بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام آن لائن ’’ایک ملاقات ڈاکٹر عائشہ سمن کے ساتھ‘‘ منعقدکیاگیاتھا۔ سید عرفان اللہ ، سرپرست و بانی بزمِ امیدِ فردا نے تلاوتِ آیاتِ ربانی سے نشست کا آغاز فرمایا۔ صبا انجم عاشی نے ڈاکٹر عائشہ سمن کی نعت ترنم میں پیش فرمائی۔ گفتگو سے قبل ڈاکٹر عائشہ سمن نے ماں کی تعلق سے ایک نظم پیش فرمائی اور آن لائن ناظرین کو خوب محظوظ فرمایا ۔ ڈاکٹر عائشہ سمن نے بہت ہی بے باکی سے اپنی تعلیم کا سفر بیان فرمایا۔ کس طرح ڈاکٹر عائشہ سمن کی ساس نے انہیں آگے تعلیم پوری کرنے میں امداد فرمائی اور کس طرح ڈاکٹریٹ تک کا سفرمکمل ہونے تک آپ کا بھرپور تعاون فرمایا ۔ممبئی سے پونے کیلئے سفر کے تعلق سے بھی ساس نے جس طرح تعاون کیا اور سفر کیلئے جو بہترین مشورے دئے جس کے بعد آج وہ اس مقام پر پہنچی ہیں۔ اس دوران عرفان اللہ نے کہا کہ ڈاکٹر عائشہ سمن نے جتنی بے باکی سے اپنے تعلیمی سفر ڈاکٹریٹ تک کا جو حوالہ بیان کیا ہے یہ تمام ان خواتین کے لئے مثعل راہ ہے جو کسی بہانے اپنے سسرال والوں کی اچھائیوں کو بھی بیان کرنا پسند نہیں کرتی بلکہ صرف گلہ شکوہ ہی کرتی ہیں۔ ادب میں خواتین کے رول کے تعلق سے ڈاکٹر عائشہ سمن نے کہا کہ خواتین نے ادب میں جہاں کل اپنا لوہا منوایا تھا آج بھی خواتین نے اپنا لوہا منوایا ہے۔ شاعرات ہوں یا پھر ادیبہ و افسانہ نگار ہر صنف میں خواتین کل بھی نسوانیت کو کھل کر پیش کیا تھا اور آج بھی اپنے احساسات کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ایوارڈ زکے تعلق سے بتایا جب بھی ایوارد ملتا یہ خوف رہتا کہیں ایوارڈ ملنے کے بعد ان سے سے کوئی لرزش نہ ہوجائے۔ اس لئے کہ ایوارڈ ملنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دارایاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ نئے لکھنے والوں کو پیغام دیتے ہوئے فرمایا ’’ہمیں گھبرانا نہیں چائیے۔ آج جو صاحبِ فن ہیں وہ کل طفلِ مکتب تھے۔ آج جن احباب کو جو بھی شہرت ملی ہے اس سے قبل انہیں کئی مشکلات و کئی مراحل سے گذرنے کے بعد آج ایک پایہ کا مقام حاصل کیا ہے۔ نظامت صبا انجم عاشی نے فرمائی ۔ سید عرفان اللہ، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا نے تمام آن لائن ناظرین و مہمانِ خاص کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ تمام اخبارات و رسائل کا بھی شکریہ ادا کیا جن میں بزمِ امیدِ فردا کے اعلانات و روداد برابر شائع ہو رہے ہیں۔اسی کے ساتھ کامیاب ملاقاتی نشست کے اختتام کا اعلان ہوا۔
