از:۔ ثمینہ تاج۔وزڈم انگلش اسکول۔شیموگہ
آج کل لوگوں میں یہ فخرعام ہوتا جا رہا ہے کے آن لائن دیکھو توسمجھ جاؤ کہ بندہ خیر یت سےہے۔ کیا سچ میں ہم لوگ اتنے ڈیجیٹل ہوگئے ہیں کہ کسی کی خیریت جاننا ہمارے لئےصرف آنلاین تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے؟۔کیا سچ مچ انٹرنٹ ہماری زندگیوں میں اپنوں سے زیادہ قرب کا مقام حاصل کر چکا ہے؟ آجکل انٹرنیٹ ہمارا اتنا سگا بن چکا ہے اور اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ کسی کی خیریت تو دور کی بات ہم اپنے دین اور شریعت کا مسلہء بھی اسی امام سے پوچھتے ہیں ہم یہ کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں کہ یہ جو سمارٹ فون اور ٹیکنولوجی ایجاد ہوئی ہے وہ ہم کو اور ہماری نسل کو پوری طرح سے کھوکھلا کر رہی ہے یہ ٹیکنالوجی ہم سے کیا کچھ نہیں چھین لی۔ یہ ہماری یاداشت ، ہمارا وقت، ہماری نیندیں، ہماری عقل،عزت، ہمارے رشتے، محبت، صحت بلکہ یوں کہو کہ یہ ہم سے ہمارا سب کچھ چھین کر ہمارے دل اور دماغ پر حکمرانی کر رہی ہے افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس ٹکنولوجی نے ہم کو ہمارے دین سے بھی دور کر رکھا ہے۔ہمارے دماغوں کو زنگ آلودہ کرنے میں سب سے اول رول شیخ گوگل صاحب نبھا رہے ہیں جب تک ہمارے ہاتھوں میں یہ سمارٹ فون ہے تب تک ہمیں ضرورت ہی نہیں محسوس ہوگی کہ ہم اپنے دماغوں پر زور ڈالیں ۔ہم فارغ ہوتے ہوئے بھی مصروف رہتے ہیں جسطرح بغیر سانس لیے ہم نہیں رہ سکتے اسی طرح یہ سمارٹ فون اور نیٹ کے بغیر ہمارا گزارہ نا ممکن ہے بھلے ہی ہمارے پاس اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لئے پیسے ہو یا نہ ہو مگر نیٹ پیکیج کے لئے ہمارے پاس پیسے ضرور رہتے ہیں بھلے ہی جتنی بھی تنگدستی کیوں نہ ہو مگر ہماری ملکیت میں سمارٹ فون ضرور رہتا ہے بچے، بوڑھے اور جوان سب کو اس نے اپنا گرویدہ بنا کر رکھا ہے ہمارا دن اسی فون سے شروع ہوتا ہے اور اسی فون پر ختم ہوتا ہے۔انسان سے انسانیت، رشتوں سے محبت، بچوں سے انکی معصومیت ، سب کچھ چھین لیا ہے اس سمارٹ فون نے۔۔اور گر بدلے میں کچھ دیا ہے تو صرف تنہائی۔ایک گھر میں رہنے کے باوجود کئ کئی دنوں تک آپس میں بات چیت نہیں ہوتی۔ بوڑھے ماں باپ کو اور بوڑھا بنا دیا ہے انکی اولاد نے ، صرف اور صرف اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے۔ہم لوگ اپنے فونوں میں اسطرح گم رہتے ہیں کہ ہمیں یہ تک نہیں محسوس ہوتا کہ سامنے والاکب سے ہمارا منتظر ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ انسانیت تو جڑ سے ہی ختم ہوگئی۔گر کوئی ڈوب رہا ہے یا کوئی کسی حادثے کا شکار ہوا ہے تو ہم بجائے اسکو بچانے کے سب سے پہلے اسکی ویڈیو بنانے کی سوچتے ہیں ۔ ہماری انسانیت کا معیار اس درجہ تک گرگیا ہے کہ خیر سے ہم کسی کی مدد کر بھی لیتے ہیں تو سب سے پہلے واٹس ایپ پر اپنی نیکی کو اپلوڈ کردیتے ہیں۔اب نیکی دریا میں نہیں بلکہ واٹس ایپ پر ڈالاجاتا ہے اور تو اور نکاح جیسے مقدس رشتے کو بھی ٹیکنیکل بنا دیا ہے ہم نے۔اس سمارٹ فون کا کرشمہ تو دیکھئےکہ نہ ماں باپ کے پاس اپنے بچوں کیلئے وقت ہے اور نہ ہی بچوں کے پاس اپنے ماں باپ کیلئے ۔ ۔اتنا ہی نہیں بلکہ آجکل اظہار غم کا طریقہ بھی ٹیکنیکل ہوگیا ہے اگر گھر میں یا رشتے داری میں کوئی فوت ہوجاتا ہےتو ہم سب سے پہلے اپنا اظہار غم سوشیل میڈیا پر سٹیٹس کی شکل میں ڈالنا نہیں بھولتے۔ اس ماڈرن ٹیکنالوجی نے غم اور خوشی کا اظہار بھی ڈیجیٹل کر دیا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم کاہل بن چکے ہیں ۔ہم غلام بن چکے ہیں اس ٹکنولوجی کے۔کہیں نا کہیں ہم جانے انجانے میں ہی سہی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں ہم مسلمان عادی ہوچکے ہیں غلامی کی۔ کبھی ذہنی تو کبھی جسمانی غلامی، کہیں حکومت ہمیں اپنا غلام بناتی ہے تو کہیں غیر قوم ہمیں اپنا غلام بناتی ہے، تو کہیں ہم خود مغربی رکھ رکھاؤ کے غلام بن جاتے ہیں۔
ذرا سوچئے۔ ہم مسلمان ہیں، اشرف المخلوقات میں سے ہیں ۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے ہمیں عقل سلیم عطا کیا ہے اچھے اور برے، حلال و حرام میں تمیز کرنے کی عقل ہم میں موجود ہے تو پھر کیوں ہم اپنے آپ پرایک بےجان سی چیز کو مسلط کر رہے ہیں؟ کیوں ہم موبائل کے آگے اتنے بےبس اور مجبور ہو جاتے ہیں کہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکو اپنے ہاتھوں میں لےکر انگلیاں چلانا شروع کر دیتے ہیں ہم عبادت کو قضاء کر دیتے ہیں لیکن اس سمارٹ شیطان کو اپنے سے الگ نہیں کرسکتے، یہ ایسے ہی سمارٹ نہیں بنا بلکہ ہم سے ہمارا سب کچھ چھین کر خود سمارٹ بن گیا ہے میں مانتی ہوں کہ آج کے دور میں یہ ہماری ضرورت ہے.. پہلے اسکول میں موبائل کا استعمال ممنوع تھا لیکن آج ان اسکولوں کا سارا انتظام اور ذماداری اسی موبائل فون پر منحصر ہے۔ یہ ایک ہی شعبہ ایسا تھا جہاں پر اسکے داخل ہونے پر پابندی لگائی گئی تھی مگر یہ صاحب نے یہاں پر بھی اپنی ڈھاک جمالی۔
میں یہ نہیں کہتی کے ہمیں اسکی خلاف ورذی کرنی چاہیئے بلکہ یہ تو آج کی ہماری اٹل ضرورت بن چکی ہے۔ استعمال صرف ضرورت کی حد تک ہونی چاہیئے۔ ہمیں بدلنا ہے اپنے آپ کو اس ماڈرن ٹیکنالوجی کے ساتھ، لیکن بدلاؤ صرف سدھرنے کی حدتک نا کہ برباد ہونے کی حد تک۔آخر میں سبھی سے میری التجا یہی ہے کہ ا گر ہم مسلمان ہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے موبائل کو بھی مسلمان بنا کر استعمال کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت عطا فرمائے ک ہم اپنے موبائل کا صحیح استعمال کریں ،اور ہمیں ہر وہ چیز سے بچائے جو ہم کوگناہوں کے راستے پرگامزن کرے، اور ہمیں گمراہ ہونے سے بچا لے آمین۔
