بیلگاوی : مسلم نوجوان ارباز کے قتل میں اہم ملزم پنڈلک مہاراج سمیت 10 افراد گرفتار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بیلگاوی:۔ کر ناٹک پولیس نے 24 سالہ مسلم نوجوان ارباز آفتاب ملا کے قتل میں بڑی کارروائی کی ہے ۔ بیلگاوی پولیس نے اس معاملے میں 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں پنڈلک عرف مہاراج جو شری رام سینا کے تعلقہ صدر شامل ہیں ۔ پنڈلک کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 302 (قتل)، 201( شواہد کی گمشدگی )،34( مجرمانہ کارروائی )، 341( غلط روک تمام )،120 بی (سازش)، 384 ( بھتہ خوری) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ ملا کی لاش 28 ستمبر کوریلوے ٹریک پر ملی تھی۔ اس معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے بیلگاوی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ لکشمن نمبرگی نے بتایا کہ اربا زملا کا مبینہ طور پرسو یتا نامی ایک ہندولڑ کی کے ساتھ تعلقات پر سر قلم کیا گیا تھا۔ ازباز ملا کی ماں نجمہ محمد شیخ نے اس کی موت کے ایک دن بعد شکایت درج کرائی تھی کہ سو یتا کے گھر والوں نے اس رشتے کو منظور نہیں کیا۔ تو اس نے ارباز کو دھمکی دی۔ اس نے دعوی کیا کہ اس نے اسے خانہ پور سے بیلگاوی منتقل کرنے پر مجبور کیا۔ 28 ستمبر کو پولیس نے اس کےکٹے ہوئے اعضاء ریلوے ٹریک پر پائے جانے کے بعد غیر فطری موت کا مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد ازاں پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ازباز ملا کو قتل کیا گیا ہے اور اس کی لاش کو پٹریوں پر رکھا گیا ہے ۔ تفتیش کے مطابق سو یتا کے والد نے مبینہ طور پر ار باز اور اس کی والدہ کو 26 ستمبر کو ان پر بلایا تھا اور پنڈلک نے انہیں رشتہ ختم کرنے کی وارننگ دی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ ارباز کافون چھین لیا گیا۔ تمام پیغامات اور تصاویر حذف کر دی گئیں۔ بعد ازاں 28 ستمبر کو پولیس کو معلوم ہوا کہ پنڈلک نے ارباز کو دوبارہ خانہ پور بلایا تھا جبکہ اس کی ماں گوا میں تھی ۔ اس نے مبینہ طور پر اس سے رقم لی اور بعد میں 24 سالہ ارباز آفتاب کو قتل کر دیا۔ پولیس نے بتایا کہ ہندو تنظیم کے لیڈر نے شواہد کو تباہ کرنے کے لیے لاش کو ریلوے ٹریک پر پھینک دیا۔ زائد تفتیش کے دوران پولیس کو پتہ چلا کہ شویتا کے والد ین ایر پا کمار اور سشیلانے ارباز کے قتل کے لیے پنڈ لک کو پیسے دیے تھے ، کیونکہ انہوں نے اس رشتے کو منظور نہیں کیا تھا۔