لکھنو:۔ شیعہ وقف بورڈ کا سابق چیئرمین ملعون وسیم رضوی نےپیر کو اسلام چھوڑ کر ہندو بن گیا ۔ قرآن پاک کی آیات حذف کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دینے والا ملعون وسیم رضوی نے ہندو مذہب قبول کرلیا۔ اتر پردیش کے غازی آباد میں داسنا دیوی مندر شیو شکتی دھام کے مہنت یتی نرسمہانند گری مہاراج نے ملعون وسیم رضوی کو سناتن دھرم میں شامل کرلیااور اس نے اپنا نام وسیم رضوی سے ہر بیر نارائن سنگھ تیاگی رکھ لیا ہے ہندو مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے وسیم رضوی کے ہندو بننے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ملعون وسیم رضوی کی کتاب پر بھی کافی تنازعہ ہوا تھا۔کچھ دن قبل ملعون وسیم رضوی نے اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ انہیں مرنے کے بعد دفنانے کے بجائے ہندو رسم و رواج کے مطابق نذر آتش کیا جائے۔ اس سلسلہ میں ملعون وسیم رضوی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، اس سے قبل ہی مذہبی رہنماؤں نے کہا تھا کہ اسے قبرستان میں دفنانے کی جگہ نہیں دی جائے گی۔ اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ صرف مہنت یاتی نرسمہانند گری مہاراج کو ہی ان کی چتا کو آگ دینا چاہیے۔جس وقت وسیم رضوی نے قرآن مجید کی 26 آیات کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، اس وقت ہندوستان کے ہر مسلمان کی آواز اس کے خاندان سمیت ان کے خلاف تھی۔ ان کے چھوٹے بھائی ظہیر رضوی نے خود سوشل میڈیا پر آکر بیان جاری کیا۔ جس میں انہوں نے وسیم رضوی کے بارے میں بڑی باتیں کہی تھیں۔رضوی کے بھائی نے کہا تھا کہ وسیم رضوی پاگل ہو چکے ہیں اور اب ان کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی نہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘نہ تو میرا، میری بہن اور نہ ہی میری والدہ کا ان سے کوئی رشتہ ہے، میرا ان سے تعلق 3 سال قبل ختم ہو گیا، علاقے کا کوئی بھی شخص یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وسیم رضوی نہ تو میرے گھر آتے ہیں اور نہ ہی میں۔ اس سے کوئی رشتہ ہے؟”
