افغانستان:تمام بینکوں کوبلا سودی کاروبار کی ہدایت، اسلامک بینک آف افغانستان کی کارکردگی میں اضافہ; بینک کے صدراور سی ای اوسید موسیٰ کلیم کاحیدرآباد سے تعلق

سلائیڈر نیشنل نیوز
حیدرآباد: افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کابل میں عام زندگی بتدریج بحال ہورہی ہے اور دو ہفتوں کے بعد بینکوں کی کشادگی عمل میں آئی۔ بینکنگ سرگرمیوں کے احیاء کے نتیجہ میں بینکوں پر رقومات کے حصول کیلئے زبردست ہجوم دیکھاجارہا ہے۔ افغانستان کے سنٹرل بینک جسے ریزرو بینک بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس نے وڈرال کی حد 10 ہزار روپئے مقرر کی ہے۔ اسلامک بینک آف افغانستان ملک کا واحد اسلامی بینک ہے اور موجودہ حکومت کے احکامات کے مطابق تمام دوسرے بینکوں کو بھی اسلامک بینکنگ اختیار کرنی ہوگی۔ اسلامک بینک آف افغانستان کے صدر اورچیف ایگزیکٹیو افیسرسید موسیٰ کلیم فلاحی کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور وہ مختصر دورہ پر شہر میں موجود ہیں۔ آندھرا پردیش قانون سازاسمبلی کے سابق سکریٹری اورجماعت اسلامی کے سابق سکریٹری سید یوسف مرحوم کے فرزندہیں۔ سید موسیٰ کلیم نے 2019 میں اسلامک بینک آف افغانستان کے صدروچیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی جبکہ اپریل 2018 میں بینک کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل وہ دبئی اور قطر اسلامک بینکس میں تقریباًدودہوں تک نمایاں خدمات کا تجربہ رکھتے ہیں۔ سید موسیٰ کلیم نے بتایا کہ کابل میںطالبان کے داخلہ کے بعد غیر یقینی صورتحال تھی جس کے نتیجہ میںبینکوں کو بند کردیا گیا تھا۔ امریکی افواج کی واپسی کے بعد موجودہ حکمرانوں سے باقاعدہ سیکوریٹی حاصل کرنے کے بعد سنٹرل بینک آف افغانستان نے بینکوں کو کشادگی کا مشورہ دیا ہے۔ بینک کی تقریباً60 برانچس ہیں اور ملازمین کی تعداد900 سے زائدہے۔ دیگر کمرشیل بینکوں کی طرح اسلامک بینک آف افغانستان کے اے ٹی ایم اوردیگر خدمات نے کسٹمرس کی مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلاسودی بینکنگ سے عوام کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم عرصہ میں اسلامک بینک آف افغانستان منافع بخش ادارہ میں تبدیل ہوگیا۔ سید موسیٰ کلیم کے مطابق آئندہ چندماہ میں افغانستان میں بینکنگ سرگرمیاں وسعت اختیار کریںگی اورامکان ہے کہ سرکاری اور خانگی بینکس بتدریج خود کو بلاسودی بینکنگ میں تبدیل کریںگے۔ موسی کلیم نے کہا کہ طالبان کے تبدیل شدہ موقف اور شدت پسندی میں کمی کا عوام کی جانب سے خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ ابتداء میں لوگ بڑی تعداد میں دیگر ممالک کو منتقلی کی کوشش کررہے تھے، لیکن حکومت کے اعلانات کے بعد صورتحال بتدریج معمول پر آرہی ہے۔ اسلامک بینک آف افغانستان میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے کئی ملازمین ہیں ۔ بینک کے بانی اورصدر کا ہیڈکوارٹر دبئی میں ہے جہاں سے بینک کے امور کی نگرانی کی جاتی ہے۔ (بشکریہ سیاست)