شیموگہ:۔مسلم تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانااور مسلم تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو روزگارفراہم کرنا جہاں کچھ لوگوں کاعزم اور جذبہ ہے،وہیں اس وقت مسلم تعلیمی اداروں میں اساتذہ طبقے کا ایک طرح سے استحصال کیاجارہاہے جس کی وجہ سے وہ غیر مسلم تعلیمی اداروں میں بہتر تنخواہ اور بہتر سہولیات پاکر مسلم تعلیمی اداروں کو چھوڑرہے ہیں۔کوروناکے دوران جہاں بیشتر غیر مسلم تعلیمی اداروں نے اپنے اساتذہ کا ہاتھ نہیں چھوڑاتھا وہی تھا کئی مسلم تعلیمی اداروں نے اساتذہ کو بے بس ولاچار چھوڑدیاتھا،مگر کوروناکے لاک ڈائون کے بعد پھر سے اسکول کھلنے کے باوجود یہاں خدمات انجام دے رہے اساتذہ کو کم تنخواہ،کم سہولیات دیتے ہوئے ایک طرح سے ان کا استحصال کیاجارہاہے ،جسےدیکھتے ہوئے کئی اساتذہ غیر مسلم تعلیمی اداروں میں نوکری کیلئے رُخ کررہے ہیں۔اساتذہ طبقے کاکہناہے کہ شیموگہ ضلع کے کئی غیر مسلم پرائمری اسکولوں میں 8تا 10 ہزار روپئے تنخواہ دی جارہے اور ہائی اسکولوں میں15تا20 ہزار روپئے تنخواہ دی جارہی ہے،اس کے علاوہ کئی اسکول اپنے اساتذہ کو ای ایس آئی،پی ایف جیسی سہولت بھی مہیا کرتےہیں ، مگر مسلم تعلیمی اداروں میں پرائمری اسکول میں خدمات انجام دے رہے اساتذہ کو5تا7 ہزار روپئے تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ ہائی اسکول کیلئے زیادہ سے زیادہ15 ہزار روپئے کی تنخواہ دی جاتی ہے۔اس محدود تنخواہ میں ہی اساتذہ پر کام کادبائو دوگنا رہتا ہے ۔ اس میں بھی تعصب یہ ہے کہ سائنس پڑھانے والے معلمین کوآرٹس سے زیادہ تنخواہ دی جاتی ہے اور آرٹس میں بھی سبجکٹ کے علاوہ لانگویج پڑھانے والے اساتذہ کو سب سے کمتر سمجھاجاتاہے اور انہیں کم تنخواہ دی جاتی ہے،جبکہ تمام اساتذہ یکساں تعلیم حاصل کئے ہوتے ہیں جسے ایم ایس سی میں محنت کرنی ہوتی ہے وہیں محنت ایم اے کیلئے بھی کرنی پڑتی ہے،مگر تعلیمی اداروں میں جیسے تعصب برتا جارہا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں تعلیم کوعام کرنا تومقصد بنالیاہے مگر تعلیم دینے والے معلمین کو انصاف کے ساتھ اچھی تنخواہیں اورسہولیات دینا مقصد نہیں بناہے۔ایک طرف آمدنی کے وسائل کاروناعام ہے تو دوسری جانب اسکولوں کی عمارتوں پر عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں،ساتھ ہی ساتھ اسکولوں کے ذمہ داران بھی اپنی سہولیات میں کسی طرح کی کٹوتی کرتے نہیں دکھائی دیتے،ایسے میں اگر اساتذہ کو ایمانداری اور پوری لگن کے ساتھ کام کرنے کہاجائے تو کہاں سے یہ کام ممکن ہے۔اساتذہ کامطالبہ ہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں جو استحصال اساتذہ کا ہورہاہے،اُسے فوراً روکتے ہوئے اساتذہ کومعقول تنخواہیں وسہولیات دی جائیں۔
