بنگلورو:۔بی جے پی کے لیڈر وسابق ریاستی وزیر رمیش جارکیہولی کو فحش سی ڈی کے الزام سے بری کرنے کے امکانات سامنے آرہےہیں اور انہیں اس معاملے سے بری کرتے ہوئے بی رپورٹ دئیے جانے کے امکانات ہیں۔انڈین ایکسپریس کے مطابق جانچ ٹیم کاکہناہے کہ جارکیہولی پر جو الزامات لگائے گئے ہیں اس کے تعلق سے پولیس کو معقول شواہد دستیاب نہیں ہوئےہیں۔پچھلے مارچ کو جب یہ معاملہ منظرِ عام پر آیاتھا تو رمیش جارکیہولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیاتھا۔دریں اثناء فحش سی ڈی میں ملوث خاتون نے رمیش جارکیہولی نے الزام لگایاتھاکہ انہوںنے اس کا جسمانی استحصال کیاہے اور اسے نوکری دینے کے عوض میں استعمال کیاہے۔شکایت درج ہونے کے بعدپولیس نے رمیش جارکیہولی پر سیکشن376c،354a,506اورآئی ٹی ایکٹ67Aکے مطابق معاملہ درج کرلیاگیاتھا۔اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ریاستی حکومت نے ایس آئی ٹی کی تشکیل دی تھی،ایس آئی ٹی نے معاملے کی تحقیقات کرنے کیلئے سی ڈی کی فارینسک جانچ کروائی تھی اور متاثر خاتون اور رمیش جارکیہولی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگوکی تفصیلات بھی اکٹھاکی تھی،اس کے بعدایس آئی ٹی نے دونوں کو ہی متعدد دفعہ تحقیقات کیلئے بلایاتھا۔اس دوران رمیش جارکیہولی نے اعتراف کیاتھاکہ اس سی ڈی میں دکھائے جانے والاشخص میں ہی ہوں اور یہ رشتہ باہمی رضامندی سے قائم ہواتھا،البتہ متاثرہ خاتون پر ایس آئی ٹی نے الزام لگایاہے کہ متاثرہ خاتون نے پیسوں کیلئے رمیش جارکیہولی کو استعمال کیا تھا اس لئے متاثرہ خاتون پرقانونی کارروائی ہو۔
