از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
قرآن مجیدکو مکمل ضابطہ حیات قرار دیاگیاہے اور اس کلامِ اللہ میں انسانوں کو ہر طرح سے زندگی گذارنے کیلئے پیغام دیاگیاہے۔یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کریم کومحض ثواب اور عذاب کی نیت سے پڑھنا محدود کرلیاہے ورنہ مسلمان اس کتاب پر عمل کرنا شروع کردیتےاور اس کتاب کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے کو ترجیح دیتے تو یقیناً مسلمانوں کو اس دُنیا پر خلافت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتاتھا۔جس طرح سے اگلی قومیں اللہ کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتی رہی ہیں اُسی طرح سے مسلمان بھی کلام اللہ پر عمل کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں جس کے نتیجے میں مسلمان تباہ وبرباد ہورہے ہیں۔آج مسلمانوں کو ہر لحاظ سے بدحال و بےبس ماناجارہاہے،اس بدحالی و پریشانیوں کاسبب جہاں مسلمانوں کی خود اپنی لاپرواہیاں ہیں وہیں دوسری طرف جہالت،بخیل اور لاعلمی بھی اہم وجہ ہے۔قرآن کریم میں سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے کہ "ترجمہ : اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں”(آیت نمبر254)۔یوں تو قرآن کریم کےہر لفظ پر عمل کرنا ضروری ہے مگر سورۃ بقرہ کی جو آیتیں ہیں وہ مسلمان کو مومن بنانے کیلئے کافی ہیں۔کیونکہ اس میں خدمتِ خلق اور حقوق اللہ کے تعلق سے واضح طور پر بتایاگیاہے۔اوپر جو ہم آیت بیان کررہے ہیں وہ اس موضوع میں اس لئے پیش کی گئی ہے کہ آئے دن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ حقوق اللہ سے گریز کررہاہے۔اگر مسلمان اپنی آمدنی کے ذرائعوں کو تجارت پر صرف کرتے ہیں یاپھر انوسیٹمنٹ کی شکل میں پیسوں کو باہر لاتے ہیں تو یقیناً ان کیلئے یہ بات برکت کی ہوگی ساتھ ہی ساتھ ان کی سرمایہ داری سے کتنے لوگوں کو روزگار ملے گایہ سوچنے کی بات ہے۔کئی لوگ ایسے ہیں جو مستقبل کے نام پر تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ نے تجوریاں نہ بھرنے اور مال کوخرچ کرنے کا حکم دے رکھاہے۔ایسے میں مسلمان صرف اپنے مال کوتجوریوں میں بھرکررکھنے پر متفق ہیں۔جس طرح سے نماز وروزہ فرض ہے اسی طرح سے قرآن مجیدمیں تجارت کیلئے جو طریقہ بتایاگیاہے اُس پر عمل کرنا بھی فرض ہے۔مسلمانوں کی مالی حالت کاجائزہ لیں کہ مسلمان کس طرح سے بے بس ہیں،اگر مسلمانوں میں یہ خیال آجائے کہ ہم نے جو پیسہ اپنی تجوریوں میں چھپا رکھاہے ،اُسے کاروبارکیلئے استعمال کریں تویقیناً مسلمان کی مالی حالت مزید بہتر ہوگی۔آج دُنیاکی بڑی بڑی کمپنیاں قرآن کے اس بزنس سسٹم کے تعلق سے پیش کئے گئے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے کامیابی کی سیڑھیاں طئے کی ہیں،جبکہ مسلمان ہر جگہ سے پیسے چھپاچھپاکر رکھنے یاپھر سوناخریدکر گلے میں باندھ کر رکھنے کے سسٹم کو عام کررکھاہے۔اگر اس وقت مسلمانوں کو ان کی پسماندگی اور غربت سے باہرنکالناہے تو ان کیلئے روزگارکے مواقع فراہم کرنے ہونگے،ان کی رہنمائی کیلئے منصوبوں کورائج کرتے ہوئے انہیں ساتھ لیکر چلنے کی ضرورت ہے۔مارواڑی اور گجراتی لوگوں کو دیکھیں کہ وہ کس طرح سے یہ لوگ اپنی قوم کے لوگوں کو تجارت بڑھانے میں مددکرتے ہیں اور کس طرح سے ان کا مالی،اخلاقی طو رپر تعائون کرنے کیلئے پابند رہتے ہیں۔یہی مسلمانوں کو دیکھیں ،کہ اگر کوئی مسلمان تجارت کررہاہے تو اُس تجارت کو بڑھاوادینے کے بجائے مسلمان اسے کاٹنے کیلئے دن رات منصوبہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کے وجود کوختم کرنےکیلئے خود مسلمان ہی سازشیں رچتےہیں۔ان حالات میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے سمجھیں اور دیکھیں کہ کس طرح سے قرآن مجیدمیں آپسی تال میل،تجارت،لین دین،اگریمنٹ،لون سسٹم اور پرافٹ اینڈلاس شئیرنگ سسٹم کو صاف صاف کہہ رکھاہے۔اگر مسلمان اس میں سے آدھی بھی بنیاد ی باتیں مان لیں تو ان کی کامیابی یقینی ہے۔
