گنگا جمنی تہذیب کے درخشاں چراغ؛ وینکاپا کاملؔ کلادگی

مضامین

از؛ پروفیسر مشتاق احمد یس ملا، ہبلی۔9902672038


گنگا جمنی تہذیب کے درخشاں علمبردار، 91 سالہ بزرگ و کہنہ مشق شاعر اور سابق رکن کرناٹک اُردو اکیڈیمی، وینکاپا کاملؔ کلادگی ہمارے عہد کی اُن نادر و نایاب شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے کردار بلکہ اپنے فن کے ذریعے بھی اخوت، رواداری اور لسانی یگانگت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ ایسے پُرآشوب دور میں جب اردو زبان کو ایک مخصوص طبقے تک محدود کرنے کی ناروا کوششیں اپنے عروج پر ہیں، کاملؔ صاحب نے اپنی علمی و ادبی کاوشوں سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ اردو کسی ایک قوم یا مذہب کی میراث نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت ہے۔
ابتدائی تعلیم کے سلسلے میں انہیں پہلے کنڑا اسکول میں داخل کیا گیا، مگر چند ماہ بعد ہی ایک واقعے کے باعث والدین نے انہیں وہاں سے نکال کر قریب واقع ریلوے گورنمنٹ اردو پرائمری اسکول میں داخل کرا دیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں سے ان کی لسانی شناخت نے نیا رخ اختیار کیا اور کنڑا مادری زبان ہونے کے باوجود اردو ان کی روح میں بس گئی۔
کاملؔ کلادگی صاحب نے اینگلو اردو ہائی اسکول ہبلی سے میٹرک مکمل کیا اور بعد ازاں کرناٹک کالج دھارواڑ سے 1959ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر 1962ء میں گورنمنٹ کالج آف فزیکل ایجوکیشن بنگلور سے ڈی پی ایڈ کی سند حاصل کر کے اسی سال اینگلو اردو ہائی اسکول میں بحیثیت فزیکل ایجوکیشن ٹیچر اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے 1966ء میں گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن گلبرگہ سے بی ایڈ اور 1970ء میں کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال پٹیالہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسپورٹس سے خصوصی تربیت بھی حاصل کی اور انگلش ٹیچنگ کورس بھی مکمل کیا۔ اس طرح وینکاپا کاملؔ صاحب اینگلو اردو ہائی اسکول ہبلی میں فزیکل ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی مضامین بھی پڑھانے لگے، نیز نہرو آرٹس و کامرس کالج ہبلی میں بطور پارٹ ٹائم فزیکل ایجوکیشن ڈائریکٹر خدمات انجام دیں۔
ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو کھیلوں سے والہانہ وابستگی ہے۔ 28 برس تک اینگلو اردو ہائی اسکول ہبلی میں خدمات انجام دینے کے بعد 1990ء میں کرناٹک کالج دھارواڑ میں بطور فزیکل ایجوکیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور 1995ء میں سبکدوش ہوئے۔ عملی ملازمت سے وظیفہ یاب ہونے کے باوجود آج بھی اسپورٹس کے میدان سے ان کا رشتہ قائم ہے اور ریاست کے مختلف تعلیمی اداروں میں منعقد ہونے والے اسپورٹس میٹس میں بحیثیت نمائندہ شریک ہوتے رہتے ہیں۔
ادبی ذوق انہیں طالب علمی ہی سے تھا، مگر اس ذوق کی آبیاری میں ایک نہایت اہم نام حضرت موج لکھنویؔ کا ہے۔ تقریباً 75 سال قبل جب موج لکھنویؔ ہبلی تشریف لائے تو انہوں نے نہ صرف طب کے میدان میں خدمات انجام دیں بلکہ ہمدرد کی ایجنسی کے ذریعے شہر میں قیام بھی کیا۔ ان کی سب سے بڑی ادبی خدمت یہ تھی کہ انہوں نے ہبلی میں پہلی مرتبہ منظم انداز میں شعراء کی تربیت کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کی سرپرستی میں تقریباً ڈیڑھ سو شعراء نے تربیت حاصل کی اور یوں شہر میں مشاعروں کی روایت کو فروغ ملا۔ انہی مشاعروں میں کاملؔ صاحب بطور سامع شریک ہوتے اور یہ محفلیں ان کے اندر پوشیدہ شعری ذوق کو جِلا بخشتی رہیں۔ بعد ازاں دورانِ ملازمت ان کے رفیقِ کار مرحوم نظام الدین قادری پروازؔ کی رہنمائی نے اس شوق کو باضابطہ ادبی سفر میں بدل دیا۔
حال ہی میں وینکاپا کاملؔ صاحب کے شعری مجموعہ کلام ”ماہِ کاملؔ” کی رونمائی ایک نہایت شاندار، پُروقار اور یادگار تقریب کے طور پر منعقد ہوئی۔ یہ بامقصد محفل ادارہ فروغِ اردو ، ہبلی اور ان کے سابق شاگردان اینگلواردو ہائی اسکول ، ہبلی کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی، جس نے اپنی سنجیدگی اور علمی وقار کے باعث اہلِ ذوق کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔
تقریب میں شہر کے ممتاز علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی، جس سے محفل کی وقعت میں مزید اضافہ ہوا۔ مقررین نے کاملؔ صاحب کی ادبی خدمات، شعری بصیرت اور ان کی شخصیت کے مختلف روشن پہلوؤں پر نہایت دلنشیں انداز میں روشنی ڈالی۔
خصوصیت کے ساتھ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کاملؔ صاحب کے سابق طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے اپنے استادِ محترم سے والہانہ محبت اور گہری عقیدت کا اظہار کیا۔ ان کی موجودگی نے تقریب کو ایک جذباتی رنگ عطا کیا اور یہ حقیقت واضح کر دی کہ ایک سچا استاد اپنے شاگردوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
یوں یہ تقریب محض ایک کتاب کی رونمائی تک محدود نہ رہی بلکہ علم و ادب سے وابستہ دلوں کے ایک خوبصورت اجتماع میں ڈھل کر ایک یادگار باب کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس نے نہ صرف کاملؔ صاحب کی ادبی زندگی میں ایک نئے سنگِ میل کا اضافہ کیا بلکہ حاضرین کے ذہن و دل پر بھی انمٹ نقوش ثبت کر دیے۔
یہ حقیقت نہایت قابلِ غور ہے کہ کنڑا مادری زبان ہونے کے باوجود ان کی شاعری خالص اردو تہذیب و روایت کی آئینہ دار ہے۔ بلاشبہ اگر ان کا تعلیمی سفر اردو سے وابستہ نہ ہوتا تو اردو ادب ایک عظیم شاعر سے محروم رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں مزید صحت و عافیت عطا فرمائے اور وہ یونہی گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار بن کر اپنے قلم سے علم و ادب کی روشنی پھیلاتے رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے