لاک ڈائون کے بعد بھی ٹرک مالکان کا ہورہاہے بُراحال

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
مالک بچیں یانہ بچیں ڈرائیور کو بچانا مجبوری ہوگئی ہے
شیموگہ:۔لاک ڈائون کے بعد سےجہاں مختلف صنعتیں ،پیشےاور روزگار متاثر ہوچکے ہیں وہیں ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی پوری طرح سے درہم برہم ہوچکاہے ،خصوصاً ٹرک مالکان کی حالت بُری ہوچکی ہے۔ٹرانسپورٹ بزنس سے جڑے ہوئے ٹرک مالکان جو ایک دوٹرک رکھ کر اپنی زندگی گذار رہے تھے،ان کی حالت اس قدر بری ہوچکی ہے کہ وہ خود بچیں یانہ بچیں مگر ڈرائیور ،کلینر کو بچانا ان کی مجبوری بن چکی ہے۔شیموگہ ضلع کے ٹرک مالکان کے حالات کاجائزہ لیاگیاتو ان کی حالت بے حد خراب معلوم ہوئی ہے۔شیموگہ سے ادرک،باغاتی فصلیں،سپاری،کیاسٹنگ،گڈ جیسی اشیاء بیرونی علاقوں کو سپلائی کئے جاتے ہیں۔مگر لاک ڈائون کے دوران ان اشیاء کی مانگ میں کمی آنے کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن بزنس متاثررہا۔ایسے میں بہت کم ٹرک سڑکوں پر اُترے تھے۔دوسری جانب ٹرک مالکان کو بروقت انشورنس کی ادائیگی،ایف سی چارجس،ٹیکس وغیرہ اداکرنا بھی پڑاتھا۔اس سے بڑھ کر ٹرکوں کی خریدی کیلئے بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی قسطیں اور سود بھی ادا کرنا پڑرہاہے۔پچھلے سال لاک ڈائون کے دوران حکومتوں نے بینکوں اور فائنانس کمپنیوں کو موراٹوریم یعنی قرضوں کی ادائیگی کیلئے مہلت دی تھی،مگر یہ مہلت زحمت بن کر اُبھری ،کیونکہ حکومت نے بینکوں اور فائنانس کمپنیوں کو تین مہینوں تک قرضہ جات کا مطالبہ نہ کرنے کی ہدایت دی تھی،مگر قرضوں پر سود کو لینا منسوخ نہیں کیا تھا بلکہ سود پر سود لیاگیاتھا۔مثلاً اگر ٹرک مالک کو اپنے ٹرک کی قسط20 ہزار روپئے اصل رقم اور 3ہزار روپئے سود کی رقم اداکرنی ہے تو موراٹوریم کی وجہ سے اس رقم کو اداکرنے کیلئے مہلت تو دی گئی مگر بعد میں انہیں23 ہزار روپئے کے ساتھ مزید6 ہزار روپئےاداکرنے پڑے ،جس سے جملہ9 ہزار روپئے20 ہزار روپئے کی اصل رقم پر اداکرناپڑا۔ایک طرف کرایہ نہیں ہیں تو دوسری طرف قرضوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے بینکوں اور فائنانس کمپنیوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں کہ انہیں یا تو قرض اداکرنا پڑیگا یا پھر ان کے ٹرک ضبط کرلئے جائینگے۔اس خوف سے کچھ ٹرک مالکان خودہی اپنے ٹرکوں کوانشورنس کمپنیوں کے حوالے کرنے لگے ہیں۔لاک ڈائون کی وجہ سے جہاں کرایوںکی کمی،قرضہ جات اور سودکی ادائیگی سے پریشانیاں ٹرک مالکان کو دیمک کی طرح کھائی جارہی ہیں،وہیں مرکزی حکومت اژدھے کی طرح ٹرانسپورٹ بزنس کو نگلتا جارہی ہے۔جی ایس ٹی،روڈ ٹیکس میں جہاں اضافہ کیا گیاہے وہیں انشورنس کی قسطوں میں بھی اضافہ ہواہے،رہی سہی کسر ڈیزل کی قیمتوں نے پوری کردی ہے۔بتایاگیاہے کہ جب ڈیزل پہلے80 روپئے فی لیٹر تھا تو شیموگہ سے ممبئی کیلئے کرایہ25 ہزار روپئے طئے تھا،اب 100روپئے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت ہونے کے بعد شیموگہ سے ممبئی کا کرایہ20 ہزار روپئے پہنچ گیاہے،یہ اس لئے کہ ٹرک مالکان مجبور ہوگئے ہیں کہ وہ اپنی ٹرک کو کھڑاکر نقصان اٹھانے کے بجائے کم ازکم بینکوں کی قسطیں جمع کرنے کیلئے تو پیسے جمع کرپائیں۔جس طرح سے دیگر شعبوں کیلئے اچھے دن نہیں آئےہیں اُسی طرح سے ٹرک مالکان کو بھی اچھے دنوں کی توقع کرنا بےقوفی سے کم نہیں ماناجارہاہے۔