اردو زبان کا شیدائی؛ اداکار دھرمیندر

مضامین
از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038
اردو زبان اپنے اندر ایسی بے مثال چاشنی، لطافت اور تاثیر رکھتی ہے کہ سننے والا اس کے سحر میں جکڑ سا جاتا ہے۔ اس کی نرم لہجہ، شیریں آہنگ اور خوشبو بکھیرتی ترکیبیں دل کے نہاں خانوں تک اتر جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلا امتیاز قوم و ملت، ہر طبقے اور ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ اس زبان کی طرف خودبخود کھنچے چلے آتے ہیں۔ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ تہذیب کی آئینہ دار، محبت کی پیامبر اور دلوں کو جوڑنے والی ایک دلآویز قوت بھی ہے۔ اس زبان میں وہ کشش ہے جو الفاظ کو احساس میں بدل دیتی ہے، اور احساس کو خیال کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ اس کے شعری ادب میں رومان، جمال اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج ملتا ہے، جبکہ نثری ادب میں سادگی اور وقار ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ اردو کی شیرینی نے صدیوں سے دلوں کو مسحور رکھا ہے اور آج بھی اس کے دامن میں وہی تازگی، وہی دلکشی اور وہی رنگینی موجود ہے۔ یہ زبان اپنے بولنے والوں کو تہذیب، شائستگی اور احترامِ انسانیت کا درس دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو محض رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ دلوں کی ترجمان اور روح کی غذا بھی ہے۔ اس کی یہی ہمہ گیر کشش لوگوں کو ہمیشہ اس کی طرف مائل کرتی رہے گی۔
اردو زبان کے چاہنے والوں میں مرحوم اداکار دھرمندر کا نام بھی شامل ہے۔ فلمی دنیا کی چکاچوند کے باوجود اُن کے دل میں اردو سے خاص انس رکھتا تھا۔ وہ اپنی گفتگو، مکالموں اور شعری ذوق میں بارہا اس زبان کی لطافت اور شیرینی کا اظہار کرتے تھے۔ حال ہی میں ان کے انتقال پر اخبارات میں ان کی زندگی اور فن پر بہت کچھ لکھا گیا، مگر افسوس کہ اُن کی اردو دوستی اور اس زبان سے بے پناہ محبت کا کہیں ذکر نہ ہو سکا، حالانکہ یہ وصف ان کی شخصی شناخت کا نہایت روشن پہلو تھا۔ پانچ چھ سال قبل ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب دھرمیندر سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی سوانح عمری اُردو میں کیوں لکھ رہے ہیں تو انہوں نے نہایت خلوص سے جواب دیا کہ اُردو وہ زبان ہے جس میں وہ اپنے خیالات، جذبات اور احساسات سب سے زیادہ سہولت اور روانی کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں، کیوں کہ ان کی تعلیم بھی اُردو میڈیم سے ہوئی ہے۔ انہیں اُردو سے ایک قلبی لگاؤ ہے، اسی لیے اپنی زندگی کے تجربات اور یادیں اسی زبان میں رقم کرنا پسند کرتے ہیں۔
مرحوم اداکار نے ایک بار اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں اُس دردناک دور کی یادیں تازہ کیں جب برصغیر کی تقسیم نے لاکھوں دلوں کو زخمی کر دیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے قیامت خیز مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔لوگوں کی ہجرت، بے بسی، چھوٹتے گھر، بکھرتے خاندان اور ایک ایسا رنج جس کی تپش سے وہ آج تک آزاد نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق رات گئے ریڈیو پر اعلان ہوتا کہ کون سا علاقہ نوزائیدہ پڑوسی ملک کا حصہ بن رہا ہے، اور ہر اعلان کے ساتھ ایک نئی بے یقینی اور خوف دلوں میں گھر کر لیتا۔ اس گفتگو میں انہوں نے اپنے استاد رُکن الدین صاحب کا بھی نہایت جذباتی انداز میں ذکر کیا۔وہی استاد جنہوں نے انہیں تہجی کے پہلے حرف سے اُردو تعلیم کا آغاز کروایا تھا، جن کی شفقت، محبت اور تربیت نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ مرحوم اداکار اُس لمحے کو یاد کرتے ہوئے بھر آتے ہیں جب اُن کے ٹیچر رکن الدین ہجرت کے لیے روانہ ہو رہے تھے اور وہ، ایک آٹھویں جماعت کا کم سن طالب علم، دوڑ کر ان کے پاس پہنچے اور روتے ہوئے کہا،استادِ محترم، آپ مت جائیے!اس پر استاد نے گلوگیر لہجے میں جواب دیا ،بیٹا، اب جانا ہی پڑے گا۔اداکار دھرمیندر نے مزید جذباتی انداز میں بتایا کہ وہ خاموشی سے اپنے استاد کا ہاتھ تھامے اس راستے پر چل پڑے جہاں سے ہجرت کرنے والا قافلہ روانہ ہونے والا تھا۔ ہر قدم کے ساتھ دل میں ایک انجانا درد اترتا جاتا تھا۔ استاد کی لرزتی ہوئی انگلیاں اس جدائی کی شدت بیان کر رہی تھیںاور شاگرد کا دل چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے، یہ لمحہ رُک جائے۔ قافلے کے قریب پہنچ کر استاد نے ایک حسرت بھری نظر اپنے وطن پر ڈالی، اور شاگرد کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔ جدائی کی وہ گھڑی دونوں کے دلوں پر انمٹ نقوش چھوڑ گئی، جیسے زندگی کا ایک باب وہیں بند ہو گیا ہو۔ ملک کی تقسیم نے انہیں پہلی بار یہ احساس دلایا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں قرار دے دیے گئے ہیں، ورنہ اس سے پہلے کے دنوں میں کبھی کسی نے مذہب کی بنیاد پر تفریق محسوس نہ کی تھی۔ گاؤں کی فضاؤں میں بھائی چارہ، محبت، خلوص اور امن کی جو فضا تھی وہ سب ان کی یادوں میں آج بھی اسی طرح محفوظ ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اس دور کے انسانوں کے دلوں میں نفرت کا نام و نشان تک نہ تھا۔
جن لوگوں نے کمال امروہی کی شاہکار فلم ”رضیہ سلطان” دیکھی ہے، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس میں اداکار دھرمندر نے غلام یاقوت کا کردار کس قدر فنکاری، شائستگی اور جذباتی گہرائی کے ساتھ نبھایا تھا۔ خاص طور پر ان کے لبوں سے ادا ہونے والے اردو مکالمے نہ صرف دل میں اتر جانے والی مٹھاس رکھتے تھے بلکہ ان کی اس زبان سے محبت، وابستگی اور فطری قربت کو بھی نمایاں کرتے تھے۔ دھرمندر کا ہر جملہ، ہر وقفہ اور ہر ادا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اردو ان کے دل کے نہایت قریب تھی۔ ان کے مکالموں میں صرف ادائیگی نہیں تھی بلکہ تہذیب، نزاکت اور زبان کی لطافت بھی جھلکتی تھی، جو اس کردار اور پوری فلم کو ایک لاجواب شان عطا کرتی ہے۔ حالیہ انٹرویو میں جو انہوں نے اپنے اداکار بچوں کے ساتھ دیا تھا کہا کہ میرے بچوں نے اردو نہیں پڑھی۔میں نے اردو زبان سیکھی ہے۔اداکار نے اردو زبان کے تعلق سے بتایا کہ احسان مند ہوں میں اردو زبان تیرا،تیری زبان میں بیان ِاحساس ِدل آ گیا۔کچھ برس قبل دھرمیندر جب دلیپ کمار سے ملاقات کے لیے انکے گھر گئے ہوئے تھے، ایک پُرسکون اور نجی محفل آراستہ کی گئی تھی۔ اسی محفل میں مرحوم اداکار دھرمندر نے دلیپ کمار کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر نہایت شائستہ اور دل نشین اردو زبان میں دلیپ کمار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا،ہماری فلمی دنیا کے وہ ایسا درخشاں آفتاب ہیں کہ جن کی روشنی سے میں نے اپنی حسرتوں اور تمنّاؤں کے چراغوں کی لو کو جِلا بخشی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک میرا چراغ اسی فیضانِ محبت سے روشن ہے۔ اور جب کبھی میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مجھ میں نئی جان ڈال دی گئی ہو۔ اللہ میاں ان پر ہمیشہ اپنا فضل قائم رکھے، اُن کا شفقت بھرا سایہ ہم پر دراز رہے، اور اُن کے چہرے کی وہی محبت بھری روشنی ہمیشہ قائم رہے۔ اب کہاں ایسے لوگ نصیب ہوتے ہیں۔ مجھے تو نہیں لگتا کہ ہمارے مقدّر میں دوبارہ آئیں گے۔یہ جملے نہ صرف دھرمندر کی اردو زبان سے عقیدت اور محبت کا آئینہ دار تھے بلکہ دلیپ کمار کی عظمت، اُن کی شخصیت کے وقار اور ان کے فن کی تاثیر کا زندہ ثبوت بھی تھے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فلمی افق کا ایک درخشاں ستارہ جو اردو زبان کا شیدائی تھا،غروب ہو چکا ہے۔ آج فلموں میں ایسے فنکار خال خال ہی رہ گئے ہیں جو اردو زبان کی لطافت، اس کے صحیح تلفظ اور اندازِ بیان کی نزاکت کو ادا کرنے کا ہنر رکھتے ہوں۔ اب نہ وہ مٹھاس باقی رہی، نہ وہ ٹھہرا ہوا اسلوب،جس پر کبھی فلمی روایت کو ناز تھا۔