دہلی:۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا کہ شادی سے متعلقہ ترمیمی بل آرٹیکل 19 کے تحت آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ 18 سال کا آدمی وزیراعظم کا انتخاب کرسکتا ہے، لیو ان ریلیشن شپ میں ہوسکتا ہے لیکن آپ اس سے شادی کا حق چھین رہے ہیں۔ اویسی نے مزید کہا کہ ہندوستان میں خواتین کی اجرت صومالیہ سے زیادہ ہے۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے کہا کہ یہ لگاتار دوسری یا تیسری بار ہے کہ وہ (مرکزی حکومت) جارحانہ انداز میں ایک بل لے کر آئی ہے اور اس پر اپوزیشن کے کسی لیڈر سے بات نہیں کی گئی ہے۔بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں جو بھی بات چیت ہوئی اس پر ایوان میں عمل درآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت جس طرح سے یہ کام کر رہی ہے، میں ان کی مذمت کرتی ہوں۔ساتھ ہی ڈی ایم کے ایم پی کنی موزی نے اس ترمیمی بل کے بارے میں کہا کہ خواتین ریزرویشن بل کے علاوہ مرکزی حکومت کسی سے بات کرنے میں یقین نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر سے متعلق انتہائی اہم بل کو پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی یا سلیکشن کمیٹی کو بھیجا جائے۔ وہ اس کا جائزہ لے اور عوام کی رائے جاننے کے بعد بل پیش کرے۔وہیں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے نے الزام لگایا کہ یہ بل جلد بازی میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس طرح جلد بازی میں یہ بل لائی ہے میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔ اس بل پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اقلیتی برادری نے اس ترمیمی بل کی سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
