از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
قطر میں ہورہے فیفا ورلڈ کپ جہاں فٹ بال کے شائقین کے لئے عید سے کم نہیں ہے وہیں عرب دنیا کے لئے یہ پہلی دفعہ اعزاز ملاہے کہ وہاں دنیا کے سب سے پسندیدہ کھیل کی میزبانی کا موقع ملاہے ۔ جب سے فیفا ورلڈ کپ کے لئے قطر میں تیاریاں شروع ہوئی اس وقت سے اب تک بھی مغربی میڈیا نے قطر کو ہر طرح سے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے اور اب بھی کررہاہے ۔ نہ صرف ویسٹرن میڈیا قطر کے خلاف کھڑا رہابلکہ بھارت جیسا ملک بھی قطر کی تنقید کرتا رہا۔ کبھی لیبر لاء کے تعلق سے قطر کو نشانہ بنایا گیا تو کبھی حقوق انسانی کے معاملے میں اس کی سرزنش کرنےکاموقع نہیں گنوایا گیا ۔ لیکن قطر نے ان تمام تنقیدوں کا مثبت طریقے سے مقابلہ کیا اور جس ذمہ داری کو اٹھانے کی اس نے بات کی تھی اس ذمہ داری کو پورا کردکھایا ۔ 20 نومبر کو قطر میں شروع ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب مزید تنقید وں کا شکارہوئی لیکن حق ہمیشہ حق ہی رہتاہے ۔ قطر نے فیفا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب اور اس سے پہلے ایک تفریح کے علاوہ اپنے دینی جذبے کا جو پیغام دیاہے وہ شاید ہی ماضی یا مستقبل میں دوبارہ مل سکتاہے ۔ کئی اسلامی ممالک نے اب تک کئی کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا لیکن بہت کم ممالک نے اپنے آپ کو اسلامی ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، یہاں تک کہ پاکستان جیسے خود ساختہ اسلامی ملک نے بھی کبھی بھی کھیلوں کے دوران اسلام کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی ہو ۔ قطرمیں یکم نومبر سے ہی شراب نوشی پر پابندی لگانے ، عریاں کپڑوں کو پہننے اوریہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ہم جنس پرستی کی تشہیر کرنے پر پابندی لگادی ہے جس کی وجہ سے مغربی ممالک تلملا اٹھے ہیں ۔ وہیں قطر حکومت نے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لئے احادیث نبویﷺ کو سڑکو ں پر نمایاں طور پر پیش کیا ، اسکے علاوہ متعدد مقامات پر دعوت سنٹرز بنائے ۔ مبلغین کو دین کی اشاعت کا موقع دیتے ہوئے ہر میچ کے دن اسلامی پیغام کو عام کرنے کا جو فیصلہ لیا ہے اس سے میڈیا لڑکھڑا گیا ہے ۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ قطر کے ان اسلامی نظریات کے ماتحت ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں تلاوت قرآن سے آغاز ، درس قرآن کااہتمام کے علاوہ وہاں نمازوں کا اہتمام کرنے کے تعلق سے شاید ہی کسی میڈیا نے توجہ دی ہے یہاں تک کہ بعض میڈیا نے قطر ی حکومت کو شدت پسند ، بنیاد پرست جیسے الفاظ سے نواز اہے ۔ لیکن حق ظاہر ہونے والاہے ، باطل مٹنے والاہے ۔ ان تمام مخالفتوں اور تنقیدوں کے درمیان محض 20 دنوں میں 1000 سے زائد غیر مسلموں نے اسلام قبول کرتے ہوئے یہ ثابت کردیاہے کہ اسلام زندہ و آباد مذہب ہے۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ قطرمیں منعقدہ فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے تعلق سے خود فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو نے بھی آخر کار کہہ دیاہے کہ دنیا 3000 سالوں میں ایساموقع فراہم نہیں کرسکی اور نہ ہی اگلے 3 ہزار سالوں تک ایسا کھیل ہوسکتاہے اور ویسٹرن ممالک اگلے 3 ہزار سالوں تک اپنی بے جا تنقید پر معافی مانگتے رہیں گے ۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب نیت میں اخلاص ہو، اللہ پر توکل ہو اور ہمارا ہر کام اللہ کے لئے ہو ۔ قطری حکومت کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا ہے اور جس کی وجہ سے ایک ہزار سے زیادہ لوگ اسلام میں آئے ہیں وہ کام شاید ہی سینکڑوں پروگراموں ، جلسوں اور اجتماعوں کے بعد ہی ممکن ہوپا تا۔ اللہ جہاں سے چاہتا ہے اپنے دین کے لئے وہیں سے کام لیتاہے ۔
