کورونا ٹیکہ کاری میں کچھ ممالک بہت آگے، تو کچھ انتہائی پیچھے

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی :(انقلاب نیوزبیورو):۔کورونا انفیکشن کے خلاف جنگ میں ٹیکہ کاری کو سب سے بڑا اسلحہ تصور کیا جا رہا ہے، اور کچھ ممالک نے تیز رفتار ٹیکہ کاری کے ذریعہ 50 فیصد سے زائد باشندوں کو ٹیکہ لگا دیا ہے، لیکن کچھ غریب ممالک ایسے بھی ہیں جہاں ٹیکہ کاری کا عمل انتہائی سست ہے۔ اس تعلق سے ڈبلیو ایچ او نے فکر مندی کا اظہار بہت پہلے ہی کر چکا ہے اور امیر ممالک سے یہ گزارش بھی کی ہے کہ غریب ممالک کی مدد کریں۔بہر حال، اس وقت پوری دنیا میں 5 بلین سے بھی زائد آبادی کو کووڈ کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ اس عمل میں سب سے آگے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے جس نے اب تک کل آبادی کے 86 فیصد لوگوں کو ٹیکہ لگا دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں سے 76 فیصد آبادی کو ویکسین کی دونوں خوراک دے دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای میں سماجی و معاشی سرگرمیاں تیزی سے شروع ہو گئی ہیں۔ویسے دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جنھوں نے 50 فیصد لوگوں کو ٹیکہ لگا دیا ہے۔ ان میں سنگا پور، امریکہ، قطر، کناڈا، اٹلی، جرمنی، برطانیہ، ڈنمارک، اسرائیل، اسپین، بھوٹان، فرانس، بلجیم وغیرہ ممالک شام ہیں۔ ہندوستان، روس، پاکستان، جاپان، برازیل، چین، ترکی، پناما، سری لنکا جیسے ممالک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹیکہ کاری 50 فیصد کے نیچے ہوئی ہے۔ اس کے کئی اسباب ہیں، مثلاً ٹیکہ کی کمی، بڑی آبادی، کمزور نظامِ صحت وغیرہ۔جہاں تک ہندوستان کی بات ہے، پورے ملک میں ٹیکہ کاری کا عمل تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ فی الحال ہندوسان میں کل آبادی کے 35 فیصد لوگوں کو کووڈ کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ 10.3 فیصد لوگ ایسے ہیں جنھیں ویکسین کی دونوں خوراک مل چکی ہے۔ گویا کہ تقریباً 25 فیصد لوگوں کو صرف پہلی خوراک ملی ہے۔