بنگلورو:۔کوویڈ19 کے چلتے جہاں پچھلے تین عیدوں کو مسلمانوں نے گھروں میں اور مسجدوں کی چار دیواری اداکیاتھا ،اس دفعہ بھی ریاستی حکومت نے بقرعیدکی نمازکو عیدگاہ میں نہ اداکرنے کاحکم دیاہے،اس کے بجائے عیدکی نمازکو مساجدمیں الگ الگ بیاچ کی تشکیل دیکر کووید19 کے شرائط پر عمل کرتے ہوئے اداکرنے کاحکم دیاہے۔اس سلسلے میں ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبودی کے ذریعے کرناٹکا وقف بورڈکو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست بھر میں یہ طئے کرلے کہ بقرعیدکی نمازوں کوعیدگاہوں میں اداکرنے کے بجائے مسجدوں میں اداکیاجائے۔حکومت کا کہناہے کہ کیونکہ عیدگاہوں میں وسیع پیمانے پر لوگوں کا جڑناہوتاہے اور اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھتے ہیں،گلے ملنا،مصافحہ کرنا،ایک دوسرے کےقریب ہوناعیدکے دن کے اہم جز ہیں،اس دن لوگوں کی بڑی بھیڑ کی وجہ سے کوروناکے پھیلنے کے زیادہ امکانات ہوسکتے ہیں،چونکہ آئی سی ایم آر اور مرکزی حکومت کے وزارت صحت عامہ کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ لوگ بڑے اجتماعوں سے اجتناب کریں،تہواروں،جلسوں ،جلوسوں اوراحتجاجوں پر مزید دو مہینوں تک پابندی لگائی جائے،اس لحاظ سے عیدالاضحیٰ کی نماز کو عید گاہوں میں اداکرنے کا موقع نہیں دیاجائیگا،ساتھ ہی ساتھ مسجدوں میں نماز اداکرنے والوں میں 65 سال سے زائد عمرکے بزرگوں اور10 سال سے کم عمرکے بچوں کوبھی مسجد میں آنے کا موقع نہ دیاجائے۔مسجدمیں نمازکی ادائیگی کے دوران سوشیل ڈسٹنس،ماسک لگانے کو لازمی بنایاجائے۔ایسانہ کرنے کی صورت میں مسجدوں کے ذمہ داروں پر معاملہ درج کیاجاسکتاہے۔مزید اطلاع دی گئی ہے کہ قربانی کیلئے بھی احتیاطی تدابیر اختیارکئے جائیں،سڑکوں وفٹ پاتھوں پر قربانی نہ دیا جائے ۔اسکول وکالج،کھیل کے میدان،مساجدکے احاطے،پارک کے احاطوں میں قربانی نہیں دی جاسکتی۔جبکہ عیدکی نماز اداکرنے والے تمام مصلیان اپنے اپنے گھروں سے مصلے یعنی جائے نماز لیکرمساجد پہنچے اور نمازکے فوراً بعد مساجد کو خالی کریں۔
