نقاش نائطی ۔00966562677707

آل بھٹکل چونکہ ایک کامیاب تجارتی ال عرب قوم ہے جو عام اندازے مطابق ماقبل رسالت. مآب حضرت محمدﷺ ہی سے، ایک طرف یورپی ممالک تو دوسری طرف، ھند و غرب ایشیا،انڈونیشیا،ملیشیا، چین و فلپین تک، باد بانی کشتیوں سے، سلسلہ تجارت جاری رکھے ہوئے تھے۔اس تجارتی مہم جوئی نے کم از ڈیڑھ ہزار سال عالم کے مختلف حصوں ملکوں کے ساتھ اس وقت کے مشترکہ ھند و پاک کے ساحل سمندر علاقے جیسےکیرالہ کوچین، تمل ناڈ کلیکیرے، مہاراشٹرا مالیگاؤں، گجرات احمد آباد کھمبات تو کرناٹک بھٹکل و اطراف بھٹکل کمٹہ ہوناور سے گیرسوپا، سمسی، منکی ھیرانگڈی، مرڈیشور، ٹینگنڈی تو بھٹکل کے دوسری طرف، شیروں بیندور گنگولی سے اڈپی کے قریب تونسے کے ساحل تک آباد آہل عرب اہل نائطہ(نئے آکر بسے قبیلے) کو مستقل سکونت اختیار کرنے مجبور کیا ہوا تھا۔ اہل نائطہ قبیلے کے اس وقت کے دیڑھ ہزار سال قبل والے ھندستان میں ماقبل رسالت مآب رہائش پزیری کو مکرر اس لئے کہا جاتا ہے کہ ہندستان کی ان پانچ ریاستوں میں، کم وبیش ایک ہی وقت میں، زیادہ تر یمنی النسل، آل عرب قبائل آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔ یہ اس لئے کہ کسی بھی علاقے میں کوئی بھی نؤآمدہ قبیلے والے اپنی مذہبی عمارتیں جیسے مساجد و مدارس ، اس وقت تک قائم نہیں کیا کرتے،جب تک کہ اس علاقے میں کافی عرصے سے،ایک معقول کثرت تعداد لوگ آباد نہیں ہوئے ہوں اور گجرات احمد آباد کھمبات گھوگا گاؤں میں، قبلہ اول بیت المقدس کی طرف رخ کئے تعمیر کی گئی اس وقت کی جونی(پرانی) مسجد، اس بات کی دلیل کےطور پیش کئے جانے لائق ہے کہ اس وقت کے مسلمانوں نے، شروع اسلام مکی زندگی، قبلہ اولی بیت المقدس کی طرف رُخ کئے،نماز پڑھنے، یہاں ہندستان کی سر زمین پر پہلی تعمیر مسجد قبلہ اولی بیت المقدس کی طرف رخ کئے تعمیر کی تھی اور بعد کے دنوں میں حرم مکی کی طرف رخ کئے نماز پڑھنے آئے حکم خداوندی کی تعمیل میں، مصلیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے پیش نظر، نئی مسجد تعمیر کرتے وقت، اس پرانی مسجد کو متروک استعمال، یونہی چھوڑ دیا دیا تھا۔
https://www.facebook.com/groups/urdusaeaye/posts/3440709076239161/
غالب گمان یہ ہے کہ انہی دنوں کرناٹک بھٹکل سمیت ہندستان کی چاروں ریاستوں میں،624 سے قبل ہی مساجد قائم کی گئی ہونگی۔ لیکن گجرات کھمبات گھوگا مسجد قبلہ اولی کی طرف تعمیر کئے ڈھانچہ ابھی تک موجود ہے اور چونکہ اس وقت رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ 27 ستمبر 622 عیسوی سال ھجرت کر گئے تھے۔ اور قبلہ اولی چھوڑ مکہ چھوڑ کعبہ کی طرف رخ کئے نماز پڑھنے پڑھنے کا مسجد قبلتین مدینہ منورہ بحالت نماز میں دوسری ھجری سال 624 سن عیسوی حکم خداوندی آیا تھا اس لئے یقینی طور گجرات کھمبات گھوگا جونی مسجد 624 عیسوی سال سے ایک دو سال قبل ہی سرزمین ھند کی پہلی مسجد تعمیر کی گئی ہوگی۔لیکن گجرات احمد آباد کھمبات گھوگا، کیرالہ کوچین کوڈنگلور 629 عیسوی تعمیر مسجد اور ٹمل ناڈ کلیکیرے پلئیہ جمعہ مسجد تعمیر 628تا 630 عیسوی کی تاریخ موجود ہے اور کرناٹک اور مہاراشترا علاقوں میں تعمیر مساجد تاریخ کے پنوں سے معدوم ہے اس لئے تاریخ کے صفحات میں اس سمت کچھ نہیں ملتا ہے۔ البتہ کرناٹک بھٹکل محکمہ شرعیہ کے پاس ایک ہزار سال قبل والے نکاح و طلاق و معاشرتی تجارتی تصفیہ جات مختلف پرانے دفاتر میں لکھے موجود ہیں، اس لئے یقینی طور یہ کہا جاسکتا ہے کہ گجرات ٹامل ناڈ کیرالہ ہی کے طرز بھٹکل میں بھی آس وقت ہی سے آباد، آل عرب، نائطہ، بھٹکلی قبیلہ تقریبا ڈیڑھ ہزار سال ہی سے بھٹکل و اطراف بھٹکل آباد تھے۔ اور ابھی حال ہی زمانے قدیم سے قائم جماعت المسلمین بھٹکل نے، اس علاقے بھٹکل میں، اپنی رہایشی تاسیس کا ہزار سالہ جشن، بڑی ہی دھوم دھام سے منایا تھا۔ اس سمت ہمارے تحریر کئی ایک مضامین پہلے سے مختلف اخبار مطبوعہ موجود ہیں۔
بھٹکل مسلم جماعت کراچی آپنے تاسیس کی 75 ویں برسی منارہی ہے
بھٹکل مسلم جماعت کراچی کے تمام ممبران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ، النوائط جمعیت المسلمین کراچی کہ 75 ویں سالانہ اجلاس 14 ستمبر 2025 کو منعقد ہوا، یعنی پلاٹینم جوبلی منائی گئی، جس میں بھٹکل مسلم جماعت کراچی کے صدور و جرنل سکریٹری کو مدعو کیا گیا تھا ، بھٹکل مسلم جماعت کراچی کی طرف سے صدر محترم جناب کیپا سعید اسماعیل صاحب، نائب صدر محترم جناب شاھبندر پٹیل فیصل صاحب، جرنل سکریٹری جناب کے ایم محمد مقبول باشا صاحب اور بھٹکل مسلم جماعت کے سرپرست محترم و معزز جناب کیپا شعیب اسماعیل صاحب نے بھٹکل قوم کی نمائندگی کی اور اس یادگار موقع پر صدر صاحب نے موقع کی مناسبت سے شاندار الفاظ خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بھٹکل قوم کی طرف سے یہ شیلڈ النوائط جمعیت المسلمین کراچی کو پیشِ کی.کراچی میں بھٹکل مسلم جماعت طرز ہی اہلیان مرڈیشور کی بھی جماعت قائم ہے اور مرڈیشور مسلم جماعت والوں کا ایک وسیع وعریض اہل نائطہ قبرستان بھی موجود ہے۔
