دہلی:۔ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے احتجاج کو اس ماہ ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔ ایسے میں کسان دہلی مارچ کی تیاری کر رہے ہیں۔ تحریک کی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ 22 نومبر کو لکھنؤمیں ہماری مہاپنچایت ہے، اس میں مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کو برطرف کرنے کے علاوہ دھان اور گنے کی ادائیگی کا مسئلہ بھی شامل ہے اوردہلی میں مظاہرے کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ ہم اپنی جدوجہدکو مزید تیز کریں گے۔ راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ حکومت نے کہا ہے کہ راستہ کھلا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ راستہ نہیں روکاجا سکتا۔ ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے اردگرد بڑے پارکس ہیں، کہیں جگہ ملے گی، ہم وہاں دھرنا دیں گے۔ راجستھان، یوپی، پنجاب، ہریانہ اور اتراکھنڈ میں پروگرام نہیںہوگا جبکہ دیگر ریاستوں کے دارالحکومتوں میں پروگرام منعقد ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ 29 تاریخ کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے۔ غازی پور بارڈر سے کسان یہاں کے لیے روانہ ہوں گے۔ جب ان سے الیکشن کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ آتے ہی ہم اپنی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیاہائی سکیورٹی زون کی وجہ سے وہاں داخلہ ہو گا،راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ جہاں پولیس ہمیں روکے گی، ہم دھرنے پر بیٹھیں گے۔ ہم پولیس سے نہیں لڑیں گے ۔ ہم باہر والے نہیں، ہمیں کہہ کر پارلیمنٹ جا رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ پانچ ریاستوں میں پروگرام کیوں نہیں کیے جا رہے ہیں، راکیش ٹکیت نے جواب دیاہے کہ وہ یہاں کے بہت قریب ہیں، اس لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ 22 کے اجلاس میں اس پر بھی غور کیا جائے گا۔
