از:۔مجاہد عظیم آبادی۔ 8210779650

ہم ہر سال 15 اگست کو یومِ آزادی مناتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ آزادی کس چیز سے ہے؟ کیا یہ آزادی اپنے اصل مذہبی و ثقافتی اصولوں سے ہے؟ کیا یہ آزادی روایات اور تہذیب سے ہے؟ یا پھر اپنے ضمیر اور فطرت سے ہے؟ جب ہم اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں، ہمیں باجوں کا شور، سیٹیوں کی آوازیں، اور بہنوں، بیٹیوں کو بے پردہ گھومتے دیکھ کر کیا یہی آزادی نظر آتی ہے؟
کیا سینما ہال میں جانا، گاڑیوں پر غیر محرموں کو بیٹھا کر دوڑانا آزادی ہے؟ کیا ملک کی سرزمین پر غیر اخلاقی اور غیر شرعی عمل کے تحت زندگی گزارنا آزادی ہے؟ کیا زنا کا عام ہونا اور نکاح پر پابندی لگانا آزادی ہے؟ کیا شراب کا کاروبار یہاں آزادی کی علامت ہے؟ یا پھر مسلم لڑکیوں کا یہ کہنا کہ ”میرا جسم میری مرضی” آزادی کی نشانی ہے؟ کیا مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرنا آزادی کا حصہ ہے؟
اگر یہی سب آزادی ہے، تو پھر ضمیر سے بغاوت کیا ہوتی ہے؟ اور منافقت کس چیز کو کہتے ہیں؟ ہم نے نعرہ تو لگایا تھا کہ ”سچائی کی جیت” ہوگی، مگر یہ بتائیں کہ حق کی حکمرانی کہاں ہے؟
آزادی کی جنگ میں مسلمانوں کا کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے، لیکن آج کے دور میں بعض عناصر یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے تحریک آزادی میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ یہ بات نہ صرف تاریخ سے ناواقفیت کا اظہار ہے بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش کر دینا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی جانوں، مال و دولت، اور عزتوں کی قربانیاں دیں تاکہ یہ ملک آزاد ہو سکے۔ 1857 کی جنگ آزادی، جسے بھارت کی پہلی جنگ آزادی کہا جاتا ہے، میں مسلمانوں نے نہایت بہادری سے حصہ لیا۔ اس جنگ میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، لیکن جب یہ جنگ ناکام ہوئی، تو دہلی میں بے شمار مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
ٹیپو سلطان کی مثال، جنہوں نے 1799ء میں سرنگا پٹنم کے مقام پر انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا، آج بھی ہمارے لیے قابل تقلید ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ”گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہوتی ہے۔” ٹیپو سلطان کا نام آج بھی تاریخ کے صفحات میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے کبھی انگریزوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔
بھگوان گڈوانی کا ناول ”دی سورڈ آف ٹیپو سلطان”، جو ٹیپو سلطان کی زندگی پر مبنی ہے، اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ کس طرح ایک مسلمان حکمران نے اپنے دین اور وطن کے لیے اپنی جان دی۔ یہ بات اہم ہے کہ ٹیپو سلطان کے بعد، بہت کم ایسے حکمران ملے جنہوں نے جنگ کے میدان میں اپنی جان دی ہو۔
آج کے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے، خاص طور پر زعفرانی عناصر کے زیر اثر، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ کئی مرتبہ عوامی مقامات پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، انہیں مذہبی علامات کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور کئی واقعات میں مسلمانوں کو سرعام مارا پیٹا گیا۔
یہی نہیں، مسلمانوں کو آئے دن دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے، ان پر دیش دروہ کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اور پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز بھی نہیں کیا جاتا۔ ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے، اور ان کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے آزادی کی جنگ میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ بے مثال قربانیاں بھی دیں۔ تحریک خلافت کے رہنما مولانا محمد علی جوہر کی قربانیاں آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”میں اپنے ملک کو اسی حالت میں واپس جا سکتا ہوں جب میرے ہاتھوں میں آزادی کا پروانہ ہوگا۔” ان کی یہ بات آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسلمانوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
مولانا محمد علی جوہر کی بات سے نہ صرف ان کی عظیم جدوجہد کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے ملک کی آزادی اور خوشحالی کے لیے جانفشانی کی۔ ان کی زندگی کا ایک عظیم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے کبھی بھی انگریزوں کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنے وطن کے لیے جان کی بازی لگا دی۔
آج بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ سلوک نہایت تشویشناک ہے۔ مذہبی مقامات پر حملے، فرقہ وارانہ تشدد، اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، ان کے حقوق پامال کیے جاتے ہیں، اور انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔
آزادی کے بعد بھی، مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ جہاں مسلمانوں نے تحریک آزادی میں بے پناہ قربانیاں دیں، وہیں انہیں آزادی کے بعد برابری کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ معاشی و سیاسی میدانوں میں مسلمانوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور انہیں ترقی کے مواقع سے محروم رکھا گیا۔
بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جس کا اثر عالمی سطح پر بھی دکھائی دیتا ہے۔ 2024 میں، بھارت کا عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں رینک 161ویں نمبر پر گر گیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار کی صورتحال کتنی خراب ہو چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا، صحافیوں، اور نقادوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں بھارت کا بین الاقوامی تشخص مزید داغدار ہو رہا ہے۔
نہ صرف میڈیا بلکہ اقلیتوں کے خلاف حکومتی اقدامات نے بھی بھارت کو عالمی انسانی حقوق کے پلیٹ فارمز پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شمال مشرقی ریاست منی پور میں جاری تشدد اور حکومت کی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی معمول بن چکی ہے۔
بھارت کی عالمی درجہ بندیوں میں گراوٹ، چاہے وہ پریس فریڈم انڈیکس ہو، گلوبل پیس انڈیکس، یا ہیومن رائٹس انڈیکس، ایک افسوسناک حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی سطح پر بھارت کی تنزلی اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں جمہوری اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پامالی جاری ہے۔
بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس نے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ انڈین حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات نے بھارت کی عالمی درجہ بندیوں میں تیزی سے گراوٹ کو جنم دیا ہے۔
مگر یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ان لاکھوں کی قربانیاں، جو آزادی کے لیے دی گئیں، بھلا دی گئی ہیں۔ آج بھی مسلمانوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں ہوتا، اور وہ اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے، اور ان کی آواز دبائی جا رہی ہے۔
آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کی قربانیاں، خواہ وہ 1857 کی جنگ ہو یا 1947 کی تحریک، ان تمام واقعات کا مقصد یہ تھا کہ بھارت ایک ایسا ملک بنے گا جہاں سب کے حقوق برابر ہوں گے، لیکن افسوس کہ آج یہ خواب ادھورا نظر آتا ہے۔ مسلمانوں کو ہر شعبے میں پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، ان کی تعلیم، معیشت، اور سیاسی قوت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
مگر کب تک؟ ہم مایوسیوں والے نہیں ہیں۔ ہم اندھیروں میں روشنی کا دیا روشن کرنے والے ہیں۔ ہم سچائی والے ہیں۔ آؤ ایک ہو جائیں، ایک جماعت حق پر کھڑی ایک قوم۔ *حق کی سچائی* کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس حق کا حق ادا کرنے کیلئے انصاف اور سچائی کے نام پر، ہم ایک ہاتھ پر بیعت کریں۔
جس دن سچائی کی حکمرانی ہوگی، وہی دن آزادی کا دن ہوگا۔ ہاں، باطل نظام سے آزادی کا دن، ان شاء اللّٰہ۔
آج ہم جسمانی طور پر آزاد ہیں، لیکن فکری طور پر غلام ہیں۔ ایسا جشنِ آزادی بیکار ہے، جہاں اپنی تہذیب پہ شرمندگی اور مغربی ثقافت پہ فخر کیا جائے۔ یہ جیت کا تماشا نہیں، بلکہ اغیار کی برتری کا اقرار ہے۔ اپنی زبان سے بے اعتنائی اور غیر زبان کو عزیز سمجھنا، احساسِ کمتری کا بدترین اظہار ہے۔
آج خنجر محافظ کے ہاتھ میں ہے اور بیٹیاں زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ہے وطن کے سپوت کی غیرت کا معیار؟ کرپشن، لوٹ مار، بدیانتی اور بے دینی کے باوجود امیر طبقے کو وطن سے محبت ہے۔ جہاں شراب خانے عزت کی جگہ بن گئے ہیں، اور مدارس دہشت گردی کے مراکز قرار دیے جا رہے ہیں۔ حکمران ہر چیز کا اختیار رکھتے ہیں۔
اگر میری سرزمین کو کبھی انصاف کی حکمرانی نصیب ہوئی، تو یہی وہ آزادی ہوگی جس کا میں انتظار کر رہا ہوں۔
بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک نے اس خواب کو ادھورا کر دیا ہے جو آزادی کے وقت دیکھا گیا تھا۔ آج بھی وہ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، اور ان کی جدوجہد جاری ہے۔ جب تک انصاف اور برابری کا بول بالا نہیں ہوگا، تب تک آزادی کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔
مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے، یہ وقت ہے کہ وہ اپنی آواز کو بلند کریں اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔ ان کی جدوجہد اور قربانیاں آج بھی جاری ہیں، اور ان کی تحریک آزادی کا اصل مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب وہ اپنے حقوق حاصل کر لیں گے۔
بھارت کی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر بھی تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی، اور آزادی اظہار کی دباؤ نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا یہی وہ بھارت ہے جس کا خواب آزادی کے وقت دیکھا گیا تھا؟
اصل آزادی کا حصول اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم مل کر اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونگے۔ انصاف، برابری، اور حقوق کی جنگ میں ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنے حقوق کیلئےجدو جہد کرنی ہوگی، اور اسی وقت ہم ایک حقیقی آزاد قوم بن سکیں گے ۔
