از :۔ عرفان خطیب احمد۔636455398

مسجد الاقصی کو مسلمانانِ عالم اپنا قبلہ اول سمجھتے ہیں اور بیت المقدس کو مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے بعد عالمِ اسلام کیلئے تیسرا سب سے عزیز و مقدس مقام مانتے ہیں ، مسجد الاقصی فلسطین کے شہر یروشلم کے مشرقی حصہ پر مقیم ہے جس پر اب یہودیوں کا قبضہ ہے، مسئلہ فلسطین دنیا کے سب سے قدیم اور بڑے مسائل میں سے ایک ہے ، واضح ہو کہ یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس شہر ہے اور اہم مقام رکھتا ہے ۔ بیت المقدس میں اس وقت جو حالات ہیش آرہے ہیں وہ بہت سنگین ہیں، وہ جاننے سے پہلے ہم بیت المقدس کی مختصر تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔
بیت المقدس کی تاریخ بہت قدیم ہے، فلسطین کو تقریباً ساٹھ ہزار سال پہلے کچھ خانہ بدوشوں نے دریافت کیا تھا اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں آپ علیہ السلام عراق سے فلسطین تشریف لائے اور ایک طویل عرصہ تک یہیں مقیم رہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یروشلم میں ایک چشمہ کے نزدیک عبادت گاہ تعمیر فرمائی تھی تاکہ وہاں نماز پڑھی جاسکے۔
مسلمانان عالم آج اس مقام کو ’’حرم شریف‘‘ کہتے ہیں، یہود و نصاریٰ اس مقام کو ’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ (Temple Mount)کہتے ہیں۔ اسکے بعد بنی اسرائیل کی قوم نے ارض فلسطین کی مختلف آبادیوں پر قبضہ کرلیا۔ کئی محققین اور عبرانی بائبل کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے دور میں بیت المقدس یا ٹیمپل ماؤنٹ کے مقام پر ایک بڑی اور عالیشان عبادت گاہ تعمیر ہوئی جو ہیکلِ سلیمانی (The Solomon’s Temple) کہلاتی ہے جو کہ یہودیوں کیلئے مقدس مقام ہے جیسے مسلمانوں کے لئے خانہ کعبہ ہے۔ انتہا پسند یہودیوں کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ جس جگہ مسجد اقصیٰ تعمیر کی گئی، وہاں ہیکلِ سلیمانی موجود تھا۔مگر آج تک یہودی یہ بات ثابت نہیں کرسکے۔
واضح ہو کہ اُس وقت یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان سخت نفرت تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں کے مقدس مقام ہیکل سلیمانی کو اب تک دو بار مسمار کیا گیا ہے۔ آج کے دور میں ہیکلِ سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیے اسے "دیوار گریہ” کہا جاتا ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں، اور کئی محققین اور اسلامی اسکالر جیسے ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے بھی اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ ایک دن یہود و نصاریٰ مسجد الاقصیٰ کو ضرور شہید کرینگے اور پھر سے تیسری مرتبہ ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کرینگےجس کی پیشن گوئی بائبل میں بھی موجود ہے۔
تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بابل کے بادشاہ، نبوکد نصر نے 586 (قبل مسیح) میں یروشلم تباہ کردیا تھا اور ہیکل سلیمانی کو بھی زمین بوس کرنے کے بعد ایک لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا تھا۔ اسکے بعد 537 ( ق م) میں ایرانی بادشاہ، سائرس اعظم نے بابل فتح کرلیا۔ اس نے یہود کو واپس یروشلم جانے اور نیا ہیکل بنانے کی اجازت دے دی، اسی کے حکم کہ مطابق پھر سے دوسرے ہیکل سلیمانی کی عظیم الشان تعمیر کی گئی۔ پھر اسکے بعد یہودیوں پر عیسائیوں کی شکل میں عذابِ الہی ٹوٹ پڑی، 330 (ق م) میں اسکندر اعظم نے فارسی حکمرانوں کو شکست دی اسکے بعد فلسطین رومی سلطنت کا حصہ بن گیا تھا، 60ء میں علاقے کے یہود نے رومی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کردی جو چار برس تک جاری رہی۔ اپریل 70ء میں مستقبل کا رومی بادشاہ، شہزادہ تیوس ( Titus) کثیر فوج لیے یروشلم آپہنچا۔ اس نے پونے پانچ ماہ شہر کا محاصرہ کر کے آخر شہر پہ قبضہ کیا اور اسے مسمار کر ڈالا۔ یوں دوسری مرتبہ بھی یہودیوں کا مقدس مقام ہیکلِ سلیمانی بھی تباہ ہوگیا۔ اسی طرح رومی حملے خدائی قہر بن کر یہودی قوم پر نازل ہوئے اور اسے تباہ و برباد کرگئے۔ 312 میں رومی سلطنت کے بادشاہ، قسطنطین اعظم نے عیسائیت قبول کرلی اور یروشلم میں اولیّں چرچ تعمیر کرائے گئے۔ ان چرچوں کی تعمیر کے بعد ماؤنٹ ٹیمپل کی مذہبی اہمیت کم ہوگئی۔اکثر مغربی مورخین نے لکھا ہے کہ یروشلم کی عیسائی حکومت نے ٹیمپل ماؤنٹ کو کوڑے دان میں بدل دیا تھا یعنی وہاں شہر کا کوڑا کرکٹ پھینکا جانے لگا۔ جس کا مقصد حضرت عیسیٰؑ کی یہ پیشن گوئی پورا کرنا تھا کہ ایک دن ہیکل مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا جس کی پیشن گوئی بائبل میں موجود تھی۔ اس کے بعد ظہورِ اسلام کے وقت آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ کو اللہ تعالی نے معراج کی رات یروشلم سے ہی سفر پر بلایا تھا۔ بعد جب دنیا میں اسلام غالب ہونا شروع ہوگیا تو خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطابؓ کے دورِ خلافت میں یروشلم کو فتح کیا گیا اور مسجدِ ابراہیمی کی از سر نو تعمیر کی گئی، خلیفہ عبد الملک کے دورِ خلافت میں یہاں مسجد اقصٰی کی تعمیر عمل میں آئی اور صخرہ معراج پر گنبد الصخرہ بنایا گیا۔ اسکے بعد برابر 1099ء تک بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا اسکے بعد پہلی صلیبی جنگ ہوئی جس میں تقریباً 70 ہزار مسلمانوں کا قتل کیا گیا اور بیت المقدس کو مسلمانوں کے ہاتھ سے چھین لیا گیا۔ اسکے بعد پھر 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں جنگِ حطین میں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ بیت المقدس فتح ہوا، اسکے بعد بیت المقدس پر تقربیاً761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا، اور فلسطین خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ نگیں تھا۔ پھر 1900ء میں جب خلافتِ عثمانیہ اپنے آخری دور سے گزر رہی تھی اسوقت کئی یورپی ممالک نے خلیفہ عبدالحمید ثانی کے پاس رشوت اور سیاسی مدد پیش کرنے کی تجویز کی تا کہ وہ یروشلم میں یہودیوں کو آباد کریں لیکن خلیفہء اسلام نے ان تمام چیزوں کو ٹھکرا دیا، اسکے بعد امریکہ فرانس برطانیہ کی سازشوں سے خلافت عثمانیہ مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ پہلی جنگ عظیم 1917 کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی کھلے عام اجازت دے دی۔ اسی وقت سے یوروپی ممالک اور امریکہ نے یہودیوں کو یروشلم میں آباد کرنے پر زور دینا شروع کیا۔ اور ہوتے ہوتے اسی طرح کئی یہودی یروشلم میں آباد ہونا شروع ہوگئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1948میں امریکا، برطانیہ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت اسرائیل کے نام سے قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اسکے بعد دنیا کے کئی ملکوں نے اسکی مخالفت کی اور اسرائیل پر حملہ بھی کیا، 1967ء میں عرب اور اسرائیل کے درمیان جنگ ہوئی جس کہ نتیجہ میں فلسطین اور بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کر لیا، یوں مسلمانوں کا قبلہ اول مسلمانوں سے یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اسکے بعد 21 اگست 1969ء کو مسجد الاقصٰی کے اندر ایک واقعہ ہوا جس میں ایک آسٹریلوی یہودی نوجوان نے مسجد الاقصی کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور محراب میں موجود منبر نذر آتش ہوگیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ اس واقعہ کہ فوراً بعد سعودی عرب کے شاہ فیصلؒ کے فیصلہ سے سربراہان اسلامی ممالک کا اجلاس ہوا جس میں آئندہ مسائل پر متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کی خاطر اور فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کی غرض سے ایک تنظیم (او آئی سی) اسلامی تعاون تنظیم کی بنیاد رکھی گئی جس میں 56 اسلامی ممالک کا اتحاد شامل تھا۔ چند روز تک یہ تنظیم فلسطین کی آزادی کی خاطر لڑتی رہی لیکن اب یہ بھی غفلت کی نیند میں چلی گئی ہے۔ اس کے بعد فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم بڑھتے گئے جس کے جواب میں فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف پہلا انتفادہ (ظلم کے خلاف بغاوتی جنگ) 1987ء میں شروع ہوا اور غربی کنارے اور غزہ میں مظاہرے اور تشدد پھوٹ پڑے۔ اگلے چھ سال تک انتفادہ زیادہ مضبوط ہوتا گیا اور اس کا نشانہ اسرائیلی معیشت اور ثقافت تھیں۔ اس دوران ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت فلسطینی نوجوان تھے جو اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکتے تھے۔ اس دوران شیخ احمد یاسینؒ نے اسرائیلی قبضوں کے خلاف “حرکۃ المقاومتہ الاسلامیہ” یعنی حماس کی بنیاد رکھی جو کہ آج تک فلسطینیوں کی آزادی کیلئے کوشاں نظر آتی ہے اور جسکو اب امریکہ سعودی عرب جیسی حکومتوں نے دہشت گردی کا الزام لگایا ہے۔ سن 2000ء کے قریب فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم اور زیادہ بڑھتے گئے جس کے نتیجہ میں دوسرا انتفادہ شروع ہوا جو2000ء سے شروع ہوکر 2005ء تک جاری رہا جس میں 3000 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور 1000 کے قریب اسئیلی مارے گئے ۔ اس وقت سے اسرائیلی پولس فورسز کی جانب سے مستقل طور پر فلسطینیوں کے ساتھ ظلم ڈھائے جارہے ہیں، ذرا ذرا سی بات پر بھی فلسطینی عوام اور انکے قائدوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، آج کی حالت یہ ہے کہ اس سے پہلے صرف اسرائیلی فورسز فلسطینیوں پر ظلم ڈھارہے تھے آج اسرائیل نے اس کی قوم کو فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کیلئے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جس کہ نتیجہ میں اسرائیلی یہودی باشندے فلسطینیوں کے گھروں پر جبراً قبضہ جمالیتے ہیں، پچھلے دنوں ہونے والی جنگیں اور پرتشدد واقعات بھی اسی وجہ سے شروع ہوئے تھے۔ یروشلم کے مشرقی طرف واقع ایک گاؤں ہے جو شیخ جراح کے نام سے جانا جاتا ہے، شیخ جراہ میں زبردستی تین خاندانوں کو انکے گھر سے بے دخل کردیا گیا جب وہ اسکے خلاف آواز اٹھانے لگے تو اسرائیلی حکام نے مظلوموں پر ہی ظلم ڈھانے کا الزام لگادیا۔ اس واقعہ کے بعد فلسطین کے کئی شہروں میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہونے لگے۔ اور پچھلے سال رمضان المبارک کے دوران اسرائیںل کے مظالم کے خلاف بھی بیت المقدس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوکر مظاہرے کرنے لگے جسے روکنے کے لئے اسرائیلی پولس فورسز نے مسجد الاقصٰی میں نماز پڑھ رہے مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں ، مسجد الاقصٰی کے اندر گرینیڈ پھینکے گئے عورتوں سے لیکر بچوں کو تک اسرائیلیوں نے زخمی کردیا تھا۔ اسرائیل کی اس شرمناک حرکت کے بعد کئی اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے بس ٹوئٹر کی حد تک اپنا غم و غصہ ظاہر کیا لیکن اب تک کسی نے بھی میدانی کاروائی کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بات چاہے سعودی عرب کی ہو یا آٹومی طاقت سے لیس پاکستان کی یا عالم اسلام کے دردمند مانے جانے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی۔سبھی نے اس معاملے پر سنجیدگی لینے کی بات نہیں کہی۔ اور اسکے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو فلسطینیوں کی آواز بننے کے لئے بنائی گئی تھی جس میں دنیا کے 57 اسلامی ممالک کا اتحاد ہے اس نے بھی ابھی تک اس بارے میں کوئی بھی پیش رفت نہیں کی اور ایک بھی فوارً اجلاس طلب نہیں کیا ۔
واضح ہو کہ 1967ءاور 1973ء کی جنگوں میں تمام عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا تھا، پاکستان نے تو ملک شام کی فضائی جنگی جہازوں سے بھی فلسطین کی مدد کی تھی۔ سعودی عرب نے تیل کا ہتھیار بھی استعمال کیا تھا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ہر بار اسرائیل کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا، لیکن آج اسرائیل کی پشت پناہی میں امریکہ نے پوری جان لگادی ہے اسی لئے عرب اقوام اسرائیل کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے ہیں، اسکے علاوہ پچھلے دنوں یو اے ای، بحرین جیسے عرب ملکوں نے اسرائیل کو ایک آزاد ملک تسلیم کرلیا ہے اور انکے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ بات یہیں نہیں رکی یو اے ای نے تو اسرائیل کے ساتھ بڑے بڑے تجارتی و صنعتی معاہدے بھی طے کرلئے ہیں، اور آج جب فلسطین کے مسلمانوں پر اس طرح کا ظلم ڈھایا جارہا ہے تو ان حکمرانوں کے سروں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے جو آج یہود و نصاریٰ کے ساتھ گھل مل رہے ہیں۔ شاید اسی وقت کو سمجھ کر شاعر ِ مشرق علامہ اقبالؒ نے ”فلسطینی عرب سے“ کے عنوان سے درج ذیل نظم لکھی تھی اُنہوں نے دُنیائے عرب کو اس نظم سے ایک نئی راہِ عمل کی جانب یوں متوجہ کیا تھا۔
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے!
تری دوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے!
سُنا ہے میں نے غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے!
عرضِ آخر یہ ہے کہ اب مسلمانانِ عالم کو خاموشی کا کام لینا بہت مہنگا پڑیگا اب عالمِ اسلام کو چاہئے کہ اب میدانی کام میں لگ جائیں، یہ تجارتی و ثقافتی تعلقات جو ہم نے ظالم ملکوں سے کئے ہوئے ہیں یہ صرف ہم لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے کھیل ہیں، ہمارے لیڈروں کو چاہئے کہ اب اللہ کی راہ میں طاقت صرف کرنے کا اعلان کریں اور سب مل کر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آگے آئیں اب ان دعاؤں سے کچھ ہونے والانہیں ہے اب اصل مقصد کی طرف آگے بڑھنا ہے، علامہ خادم حسین رضویؒ کہا کرتے تھے کہ اگر ساری دنیا کے مسلمان مل کر اللہ سے دعائیں مانگیں یا استغفار پڑھیں تو بھی اس سے کچھ ہونے والا نہیں ہے جب تک کہ ہم عملی طور پر فلسطین کو آزاد کرانے کا نہ سوچیں، اسی لئے میری گذارش ہے ان اسلامی ممالک کے سربراہان سے کہ اس موضوع پر جلد از جلد کام کر یں ۔
