آجاشام ہونے آئی ۔۔۔ کراٹا کے صدر نے لی انگڑائی؛کئی سال بعد کراٹا کی ضلعی تنظیم حرکت میں آئی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ :۔ سرکاری اردو اسکولوں کےاساتذہ کی فلاح و بہبودی کیلئے تشکیل شدہ کرناٹکا راجیہ ٹیچرس اسوسیشن (کراٹا ) کی ضلعی کمیٹی آخر کار انگڑائی لیتے ہوئے بنی بنائی کھچڑی کو اپنا نام دینے کے لئے ڈی ڈی پی آئی دفتر پہنچ گئی ہے ۔ ضلعی صدر شمشیر خان جن کو کئی سال قبل کراٹا کے ضلعی صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی انہیں کئی اساتذہ اس ذمہ داری کو دئے جانے کی بات بھی بھول چکے ہیں وہ آج اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر ڈی ڈی پی آئی کے دفتر میں پرموشن ہیچ یم کے عہدوں کو پُر کرنے کیلئے عرضی دیتے ہوئے اپنے فریضے کو مکمل کرنے کی بات کہہ رہے ہیں جبکہ پہلے ہی فہرست تیار کئے جانے کی بات محکمے نے قبول کیا ہے اور یہ فہرست تیار ہوکر کائونسلنگ کی تیاری ہورہی ہے ۔ اب نام کیلئے کام کرتے ہوئے کراٹا کے ضلعی صدر ڈی ڈی پی آئی دفتر میں دکھائی دئے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ شیموگہ ضلع کے سات تعلقہ جات میں سے سوائے شیموگہ تعلقہ کے کراٹا کمیٹی کی سر از نو تشکیل ہونے کے بعد نہ تو ضلعی سطح کی کوئی میٹنگ ہوئی ہے نہ ہی دیگر تعلقہ جات میں اردو اساتذہ کی تنظیم کراٹاکو بنانے کے لئے کوئی پیش رفت ہوئی ہے ،حالانکہ شکاری پور تعلقہ میں کراٹا کی تشکیل کے لئے ریاستی صدر سونور بشیر ( جنکی میعاد بھی مکمل ہوچکی ہے) انہوںنے ضلعی صدر شمشیر خان ( میعاد مکمل ہوچکی ہے ) کی موجودگی میں کام کیا گیا تھا لیکن افسوسناک بات یہ رہی کہ اس کمیٹی کوخود شکاری پورکے اساتذہ و کمیٹی کے دیگر اراکین قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔آج ضلعی کمیٹی کی طرف سے میمورنڈم دیتے ہوئے اردو اسکولوں میں پرموٹڈ ہیچ یم کے خالی عہدوں کو پر کرنے کے لئے گزارش کی گئی ہے لیکن اس فہرست کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آرہی ہے کہ میمورنڈم کی فہرست نامکمل ہے اس میں مزید اسکولوں کو شامل کرنے کی ضرورت تھی ، لیکن سی آرپیز، ای سی او ، تعلقہ کراٹاکے ذمہ داروں اور ضلعی کراٹا کے ذمہ داروں کے عدم تال میل سے فہرست ڈی ڈی پی آئی کو دی گئی ہے اس سے واضح یہ ہوتاہے کہ ضلعی کراٹا کمیٹی کے صدرشمشیر خان کوریا کے تانا شاہ کم جونگ ان کے طرز پر کام کرنا چاہتاہیں ۔ اساتذہ طبقے میں اس بات کا اعتراض ہے کہ جب اسکولوں کے تحفظ و بقاء کی بات آتی ہے ، اساتذہ کے حقوق کی بات آتی ہے تب کراٹا کے ذمہ دار ڈی ڈی پی آئی تو کیا اپنے سی آر پیز کے رابطے میں بھی نہیں تھے ۔ اردو میڈیم سرکاری اسکولوں کو انگریز ی اسکول میں تبدیل کرنے کے دوران بھی انکی زبانیں گنگ ہوگئی تھیں جبکہ مختلف محکمہ جاتی تربیتی پروگراموں میں اردو اساتذہ کے ساتھ جو سوتیلا سلوک کیا گیا تھا اس کے خلاف بھی کوئی آواز اٹھائی نہیں گئی ہے، اب جب کراٹاکے ہی کچھ کارکنان اور انکے مداحوں کے پرموشن کی بات آئی ہے تو پرموشن کی ادھوری لیسٹ تھام کرڈی ڈی پی آئی سے رابطہ کئے گیاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر اس وقت اساتذہ تنظیم میں ردو بدل نہ ہوکر یوں ہی خود ساختہ سلطنتوں کی خلیفے بنیں رہیں گے تو انکی تخت و تاج ہی نہیں بلکہ سلطنتیں ہی ختم ہوجائینگی ۔پروموشن اور انکریمنٹ کیلئے میمورنڈم دینےسے زیادہ ضروری کام اپنی اپنی اسکولوں میں طلباء کی تعداد بڑھاناہے ،جب تعداد بڑھ جائیگی تو خودبخود ایچ ایم کے عہدوں کی بھرتیاں شروع ہوجائینگی،یہاں خطرے کے نشان پر طلباء کی تعداد رکھ کر ایچ ایم کا عہدہ پوچھنا کونسی دانشمندی کا کام ہے۔