نیویارک:(انقلاب نیوزبیورو):۔طالبان مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان کی حکومت میں خواتین کو شریعت کے مطابق کام کی اجازت ہو گی لیکن اب طالبان ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت میں خواتین کو کوئی وزارت نہیں ملے گی۔خواتین سے متعلق طالبان کے موقف پر بین الاقوامی برادری اب بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ دوسری جانب افغان خواتین جو جمہوری حکومتوں میں کئی اہم عہدوں پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں وہ بھی تذبذب کا شکار ہیں۔کئی دیگر خواتین کی طرح افغان فوج میں خدمات انجام دینے والی ہزاروں خواتین اہلکار و افسران فکر مند ہیں کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ کیا طالبان انہیں اسی طرح کام کی اجازت دیں گے جس طرح وہ سابق حکومتوں میں کرتی رہی ہیں؟مزاری امانی افغان فوج میں شامل ان چند خواتین جنرلز میں سے ایک ہیں جو 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک چھوڑ گئی تھیں۔مزاری امانی ان دنوں فرانس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ان ساتھیوں کے لیے فکر مند ہیں جو اب بھی افغانستان میں ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ملک نہیں چھوڑ سکی تھیں۔ان کے بقول فوج میں خدمات انجام دینے والی کئی خواتین ان سے رابطہ کر کے کہتی ہیں کہ طالبان اْن کی تلاش میں ہیں اور وہ راتوں کو ان کے گھروں میں چھاپے مار کر ان کے بارے میں اہلِ خانہ سے پوچھ گچھ کرتے ہیں۔مزاری امانی نے کہا کہ ان کی ساتھی اہلکار انہیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں اور ان سے سوال کرتی ہیں کہ ایسا کب تک چلے گا۔مزاری نے کہا کہ انہیں اپنی ساتھیوں کی روزانہ اس طرح کی درجنوں فون کالز موصول ہوتی ہیں جو ان سے کہتی ہیں کہ وہ افغان خواتین اہلکاروں کی مدد کریں اور ان کی آواز دنیا کے سامنے اٹھائیں کیوں کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔طالبان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خواتین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے سخت گیر موقف رکھتے ہیں تاہم طالبان کا اب یہ موقف ہے کہ وہ ماضی کی پالیسیوں کا تسلسل جاری نہیں رکھیں گے اور خواتین کو شریعت کے مطابق کام کرنے کی اجازت دیں گے۔
