بنگلورو:۔مسلم سماج کی لڑکیاں جہاں پڑھنے لکھنے کے تعلق سے لڑکوں سے زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں وہیں سرکاری نوکریاں حاصل کرنےمیں بھی وہ لڑکوں پر سبقت حاصل کررہی ہیں۔اس دفعہ کرناٹکا اسٹیٹ پولیس سب انسپکٹرکے عہدوں کو پُر کرنے کیلئے ایک تحریری امتحان لیاگیاتھا جس میں ملت اسلامیہ کی دو بیٹیاں پولیس سب انسپکٹربننے کیلئے تیارہورہی ہیں،ان میں سے ایک امیدوار امرین تاج چکبلاپورکی ہیں جن کا تعلق چنتامنی تعلقہ کے کئیوارا دیہات سے ہے اور ان کے والدین زراعتی مزدورتھے اور ان کی قسمت اُس وقت بدلی جب ان کے بیٹے صادق پاشاہ بھی کرناٹکا پولیس کے اینٹی کرپشن بیوروکے پولیس انسپکٹرکے طو رپر منتخب ہوئے تھے،بھائی کے نقش وقدم پر چلتے ہوئے امرین تاج نے بھی پی ایس آئی کاامتحان میں76 واں رینک حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے ۔انہوں نے اس موقع پر کہاکہ میری منزل یہی پر ختم نہیں ہوتی اور میں پوری کوشش کرونگی کہ یوپی ایس سی کے امتحان میں بھی مجھے کامیابی ملے،اس وقت میں اس کیلئے بھی تیاریاں کررہی ہوں۔
دوسری امیدوارسائوتھ کینراکی کڑبا سے تعلق رکھنے والی بدرانساء ہیں جو دیہی علاقے میں سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بی ایس سی اگریکلچرکی ڈگری حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو پولیس میں صرف کرنے کا فیصلہ کیاہے۔بدرانساء کڑبا علاقے کے اسماعیل اور زبیدہ نامی جوڑے کی بیٹی ہیں،وہ اپنی چار بہنوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔بدرانساء نے کے ایس پی کے امتحان میں39واں رینک حاصل کرتے ہوئےپی ایس آئی بننے کی تیاری کرچکی ہیں۔
واضح ہوکہ کرناٹکا اسٹیٹ پولیس میں صرف لڑکیوں کیلئے نہیں بلکہ لڑکوں کیلئے عرضیاں طلب کی جاتی ہیں،لیکن مسلم نوجوان لڑکے اس سمت میں توجہ دینے سے قاصرہیں۔
