از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
سن 1931 کا ایک واقع ہے ، ملک میں جہاں انگریز حکومت کررہے تھے، وہیںدوسری جانب کشمیر میں راجا مہاراجائوں کی حکومتیں چل رہی تھی۔ اسی دوران کشمیری مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ وہ راجا مہاراجائوںکی سلطنتوں سے علیحدہ ہوکراپنی الگ ریاست کا قیام کریںگے۔ اس بات کو لیکر تحریک شروع ہوئی اور1931 کی جولائی میں عبدالقدیر نامی ایک نوجوان جو اس تحریک کاروح رواں تھا اسے ڈوگرا راجاکے سپاہیوں نے گرفتار کرلیا۔ کشمیری مسلمانوں نےمتحدہوکر اس گرفتاری کے خلاف احتجاج کرناشروع کیا۔ 13 جولائی 1931 کو جب یہ لوگ کشمیر کے لال چوک کے قریب جمع ہوئے تو سپاہیوںنے انکی مخالفت کی دریں اثناء جب نماز کا وقت ہواتو ایک نوجوان اٹھ کر اذان دینے لگا، جیسے ہی نوجوان نے اللہ اکبر پکارا تو ڈوگرا پولیس نے نوجوان کو گولی سے شہید کردیا۔ اس نوجوان کی شہادت کو دیکھ کر دوسرا نوجوان اذان دینے کیلئے کھڑا ہوا، اذان کادوسرا لفظ دہرانے لگا تو اس پر بھی سپاہیوں نے گولیاں چلائیں۔ مسلمانوں جوش کے مارے اٹھ کھڑے ہوئے اوراذاں کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، تیسرا حرف، چوتھاحرف ،اسی طرح سےاذاں مکمل ہوتی گئی، ہرحرف کے بعد ایک نوجوان کو گولی ماری گئی ، آخرکار 22 مسلم نوجوانوں کی شہادت پر اذان مکمل ہوئی، اسطرح سے ایک اذان کےلئے 22 مسلمانوں نے شہادت قبول کی۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے کورونا اور نمازوں کو لیکر جس طرح سےمسلمانوںکی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہورہاہے اُس سے بعض اوقات ایسا محسوس ہورہاہے کہ مسلمان اس دفعہ بھی گھروںمیں نمازیں ادا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔اِدھر اُدھر کی خبروں کو جمع کرکے سوشیل میڈیا میں گردش کروایاجارہاہے اُس سے ایسا محسوس ہورہاہے کہ مسلمان پھر سے چاہتے ہیںکہ وہ گھروںمیں نمازیں ادا کرنے کیلئے تیارہیں۔ایک وہ زمانہ تھا جس میںایک اذان کی خاطر مسلمان گردنیں کٹوانے کیلئے تیارتھے،اب ایک زمانہ یہ ہے کہ مسلمان تیس دن کی نمازبھی محض کاغذ کے ایک ٹکڑے پر جاری کردہ ممانیت کو قبول کرنے کیلئے تیارہورہےہیں۔آج ملت اسلامیہ کا المیہ یہ ہے کہ وہ مزاحمت کے طریقے کو بھول چکے ہیں،کیوں نہیں مسلمان سوال اٹھارہے ہیںکہ کمبھ کے میلے میں پانچ کروڑافرادکیلئے گنجائش فراہم کی جارہی ہے تو الگ الگ مسجدوںمیںسو دوسوکے مجموعے کو اکٹھا ہونے سے کیوں روکاجارہاہے؟جتنے برائی کے مقامات ہیں اُن تمام مقامات پر اجتماعی چہل پہل کیلئے گنجائش ہے تو کیونکر مسجدوں میں پابندی عائدکی جارہی ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ جب شاپنگ مائول ، سینماتھیڑ ، بازار اور ٹرینوںمیں سفر کرنے کیلئے کوئی روک ٹوک نہیں ہے تو کیوں مسجدوں و اسکولوںمیں شرکت کرنے سے روکاجارہاہے۔اگر واقعی میں کورونا کے پھیلنے کا خدشہ ہے تو حکومت سے یہ سوال کیوں نہیں کیاجارہاہے کہ اگلے دو تین مہینوں تک الیکشن کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے،اور جواب یہ کیوں نہیں دیاجارہاہے کہ ہم مسجدوںمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نمازیں ادا کرینگے!۔کیوں نہیں ہم حکومت کے سامنے سینہ تان کر اس بات کااظہار نہیں کررہے ہیںکہ نماز کو آنے والا ہر فرد پاکیزہ لباس میںآتاہے،ہمارے یہاں وضو کا نظام ہے جس سے ہر بار ہاتھ دھلتے ہیں،ساتھ ہی ساتھ ہم سوشل ڈسٹنس اور ماسک کا بھی استعمال کرتے ہوئے نمازوںکیلئے تیاری کرتے ہیں۔ہم کیوں حکومت کی ہر ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں،یقیناً کورونا وباء ہے ،لیکن یہ وباء مسجدوں سے ہی پھیل رہی ہے یہ کس بلا ء نے کہاہے؟۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایمان پر رہیں،کامل یقین ہواور صحیح غلط کو پہچانے،تب جاکر تمام پریشانیاں دور ہونگی۔
