کولمبو:۔سری لنکا میں معاشی بحران سنگینی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اور اس وقت اس ملک کا زیادہ تر انحصار انڈیا اور دیگر ممالک کی مدد پر ہے۔دوسری جانب سری لنکا کی حکومت انتہائی بے چینی سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈسے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔اس جنوبی ایشیائی جزیرہ نما ملک کی آبادی دو کروڑ 20 لاکھ ہے، لیکن وہاں کی اکثریت اس وقت خوراک، ایندھن سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنگین معاشی بحران نے سری لنکا میں افراتفری اور تشدد کو جنم دیا ہے۔ لوگ بنیادی استعمال کی اشیاء کے حصول کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں اور وہ شدید مایوس ہیں۔سری لنکا کے گامپاہا قصبے کی رہائشی دوبچوں کی ماں 47 سالہ شامیلا نیلانتھی کو مٹی کا تیل حاصل کرنے کے مسلسل تین روز تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا لیکن انہیں بالآخر خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا۔ ان کے ساتھ ایسا ہی واقعہ دو ہفتے قبل پیش آیا تھا۔شامیلا نیلانتھی کہتی ہیں کہ میں مکمل طور اکتا گئی ہوں، تھکن سے چور ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمیں کب تک یہ سب کچھ کرنا پڑے گا۔واضح رہے کہ چند برس قبل تک سری لنکا کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور وہاں کی آبادی کے لیے نوکریوں اور خوراک کا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اب یہ تباہی کے دہانے پر ہے۔سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ واشنگٹن کے سینئر فیلو سکاٹ مورس کا کہنا ہے کہ صورت حال بہتر تیزی سے انسانی بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔اس طرح کے معاشی بحران عموماً افغانستان جیسے غریب ترین ممالک میں تو دیکھے گئے ہیں لیکن سری لنکا جیسے متوسط آمدنی والے ممالک میں ایسی صورت حال نادر ہے۔انڈونیشیا جسے ’ایشیئن ٹائیگر‘ کہا جاتا ہے، 1990 کی دہائی کے اواخر میں اسی طرح کی معاشی ابتری کا شکار ہوا تھا اور وہاں فسادات اور سیاسی عدم استحکام نے جنم لیا تھا۔ اس وقت انڈونیشیا پر کئی دہائیوں سے حکمرانی کرنے والے شخص کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا تھا۔اب صورت حال یہ ہے کہ انڈونیشیا دنیا کی سب سے بڑی 20 صنعتی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔
