شیموگہ:سندھگی اور ہانگل ضمنی انتخابات میں کمارسوامی نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیکر مسلم کارڈ کھیلنے کا جو منصوبہ بنایاتھا،وہ پوری طرح سے فلاپ شو ثابت ہواہے اور دونوں ہی اسمبلی حلقوں میں جے ڈی ایس کے امیدواروں کو بدترین شکست کا سامنا کرناپڑاہے،یہاں تک کہ دونوں امیدوار ڈیپازٹ بھی گنواں چکے ہیں۔ضمنی انتخابات کے دوران کماسوامی سندھگیکی نازیہ شکیل احمد انگڈی اور ہانگل نیاز شیخ کو باربار بتابتاکر یہ سوال کررہے تھے کہ کانگریس اگر واقعی میں مسلمانوں کی ہمدردہے تو وہ مسلمان کو ٹکٹ دیکر بتائے۔لیکن اسی دوران دونوں ہی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ سندھگی اور ہانگل میں کمارسوامی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیکر بی جے پی کوفائدہ پہنچانے کی کوشش کررہے تھے،لیکن انہیں اس منصوبے میں کامیابی نہیں ملی۔دریں اثناء ضمیر احمدنے بھی اپنے تشہیری جلسوں میں جے ڈی ایس کو بی جے پی کی ہمدرد پارٹی کہاتھا۔دونوں ہی جگہ پر جے ڈی ایس کے امیدواروں کو ملنے والی شکست کانگریس کیلئے ایک تحفہ ثابت ہواہے اور اب کانگریس کہیں بھی مسلمانوں کی طرف سے ٹکٹ پوچھے جانے پر بآسانی یہ دلیل دے سکتی ہے کہ ٹکٹ لینے پر ہانگل اور سندھگی کے جیسے حشر ہوگا،اس لئے خاموشی اختیارکریں۔کمارسوامی نے کس بنیادپر مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیاتھا،اس کا اندازہ تو نہیں ہورہاہے،البتہ یہ سوال اٹھایاجارہاہے کہ کیا واقعی میں کمارسوامی کی نیت مسلمانوں کو لیکر صاف ہے۔
