جوہریونیورسٹی کا دروازہ توڑنے کاحکم؛ مسلمان ہمیشہ کی طرح بے حسی کا شکار

سلائیڈر نیشنل نیوز
لکھنؤ:۔بھارت کی تاریخ کیلئے آج کا دن سیاہ دن مانا جا سکتا ہے کیونکہ جس، ملک میں ہزاروں مندر، مسجد طوائف خانے ،شراب خانے غیر قانونی ہیں اسی ملک میں لاکھوں طلباء کو تعلیم دینے کے مقصد سے بنائی گئی ایک یونیورسٹی کو توڑنے کیلئے عدالت احکامات جاری کرتی ہے ۔ جی ہاں ہم بات کررہے ہیں رام پور کی عدالت کی جس نے اعظم خان کے ذریعے تعمیر کردہ عظیم الشان محمد علی جوہر یونیورسٹی کا صدر دروازہ توڑنے کا فرمان جاری کردیا ہے۔ مجاہد آزادی محمد علی جوہر کی طرف منسوب اس یونیورسٹی کے خلاف مقدمہ بھاجپا نیتا آکاش کی طرف سے کیا گیا ہے، اسی سلسلے میں فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کا دروازہ توڑنے کا فیصلہ دیا ہے، کیونکہ بھاجپا نیتا کے ایڈمنسٹریشن کا الزام ہےکہ یونیورسٹی کا دروازہ غیرقانونی ہے اور قبضے پر ہے ۔واضح ہوکہ اعظم خان کو جیل میں ڈال کر ان کی صحت کو تشویشناک حالت میں پہنچایا گیا ہے اور پھر ان کے ذریعے قائم کردہ اسلامی ٹچ رکھنے والی یونیورسٹی پر چھاپے ایسے مارے گئے گویاکہ وہ تعلیمی ادارہ نہ ہو بلکہ کوئی دہشت گردی کی تربیت دینے والامرکز،اب عدالت اس یونیورسٹی کے دروازہ توڑنے کا فرمان جاری کررہی ہے، جس ملک کی عدالتوں کا یہ معیار ہوگیا ہو کہ وہ ایک یونیورسٹی کا دروازہ توڑنے کے فیصلے صرف اس لیے سنا رہی ہےکہ اس کا بانی مسلمان ہے اور اس کی نسبت بھئ ایک مسلمان قومی ہیرو کی طرف، سوچیے جہاں کے سسٹم میں تعلیمی دانشگاہوں کے تئیں ایسا رجحان پنپ رہا ہوں وہاں ایجوکیشن اسٹرکچر کا کیا حال ہوگا؟ اور تعلیم کی کیا قدر و ترقی ہوگی؟ویسے تعجب کیوں کریں؟ کہ جس بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو توڑنے والے ہندوتوا مجرموں کو پناہ دے کر غیرقانونی رام مندر کا راستہ صاف کیا ہو اُس بھارت کی ذیلی عدالتیں اگر محمد علی جوہر یونیورسٹی پر بلڈوزر چلوانے کا ارادہ نہیں کریں گی تو اور کیا کریں گی؟۔ اس وقت وہ لوگ بھی تماشائی ہیں جو دن رات رونا پیٹنا کرتےہیں کہ آزادی کےبعد سے مسلمانوں کے پاس دانشگاہ  یا یونیورسٹی کی صورت میں اضافہ نہیں ہوا، مسلمانوں کو یہ ہرگز بھولنا نہیں چاہئے کہ اعظم خان کو مسلمانوں کی ایک باوقار آواز ہونے کی بھی سزا مل رہی ہے، محمد علی جوہر یونیورسٹی بنانے کی بھی سزا مل رہی ہے، لیکن یہ پورا معاملہ اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ ہر پارٹی میں جتنے بھی ایسے مضبوط مسلمان ہوں گے ان کےساتھ برہمنی ہندوتوا کا شیطانی اقتدار یہی سلوک کرے گا، احسان جعفری سے اعظم خان تک مسلم لیڈرشپ کی بے حسی میں عبرت ہی عبرت ہے۔