دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔آسام ہائی کورٹ نے ریپ کے الزام میں ملوث آئی آئی ٹی کے طالب العلم کو ضمانت پر رہاکیا ہے ۔ عدالت کے جج نے یہ دلیل دی ہے کہ ملزم طالب العلم ہے، وہ آئی آئی ٹی میں زیر تعلیم ہے اوربھارت کا مستقبل ہے،اس وجہ سے اس کی زندگی تباہ ہونے سے بچانا چاہیے،اس بنیاد پر عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کرتی ہے۔ابتدائی جانچ ،ایف آئی آر اور شواہد کاجائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی آئی ٹی کا طالب العلم ملزم ہے اور اس نے آئی آئی ٹی کی طالبہ کا ریپ کیاہے۔دونوں ہی طلباء آئی آئی ٹی کے اسٹوڈینٹس ہیں اورالگ الگ ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں،ملزم نے طالبہ کو بہلاپھسلاکرریپ کیا تھا ۔ عدالت نے جس طرح سے عصمت دری کے ملزم کو ضمانت پر رہاکیاہے وہ بات ہندوستان کے عدلیہ کے نظام میں چونکا دینے والی بات ہے ۔ جنگ آزادی سے پہلے ہویا جنگ آزادی کے بعد کسی بھی عدالت نے آج تک کسی طالب العلم کو جو عصمت دری یا دوسرے جرائم میں ملوث رہاہو اُسےاُس کے مستقبل کی بنیاد پر ضمانت نہیں دی ہے، بلکہ طئے شدہ وقت اور قانون مراحل کو پار کرنے کے بعد ہی ملزمان کو ضمانت دی ہے۔گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعدیہ سوال بھی اٹھتاہے کہ ایک ریپ کرنے والے کو عدالت اُس کے مستقبل کو بنیادبناکر ضمانت پررہائی کرتی ہے تو اُسی ملک کے وہ طلباء جو بھارت کے آئین کو بچانے ،اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کیلئے سڑکوں پر اُترتے ہیں تو عدالت انہیں ضمانت دینے کے بجائے اُن پرعائد ہونے والے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی سنوائی کیلئے مہینوں وقت لگا دیتی ہے ۔پچھلے سال دہلی کے جے این یو،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے50 سے زائد طلباء کو این آر سی اور سی اےا ےکو ہٹانے کے مطالبات کو لیکراحتجاج کررہے تھے تو اُنہیں گرفتارکیاگیا اور اُن پر آج بھی عدالتوں میں درجنوں مقدمات کے تحت سنوائی ہورہی ہے جبکہ وہ بھی اسٹوڈینٹس ہی ہیں اور یہ طلباء بھی بھارت کے مستقبل ہیں،تو انہیں کیوں ضمانت دینے کیلئے عدالتیں تیارنہیں ہیں، جبکہ یہ طلباء کسی کریمنل یا طلباء برادری کو دغدار کرنے والی حرکتوں میں ملوث نہیں تھے ، بلکہ سیاسی جہدکار قرار دئیے گئے تھے ۔ کیا عدالیہ کا یہ دوہرا معیاربھارت کے عدالتی نظام پر سوال نہیں اٹھائیگا؟۔
