از؛۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔کروشی بلگام کرناٹک

رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جہاں بڑوں کے لیے عبادت و ریاضت کا پیغام لے کر آتا ہے، وہیں معصوم بچوں کے اندر بھی دینی جذبہ اور شوق کو بیدار کرتا ہے۔ ایسے ہی ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین واقعہ میں آٹھ سالہ کمسن طالب علم محمد تمیم پٹیل نے امسال پورے تیس (30) روزے رکھ کر ایک مثالی کارنامہ انجام دیا ہے۔عام طور پر اس کم عمری میں بچوں کے لیے روزہ رکھنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، خصوصاً جب گرمی کی شدت بھی عروج پر ہو۔ تاہم محمد تمیم پٹیل نے نہایت عزم، ہمت اور شوق کے ساتھ تمام روزے مکمل کیے، جو یقیناً ان کے والدین کے لیے باعثِ مسرت اور فخر کی بات ہے۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کی اولاد بچپن ہی سے دینِ اسلام کی تعلیمات سے وابستہ ہو اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور نبی کریم ﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔محمد تمیم پٹیل کے اس جذبۂ ایمانی کے پیچھے گھریلو تربیت، آس پاس کے دینی ماحول اور مسجد سے وابستگی کا اہم کردار ہے۔ مزید برآں، مقامی اردو اسکول کے اساتذہ کی شفقت، حوصلہ افزائی اور محبت بھرے رویے نے بھی بچوں میں روزہ رکھنے کا شوق پیدا کیا۔ اساتذہ کرام کی جانب سے معصوم روزہ داروں کے ساتھ اپنائیت اور ہمدردی کے برتاؤ نے ان میں ہمت، طاقت اور ولولہ پیدا کیا، جس کے نتیجے میں کئی بچوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق روزے رکھے، جبکہ بعض نے مکمل روزوں کی سعادت حاصل کی۔محمد تمیم پٹیل کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثبت مثال ہے کہ اگر بچوں کو شروع ہی سے اچھا ماحول اور صحیح رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ دینی فرائض کو خوشی اور جذبے کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد تمیم پٹیل کے تمام روزوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، انہیں دین پر استقامت عطا کرے، اور ان کے اساتذہ و والدین کو اس بہترین تربیت پر اجرِ عظیم سے نوازے۔
جو لوگ گزرتے ہیں مسلسل رہ دل سے
دن عید کا ان کو ہو مبارک تہ دل سے
عبید اعظم اعظمی
