دہلی:۔اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایاہے کہ بلدیاتی اداروں کے امیدواروں کاانتخاب براہ راست عوام کے ذریعے ایک جمہوری طریقہ کار سے ہوتا ہے اور ان اداروں کیلئے انتخابات متعلقہ ریاستی حکومت کے ذریعے بنائے گئے قوانین کے مطابق اور ریاستی انتخابی کمیشن کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ سبھی ریاستی حکومتوں کو پنچایتی راج کی وزارت اور ہاؤسنگ و شہری امور (پہلے شہری ترقیات کی وزارت) کے ذریعے صلاح دی گئی ہے کہ وہ بالترتیب دیہی اور شہری بلدیاتی اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی کو بہتر بنائیں ۔ حکومت نے ملک بھر میں اقلیتوں بالخصوص اقتصادی نقطہ نظر سے کمزور اور پسماندہ طبقات سمیت سماج کے سبھی طبقات کی فلاح و بہبودکے یلے متعدد اسکیموں کا نفاذ کیا ہے، جن میں پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم جے اے وائی، پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی)، پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان)، پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی)، پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی)، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ یوجنا وغیرہ شامل ہیں۔اقلیتی امور کی وزارت مرکزی سطح پر نوٹیفائڈ 6 اقلیتی برادریوں یعنی مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں، بودھوں، پارسیوں اور جینیوں کو سماجی – اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے با اختیار بنانے کیلئےپروگراموں / اسکیموں کا نفاذکرتی ہے۔ ان اسکیموں کے کامیاب نفاذ کے سبب اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے اسکول چھوڑنے کی شرح میں کمی آئی ہے اور اس سے اقلیتوں کو منفعت بخش روزگار کے حصول میں مددملی ہے اوراس طرح سے ملک کی تعمیر کے کام میں اقلیتوں کی شراکت داری بڑھی ہے۔
