شیموگہ: کوروناکی ہنگامی صورتحال کے دوران سمس میں ٹھیکداری کی بنیاد پر خدمات کرنے والی خادمہ(دائیوں) کو اچانک برطرف کردینے کی مخالفت میں جئے کرناٹکا اسوسیشن کی ڈسٹرکٹ کمیٹی شعبہ خواتین کی قیادت میں آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی ہے ۔مظاہرین نے الزام لگایا کہ میگان اسپتال میں گزشتہ تین مہینوں سے کوروناکی مشکلات کے دوران کم ازکم 25 ہزار روپئے اور ڈی گروپ ملازمین کو 20 ہزارروپئےتنخواہ دینے کی بات کرتے ہوئے معاہدے کی بنیاد پرملازمت پر رکھا گیا تھا۔لیکن اب اسپتال نے ان تمام ملازمین کو بغیر تنخواہ کے اچانک برطرف کردیا ہے۔ کم از کم 6 مہینوںکی مدت پر کام پر رکھا گیا تھا اورآگے بھی جاری رکھنے کا وعدہ کیا گیاتھا۔لیکن لاک ڈاؤن میں رعایت ملنے اور کورونا کم ہوا ہے یہ بہانہ بتاکر ہر ایک کو تنخواہ دئے بغیر کام سے نکال دینا غیر انسانی سلوک ہے کہتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ ٹھیکدارملازمین اس پر یقین رکھتے ہوئے زندگی بسرکررہے تھے اب اچانک اس فیصلے سے یہ ملازمین خوفزدہ ہوچکے ہیں۔ انہوں اصرار کیا کہ کورونا اب بھی قابو میں نہیں ہےاس لیے کسی بھی وجہ سےان ملازمین کو برطرف نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس بات کی بھی درخواست کی ہے کہ انہیں کورونا وارئرس سمجھا جائےاورفوراً تنخواہ جاری کرنےپر زور دیا گیا ۔ اس موقع پر جیا کرناٹک آرگنائزیشن کی ضلعی خواتین یونٹ کی چیئرپرسن نجمہ ، ضلعی صدر ڈاکٹر دیپک ،نائب صدر سکریٹری عبدالرحیم ، جنرل سیکرٹری پریما ، سٹی صدر تبسم ، ناصر الدین ، انیل ، سکندر ، ستیش اور دیگر موجودتھے۔
