منگلورو آٹو رکشا دھماکہ،دھماکہ کرنے والاداعش کا مشتبہ کارکن شارق:اے ڈی جی پی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

منگلورو:۔منگلورومیں آٹو رکشامیں ہونے والے دھماکے کے پیچھے مشتبہ داعش کاکارکن شارق ہے،اس تعلق سے اس کی شناخت کی تصدیق ہوچکی ہے۔اس بات کی اطلاع اے ڈی جی پی آلوک کمار اور کرناٹکاکےوزیر داخلہ ارگاگیانیندرانے دی ہے۔وزیر داخلہ ارگا گیانیندرنے اس تعلق سے شیموگہ میں پریس کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ آٹورکشامیں ہونے والے دھماکے کے پیچھے شارق کا ہاتھ ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے،اس وقت شارق اسپتال میں زیر علاج ہےاور اس کے اہل خانہ نے اس کی شناخت کردی ہے۔اس سلسلے میں تین افراد کو حراست میںلیاگیاہے۔بتایاگیاہے کہ منگلوروکے نیشنل ہائی وے75 کے پمپ ویل نامی علاقے میں ہفتے کی شام ایک آٹو رکشامیں دھماکہ ہواتھاجس میں آٹو رکشا ڈرائیور سمیت ایک مسافر زخمی ہواتھا۔زخمی کی شناخت محمد شارق کے طورپرکی گئی ہے۔شارق شیموگہ ضلع کے تیرتھ ہلی کاساکن ہے وہ سال2020 میں منگلورومیں اشتعال انگیز جملے لکھنے کے تعلق سے گرفتارہوچکاتھااور وہ ضمانت پرتھا۔اس کے علاوہ شارق کو19 ستمبر2022 کو شیموگہ میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پانے کے الزام میں ملزم قراردیتے ہوئے مقدمہ درج کیاگیاتھالیکن وہ مفرور تھا،اُس نے میسورومیں گھر کرایہ پر لیکر اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا ہواتھا۔19 نومبر کو شارق میسوروسے نکل کر منگلورو پہنچاتھا،اس دوران اپنے ساتھ وہ کوککر،الیکٹرانک بیاٹری اور دھماکہ خیز مواد لیکر آٹو رکشامیں جارہاتھا،اسی دوران یہ دھماکہ پیش آیاہے۔شارق کا ساتھ دینے والے مزید چارافراد کوگرفتارکیاگیاہے،جن میں میسورو دو،منگلورو سے ایک،اووٹی سے ایک نوجوان کو گرفتارکیاگیاہے۔اس سلسلے میں کرناٹکا پولیس کے اے ڈی جی پی آلوک کمارنے بتایاکہ شارق سے ضبط کئے ہوئے موبائل فون اور اہل خانہ کی شہادت سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہی شارق ہے۔شارق نے اپنی شناخت چھپانے کیلئے نقلی آدھار کارڈ کااستعمال کیاتھا اور آدھارکارڈ میں درج شدہ پتہ پر پولیس نے میسوروپر چھاپہ مارا تو اُنہیں وہاں دھماکہ خیز مواد،سلفر پائوڈر،نٹ بولڈس،ملٹی فنکشن ڈیلےٹائمر،مکسر،بیاٹری،میکانیکل ٹائمر،المومینیم فائل،سم کارڈ ،موبائل ڈسپلے اور مختلف کیمیکلس کوضبط کیاگیاہے جو مواد میسورومیں ملاہے وہ بڑی دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دینے کیلئے کافی ہے۔اے ڈی جی پی نے مزیدبتایاکہ فی الحال شار ق اور دیگرافرادکے خلاف دھماکہ خیز مواد رکھنے اور نقلی دستاویزات بنانے کے الزام میں معاملہ درج کرلیاگیاہے۔اسی معاملے میں سادات،معاذ،عرفات علی کے خلاف بھی معاملہ درج کیاگیاہے،اس میں عرفات علی کو مفرور قراردیاگیاہے۔اس وقت میں وہ دبئی میں ہے۔