ہنسوڑو دھماکہ :متاثرین کا اعلیٰ پیمانے پراحتجاج

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ ہنسوڈو دھماکہ کے معاملے میں نقصان اٹھانے والے متاثرین نے بڑے پیمانے پر آج ڈپٹی کمشنر دفتر پر جمع ہوئے اورپُرزور مطالبہ کیاگیا کہ اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی سے کروائی جائے اور دھماکے کے دوران جن مکانوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے انہیں فوراً معاوضہ جاری کیاگیا۔ نوا کرناٹکا نرمانا ویدیکے کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں متاثرین بڑی تعداد میں پیدل سفر کرتے ہوئے احتجاج کے ذریعہ ڈپٹی کمشنر دفتر پہنچ کر درخواست پیش کی ہے۔ شیموگہ شہر کے باہری علاقے ہنسوڑو کے قریب رواں سال جنوری کی 21 تاریخ کی رات پتھر کی کانکنی کیلئے استعمال ہونے والے غیر قانونی دھماکہ خیز مواد جلیٹن کے دھماکے نے موقع پر 6 لوگوں کی جان لے لی اور جائے وقع کے آس پاس والے گائوںکے رہائشی مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔اتنا ہی نہیں اس دھماکے کی شدت کی وجہ سے شیموگہ سمیت آس پاس کے اضلاع میں بھی زلزلے کا احساس کروایا تھا۔ ضلعی انتظامیہ ، محکمہ پولیس ، محکمہ مائنز اور جیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی غفلت کی وجہ سے سینکڑوں دیہاتیوں کو لاکھوں کا نقصان اٹھا نا پڑا ہے۔ احتجاجیوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نقصان اٹھانے والے قریب 850 متاثرین نے اپنے نقصان کی بھرپائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضیاں داخل کی تھیں لیکن ان عرضیوں کو داخل ہوئے بھی 8 ماہ کا عرصہ گذرچکا ہے لیکن ضلع انتظامیہ نے ابھی تک متاثرین کو راحت پہنچانے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اس کے علاوہ کئی دفعہ ضلع انتظامیہ سے درخواست کی گئی ہے کہ حقیقی ملزمین پر کارروائی کریں۔لیکن افسوس کہ اصل ملزم کو آزاد چھوڑ کر کیس کے حقائق کو پوشیدہ رکھنے کی سازش کی جارہی ہے۔بظاہر پولیس کی تفتیش میں خامیاں ہیں اسے درست کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ طور پر اور منصفانہ طریقے سے تحقیق کیلئے اس معاملے کو سی بی آئی کے سپرد کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ احتجاج میں تنظیم کے ضلعی صدر گورمیش گوڑا، سنتوش، دیویندرپا، ناگراج، نینا، ننگراج، راجو ،گوجر، لوکیش، لکشمن ، آصف ، شیونا وغیرہ موجودتھے۔