از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملُاّہبلی ۔990267208

زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت میں کہانیوں اور افسانوں کا روپ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ واقعات اتنے گہرے اور متاثر کن ہوتے ہیں کہ ایک قلمکار کو کسی فرضی پلاٹ کی ضرورت نہیں رہتی۔ حقیقت خود میں اتنی وسعت رکھتی ہے کہ اسے کہانی میں ڈھالنے کے لیے محض ایک مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔ اکثر اوقات، عام زندگی کے واقعات انسانی جذبات، مسائل اور تجربات کی عکاسی کرتے ہیں، جو کہانیاں لکھنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ زندگی کے نشیب و فراز، کامیابیاں، ناکامیاں، محبت، نفرت، جدائی، اور قربت جیسے موضوعات کہانی کے لیے بہترین مواد فراہم کرتے ہیں۔ ایک قلمکار کے لیے ضروری نہیں کہ وہ خیالی دنیا میں جائے۔ حقیقت میں پیش آنے والے واقعات میں اتنی شدت اور گہرائی ہوتی ہے کہ وہ قارئین کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں ۔ ایک حقیقی واقعہ میں جو درد، خوشی یا غم چھپا ہوتا ہے، وہ فرضی کہانی میں شاید نہ ملے۔ لہٰذا، زندگی کے حقیقی واقعات پر مبنی کہانیاں اکثر زیادہ اثر انگیز اور دلکش ہوتی ہیں، کیونکہ وہ انسانی تجربات کا حقیقی عکس پیش کرتی ہیں اور قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ابتدائی جماعتوں سے ہی مجھے درسی کتب کے مقابلے میں رسائل، میگزین اور اخبارات پڑھنے کا بے حد شوق رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہی شوق آگے چل کر درسی کتب میں بھی دلچسپی کا سبب بنتا چلا گیا۔ ابتدا میں میری دلچسپی بچوں کے رسالے "کھلونا” اور رام پور سے شائع ہونے والے میگزین "نور” تک محدود تھی، لیکن آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے غیر درسی مطالعہ میں گہرائی آتی گئی۔ رسالہ "کھلونا” اور "نور” سے آغاز ہوا اور پھر "بیسویں صدی”، "ہزار رنگ”، "چہار رنگ”، "ہما”، "ہدا”، "شمع”، "رو بی”، "شبستان”، اور نکہت پبلیکیشنز سے شائع ہونے والے ابن صفی کے جاسوسی ناولوں تک پہنچ گیا۔ روزانہ ابن صفی کے کرداروں، جیسے کرنل فریدی، کیپٹن حمید، عمران، جولیا، قاسم، اور جوسف وغیرہ سے ناولوں میں ملاقات ہوتی رہتی۔ خصوصاً "شبستان” رسالے سے مجھے خصوصی لگاؤ تھا، اس لیے کہ اس میں شیخ عبداللہ، جنہیں شیر کشمیر بھی کہا جاتا ہے، کی جیل میں لکھی ہوئی کتاب "میرے دوست میرے دشمن” قسط وار شائع ہوتی تھی۔ میں اس کتاب سے اتنا متاثر ہوا کہ ہر نئے شمارے کا بے چینی سے انتظار کرتا۔ اینگلو اردو ہائی اسکول ہبلی کے گراؤنڈ فلور پر واقع نصرت بک ایجنسی، جو کہ ایک لائبریری بھی تھی اور جس کا میں ممبر تھا، بڑی فراخ دلی سے مذکورہ بالا کتابیں، میگزین لیے لیا کرتا تھا
شبستان میں قسط وار شائع ہونے والی شیخ عبداللہ کی کتاب "میرے دوست میرے دشمن” کا ایک واقعہ آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ یہ واقعہ پڑھے ہوئے پچاس سال بیت چکے ہیں، مگر جب بھی اس کا خیال آتا ہے، شیخ عبداللہ کی شخصیت کی عظمت میرے دل میں اور زیادہ جاگزین ہو جاتی ہے۔ شیخ عبداللہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ایک شام وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک ہوٹل میں چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے، مشہور اداکار دلیپ کمار بھی اپنی کسی فلم کی شوٹنگ سے فارغ ہو کر وہاں تشریف لائے۔ شیخ عبداللہ کے فرزند، فاروق عبداللہ، جو اس وقت نو عمر تھے، دلیپ کمار سے ملاقات کے لیے بے تاب ہو گئے اور اپنے والد سے درخواست کی کہ وہ دلیپ کمار سے ملاقات کر لیں۔ شیخ عبداللہ نے ابتدا میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی، لیکن فاروق عبداللہ کے اصرار پر بالآخر رضامند ہو گئے۔
فاروق عبداللہ خوشی خوشی دلیپ کمار کو اپنے والد کے پاس لے آئے اور ان سے ملاقات کروائی۔ اس واقعے پر شیخ عبداللہ نے اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس بات پر حیران تھے کہ ان کے بیٹے کو فلمی اداکاروں کے بارے میں معلومات تھیں اور وہ ان میں دلچسپی رکھتے ہیں حتیٰ کہ انکے ناموں سے بھی انہیں واقفیت ہے۔ شیخ عبداللہ نے آخر میں اس تشویش کا اظہار کیا کہ "میرے بیٹے کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ نئی نسل کس راہ پر گامزن ہو رہی ہے۔” جب بھی مجھے اس واقعے کی یاد آتی ہے، تو شیخ عبداللہ کی فہم و فراست اور ان کی شخصیت کا وقار میرے دل میں مزید بلند ہو جاتا ہے۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی، میں پھر اپنی اصل بات کی طرف آتا ہوں۔ میں اسکول میں پڑھائی کے معاملے میں ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا۔ ہماری کلاس میں کئی ایک ذہین اور ہونہار ساتھی تھے جو اساتذہ کے نور نظر بنے ہوئے تھے۔ اساتذہ ان کا نام لیتے نہیں تھکتے اور ان کی تعریف میں رطب اللسان رہتے۔ مگر میں کبھی ان سعادت مندوں کی فہرست میں شامل نہ ہو سکا۔ جہاں میرا نام لیا جاتا، وہ بھی صرف حاضری کے لیے، اور میں خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ جاتا۔ میں کسی قابل ذکر فہرست کا حصہ نہ تھا۔ درسی مضامین جیسے سائنس، حساب اور جغرافیہ ہمیشہ میرے لیے بوجھ معلوم ہوتے۔ میں غیر درسی کتابوں اور اخبارات کے مطالعے میں غرق رہتا، اسے میں محض اپنا ذاتی شوق سمجھتا تھا اور یہ خیال کرتا تھا کہ اس کا میری تعلیمی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں، ایک چیز جو میرے اندر نمایاں تھی، وہ میرا نکلتا ہوا قد تھا۔ ، اور ساتھیوں کو میرے پیچھے بیٹھ کر بلیک بورڈ دیکھنے میں دشواری ہوتی تھی۔ ان کی اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے، میں آخری بینچ پے بیٹھ جاتا تاکہ وہ آسانی سے بلیک بورڈ دیکھ سکیں۔
دوران آٹھویں جماعت ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا جس سے میرے اندر بلا کی خود اعتمادی پیدا ہوئی۔کبھی کبھار ایک استاد کی ہمت افزائی طالب علم کی زندگی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جب استاد طالب علم کی صلاحیتوں پر یقین کرتا ہے اور انہیں متواتر مثبت رہنمائی فراہم کرتا ہے، تو یہ طالب علم میں اعتماد پیدا کرتا ہے۔ یہ اعتماد انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ استاد کی حوصلہ افزائی سے طالب علم کو مشکل حالات میں بھی خود پر بھروسہ کرنا سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ایک ہمدرد اور حوصلہ مند استاد طالب علم کی خامیوں کو کمزوریاں نہیں، بلکہ بہتری کے مواقع سمجھتا ہے۔ وہ ان خامیوں پر توجہ دے کر طالب علم کی رہنمائی کرتا ہے تاکہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھ سکیں اور بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ یہ عمل طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے اور انہیں اعلیٰ کارکردگی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک استاد طالب علم کی کامیابیوں کو سراہتا ہے اور ناکامیوں کو ایک نیا موقع سمجھ کر ان کی رہنمائی کرتا ہے، تو یہ طالب علم کے لیے ایک محرک ثابت ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی علمی ترقی ہوتی ہے بلکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے بہتر طریقے سے تیار ہو جاتے ہیں۔
میرے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ ہمارے محترم استاد، مر حو م کربگٹی سر، جو ہمیں آٹھویں جماعت میں اردو پڑھایا کرتے تھے، نہ صرف ایک بہترین معلم تھے بلکہ شاعر بھی تھے، اور "اعظم” ان کا تخلص تھا۔سن 1968 میں ہبلی میں جب پہلا آل انڈیا مشاعرہ اسٹیشن روڈ پر واقع اے کے انڈسٹری کے احاطے میں منعقد ہوا، اس میں معروف فلمی اداکار اور اردو زبان کے قدردان بلراج ساہنی مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک تھے۔ اس مشاعرے میں ہبلی کے چار مقامی شعرا ئنے اپنا کلام پیش کیا، جن میں ایک ہمارے محترم استاد غوث کربگٹی سر بھی تھے۔
ایک مرتبہ ، کربگٹی سر نے ماہانہ اردو ٹیسٹ میں ہمیں دس الفاظ دیے اور کہا کہ ان کے معانی لکھو اور جملوں میں استعمال کریں۔ ہم نے جوابی پرچے وقت مقررہ پر جمع کروائے۔ اگلے روز جب کربگٹی سر کلاس میں داخل ہوئے، تو ان کے ہاتھوں میں ہمارے جوابی پرچے تھے۔ انہوں نے سب کی توجہ حاصل کرتے ہوئے کہا کہ پوری کلاس میں صرف ایک طالب علم نے لفظ "الجھن” کا درست معنی لکھا اور اسے صحیح طریقے سے جملے میں استعمال کیا۔ یہ سنتے ہی کلاس میں خاموشی چھا گئی، اور ہر کوئی جاننا چاہتا تھا کہ وہ طالب علم کون ہے۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعدکربگٹی سر نے میرا نام لیا۔ میں حیرت زدہ تھا کہ ایک عام سا لفظ "الجھن”، جسے میں نے معمولی سمجھا تھا، اتنی اہمیت اختیار کر گیا۔ جب استاد محترم نے کہا کہ میں کھڑا ہو جاؤں، تو دل میں عجیب سا احساس لیے میں کھڑا ہوا۔ کربگٹی سر نے نہ صرف میری ہمت افزائی کی بلکہ بھری کلاس کے سامنے میری پذیرائی بھی کی۔ حالانکہ میں اس پذیرائی سے زیادہ خوش نہیں تھا، لیکن مجھے یہ بات حیران کن لگی کہ کلاس کے دیگر ساتھیوں نے اس عام لفظ کو کیوں نہیں سمجھا۔ اْس لمحے مجھے احساس ہوا کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کا درست استعمال کتنا گہرا ہوتا ہے۔بچپن سے ہی مجھے مطالعے کا شوق تھا، اور کتابوں نے میری سوچ کے دائرے کو وسعت بخشی۔ یہی مطالعہ میری فکری وسعت کا ذریعہ بنا، اور مشکل سے مشکل الفاظ میرے لیے آسان ہوتے چلے گئے۔
کلاس کے دیگر طلباء اس احساس میں مبتلا نہ تھے جو مجھے اس لمحے ہو رہا تھا۔ ان کے لیے یہ ایک محض امتحان تھا لیکن میرے لیے یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے میرے دل میں علم اور مطالعہ کی قدر و قیمت کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ایک معمولی لفظ "الجھن” کے صحیح استعمال پر اْستاد محترم نے میری ہمت افزائی کی ،تو میرے دل میں ایک عجیب سی تبدیلی پیدا ہوئی۔ ایک ایسی ہمت افزائی، جو شاید چھوٹی سی تھی، لیکن میرے لیے ایک نئے سفر کا آغاز بن گئی۔ مجھے احساس ہوا کہ شاید میں بھی کچھ خاص کر سکتا ہوں، شاید میری صلاحیتیں بھی کہیں چھپی ہوئی تھیں۔ یہ لمحہ میرے اندر خود اعتمادی کے بیج بو گیا۔ میں نے آہستہ آہستہ سائنس، حساب اور تاریخ جیسے دیگر مضامین میں دلچسپی لینا شروع کی۔ ان مضامین میں میری گرفت بہتر ہونے لگی، اور میں نے محسوس کیا کہ علم کا سفر کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ استاد محترم کی ایک معمولی حوصلا افزائی نے میری دنیا بدل دی، اور میں ایک اوسط طالب علم سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔
میں اپنے رسالوں اور اخبارات کے مطالعے کو میں نے ہمیشہ ذاتی شوق سمجھا اور تعلیم کا مقصد سائنس، حساب، سماجی تعلیم اور جیومیٹری جیسے مضامین کو تصور کرتا رہا۔ تاہم، غیر شعوری طور پر غیر نصابی کتب کا مطالعہ میری علمی بنیاد کو مضبوط کرتا رہا، جس کا مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا۔ جیسے جیسے شعور نے رہنمائی کی، میں نے محسوس کیا کہ زندگی کا دائرہ بہْت وسیع ہے اور تعلیم کا مقصد محض سائنس اور حساب تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے ہے۔ نصابی کتب تعلیم کا ایک حصہ ہیں، لیکن حقیقی تعلیم کا دائرہ ان سے کہیں زیادہ پھیلتا ہے۔ مطالعے کی اہمیت تب اور بھی واضح ہوئی جب میں نے جانا کہ زندگی کا کینوس مختلف تجربات، مشاہدات اور علم کے تمام شعبوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس وسیع تناظر میں، غیر نصابی مطالعہ میرے علمی سفر کیلئےایک لازمی اثاثہ ثابت ہوا۔ یوں تعلیم کا مقصد محض مخصوص مضامین نہیں بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کی گہرائی تک رسائی حاصل کرنا بن گیا۔
لفظ "الجھن” کی حقیقی معنویت اور اس کا درست استعمال میری زندگی کی کئی الجھنوں و مشکلات کو حل کر گیا۔ جب بھی لفظ "الجھن” زیر مطالعہ آتا ہے، تو میرے دل میں مرحوم استاد محترم غوث کربگٹی سر کی یاد تازہ ہو جاتی ہے، اور ان کی عظمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ عظیم شخصیت تھے جنہوں نے ایک معمولی سی ہمت افزائی سے مجھے تعلیم کا حقیقی مقصد سمجھا دیا، اور ایک اوسط درجے کے طالب علم کو اس قابل بنا دیا کہ وہ جدید عصری تعلیم کے تقاضوں کی دوڑ میں پیچھے نہ رہے۔
میرے اڑتیس سالہ تدریسی سفر میں، مرحوم استاد کی وہ خاموش حوصلہ افزائی میرے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہی۔ میں نے اپنی تدریس کے دوران ہمیشہ اس نْسخہ کیمیاء کو زندہ رکھا، جو میرے استاد محترم نے اپنے عمل سے مجھے سکھایا تھا، تاکہ میرے طلبا بھی اسی طرح علم کی روشنی سے منور ہو سکیں۔
