اور ناکام ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا ’’بیٹا! سکھ کو ٹھوکر مار، دکھ کو اپنا لے۔ سکھ تو بے وفا ہے، کچھ دنوں کے لییآتا ہے اور چلا جاتا ہے،لیکن دکھ تو اپنا ساتھی ہے، اپنے ساتھ رہتا ہے۔ پونچھ لیے آنسو ۔ پونچھ لییانسو،دکھ کو اپنا لے، اور تقدیر تیرے قدموں میں ہوگی اور تو مقدر کا بادشاہ بنے گا۔ ہنس بیٹا، ہنس۔قہقہے لگا! یہ سب کہتے ہوئے وہ خود زور زور سے ہنس رہا تھا، جیسے کسی اسٹیج ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہو۔ جو ساتھی فیل ہوئے تھے، وہ بیچارے کہاں ہنس سکتے تھے، مگر یہ حضرت اپنی ہی باتوں پر بے ساختہ قہقہے لگائے جا رہے تھے۔ بعد میں جب حقیقت معلوم ہوئی کہ جناب خود تمام مضامین میں فیل ہو چکے ہیں، تو میں ان کی اس جگرگردے والی ہمت کو دل ہی دل میں داد دیتا ہوا خاموشی سے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ جب میں گھر کی سمت قدم بڑھا رہا تھا تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے پاؤں زمین کو چھو ہی نہیں رہے ہوں، دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی اور میں چاہ رہا تھا کہ میرے پاس ہونے کی خوش خبری جلد از جلد اپنی والدہ کو دوں۔ جیسے ہی میں ہمارے محلے کے موڑ پر پہنچا، اچانک ایک ہم محلہ ساتھی سے سامنا ہو گیا، جس نے کنڑا میڈیم سے امتحان دیا تھا۔ میں نے بڑی بے قراری کے ساتھ اس سے اس کا نتیجہ پوچھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے بتایا کہ وہ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہو گیا ہے، اور میں۔میں صرف چار نمبروں سے اس منزل سے محروم رہ گیا تھا۔ اب میں کس سے کہتا کہ میں سیکنڈ ڈویژن سے پاس ہوا ہوں اور محض چار نمبروں نے مجھے فرسٹ ڈویژن کے تاج سے محروم کر دیا؟ یہ بھی کوئی تسلی بخش بات تھی؟ دل جیسے بیٹھ سا گیا، خوشی کا سارا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ جی چاہا کہ کاش یہ ملاقات آج نہ ہوتی، کل ہوتی، تاکہ میری خوشی کا یہ نازک سا چراغ کچھ دیر اور جلتا رہتا۔ مگر حقیقت نے دل پر ایسا بوجھ ڈال دیا تھا کہ قدم گھر کی طرف اٹھتے ہوئے بھی بھاری محسوس ہو رہے تھے۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو میرا چہرہ خود بخود بجھا بجھا سا تھا۔ والدہ نے ایک نظر میں میری کیفیت بھانپ لی۔ ان کی شفقت بھری نگاہوں نے جیسے دل کا حال پڑھ لیا ہو۔ آہستہ سے پوچھا ‘‘بیٹا! رزلٹ کا کیا ہوا؟’’ میں نے خاموشی سے وہ پرچہ ان کے سامنے رکھ دیا جس پر میرے نمبر درج تھے۔ والدہ نے جیسے ہی نتائج پر نظر ڈالی، ان کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔ مسکراتے ہوئے بولیں ‘‘ارے! سیکنڈ ڈویژن میں پاس ہو گئے ہو، پھر منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے؟’’ میں نے ہچکچاتے ہوئے اپنے ہم محلہ دوست کے فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہونے کا ذکر کیا اور یہ بھی کہ میں صرف چار نمبروں سے پیچھے رہ گیا ہوں، کاش میں بھی فرسٹ ڈویژن سے پاس ہوتا۔ میری یہ بات سن کر والدہ نے مسکرا کر جو‘‘مارکس کا فلسفہ’’سمجھایا، وہ محض چند جملے نہیں تھے بلکہ زندگی بھر کا سرمایہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ نمبروں سے انسان کی اصل قدر متعین نہیں ہوتی، اصل کامیابی وہ ہے جو انسان اپنے کردار، محنت اور مستقل مزاجی سے حاصل کرتا ہے۔ فرسٹ اور سیکنڈ کی لکیر کاغذ پر ہوتی ہے، زندگی میں نہیں۔
والدہ نے بتایا کہ زندگی کی اصل کامیابی کا راز صرف امتحانی نمبروں اور مارکس کی چکاچوند اعداد میں پوشیدہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے کئی ایسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے مگر مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خود اعتمادی، مستقل مزاجی، اخلاقی اقدار، وقت کی پابندی، اساتذہ کا احترام، والدین کی دعائیں، اور ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھنے کا جذبہ،قدرت کی عطا کردہ بے پناہ صلاحیتوں کا استعمال وہ سرمایہ ہیں جو کم مارکس کے باوجود انسان کو زندگی کی اصل کامیابی سے ہم کنار کر دیتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اچھے مارکس کامیابی کا ایک بلکل چھوٹاحصہ ہیں، مگر کلی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ والدہ کے وہ محض چند نصیحت آمیز جملے نہ تھے بلکہ میرے لیے چراغِ دل ثابت ہوئے۔ اُن کی باتوں نے میرے دل کے اندھیروں میں امید کی روشنی بھر دی، جیسے کسی نے بھٹکتے ہوئے مسافر کے ہاتھ میں روشن چراغ تھما دیا ہو۔ اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا کہ نا امیدی کی دھند چھٹ رہی ہے اور مایوسی کی تاریکی میں چھپی ہوئی راہیں اب واضح ہو رہی ہیں۔ والدہ کی یہ رہنمائی میرے لیے محض الفاظ نہ تھی بلکہ ایک اندرونی روشنی تھی جس نے مجھے اندھیرے سے اجالے کی طرف، خوف سے یقین کی طرف اور مایوسی سے حوصلے کی طرف سفر کرنا سکھا دیا۔ یہی وہ چراغِ دل تھا جس نے میرے شعور کو منور کیا اور زندگی کو نئے معنی عطا کر دیے۔ آج اس واقعے کو پچاس برس گزر چکے ہیں، مگر والدہ کی وہ باتیں آج بھی میرے دل و دماغ پر ایسے نقش ہیں جیسے پتھر پر لکیر۔ وقت نے ثابت کر دیا کہ ان کا ہر لفظ سچ تھا، اور اس دن جو سبق ملا تھا، وہ کسی اعلیٰ ڈگری یا کسی اونچے ڈویژن سے کہیں بڑا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے