”حادثے بول کر نہیں آتے”

مضامین
از:.۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349
سڑکیں دو شہروں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ دو تہذیبوں کو بھی جوڑتی ہیں،اور بعض مرتبہ تھوڑی سی لاپرواہی بندوں کو مالکِ حقیقی سے دائمی طور پر جوڑ دیتی ہیں۔سڑکیں چارکول، کنکر، پتھر کے علاوہ انسانوں کے خاک و خون اور ہڈیوں کی آمیزش سے مل کر بنی ہیں۔یہ بات اظہر من الشمس ہے جہاں سڑکیں جتنی عمدہ ہونگی وہاں حادثات میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہوگا۔ویکی پیڈیا کے مطابق ساری دنیا میں ہندوستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر موجود معلومات کے مطابق ریاستی اور قومی شاہراہوں پر حادثات کی تعداد 2023 میں 35,243 سے بڑھ کر 2024 میں 36,084 ہو گئی، جبکہ اموات کی تعداد 0.2 فیصد کم ہو کر 2023 میں 15,366 سے 15,335 ہو گئی۔ ٹریفک پولیس افسران کا کہنا ہے کہ حادثات کی سب سے بڑی وجہ تیز رفتاری ہے جبکہ 67 فیصد موٹر سائیکل گاڑیوں کی اموات بغیر ہیلمٹ سواری کی وجہ سے ہوئیں ہیں ۔ بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو اکثر حادثات کی وجہ تیز رفتار ی ہے۔موجودہ زمانے میں لوگوں نے راستوں کو کھیل کا میدان بنا رکھا ہے، ہر فرد خود کو آگے رکھنے کی فکر و کوشش میں ہے۔جیسے نعیم ؔ اختر صاحب نے یہ شعر خاص انہی کے لئے کہا ہو۔
ترقیوں کے دوڑ میں اسی کا زور چل گیا
بنا کے اپنا راستہ جو بھیڑ سے نکل گیا
ہر دن اخبار کے کسی نہ کسی صفحے پر حادثے کی خبر ضرور ملتی ہے۔ملک کی قومی شاہراہوں سے لے کر گاؤں کی دیہی سڑکوں تک حادثات ایک عام سی بات ہوگئے ہے۔موجودہ دور کا انسان زندگی کے ہر شعبے میں سب سے آگے رہنا چاہتا ہے جو ایک ناممکن سی بات ہے۔اب آیئے جانتے ہیں آخر حادثے ہوتے کیسے ہیں۔ایک شخص ہے جو پر سکون عام رفتار سے گاڑی چلا رہا ہے۔ اگر پیچھے سے کوئی دوسری کار اس کی اورٹیک کر کے نکل جائے تو اس کے اندر کا سویا ہوا مائکل شماکر جاگ اٹھتا ہے اور کہتا ہے اچھا۔۔۔! تم میری گاڑی کی اورٹیک کرو گے، اپنی سواری کی رفتار بڑھا دیتا ہے،کبھی وہ آگے تو کبھی یہ پیچھے اسی رسا کشی کے دوران مقابل سے کوئی تیز رفتار گاڑی آجاتی ہے اور دھڑام۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اُس کا ہاتھ اِدھر،اُس کی کھوپڑی اُدھر، چند بھلے لوگ کھڑے تو ہوجاتے ہیں مگر اکثر و بیشتر لوگ تو ویڈیو اور تصاویر نکالنے میں مصرو ف رہتے ہیں۔کچھ دیر بعد ایمبولنس آتی ہے اور خون آلود اجسام کو سمیٹ کر گاڑی میں ڈال دیا جاتا ہے، اِکا دُکا بچ بھی گیا ہو تو ٹرافک میں کھڑی گاڑیوں کی بے حساب قطار اسے مار دیتی ہے۔جو لوگ اس حادثے کے چشم دید گواہ تھے دو چار دنوں اس واقع کو یاد رکھتے ہیں اور پھر ”وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے”
اگر ضلعی راستوں اور دیہی سڑکوں کی بات کی جائے تو یہاں راستے کم اور گڑھے زیادہ ہیں، ان راستوں پر حادثات ہونے کی اہم وجہ گنے اور مویشیوں کے چارے سے لدے ٹرائیکٹرس ہیں جو اس میں اتنا چارا لادتے ہیں  کہ پیچھے سے آنے والا موٹر سائیکل سوار ان کو نظر ہی نہیں آتا، بارہا موٹر سائیکل سوار ہارن بجاتا ہے مگر ٹرائیکٹر ڈرائیور اتنی زور دار ٹیپ ریکارڈر بجاتا ہے کہ  اسے کچھ سنائی ہی نہیں دیتا مجبور ہوکر موٹر سائیکل سوار اورٹیک کرنے کی کشمکش میں اپنی جان گنوا دیتا ہے۔گلی محلوں میں تو جوانوں نے حد ہی کردی ہے، اتنی تیز رفتار موٹر سائیکل چلاتے ہیں گویا یہ محلہ نہیں ہوائی جہاز کا رن وے ہو،اس کے علاوہ جگہ جگہ غیر ضروری رفتار شکن بنانا، شراب پی کر گاڑی چلانا،ناتجربہ کار ڈرائیورس کا گاڑیاں چلانا،ایسی کئی ساری وجوہات ہیں جس کی وجہ سے لوگ حادثوں کا شکار ہو جاتے ہیں،کسی نے سچ کہا ہے ”دُر گھٹنا سے دیر بھلی ہے” اس لئے ہمیں بھی چاہیئے کہ زندگی  کو پر لطف بنانے کے لیئے سواریاں پُر سکون انداز میں چلائیں ۔ ۔ ۔