از ۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان، شیموگہ۔9845916982
غرض تصورِ شام وسحر میںجیتے ہیں
گرفتِ سایۂ دیوار ودر میں جیتے ہیں
دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک اچھے دوسرے بُرے ، اچھے لوگ اُن کی خوبیاں ،خصوصیات طرزعمل ایسے ہوںگے کہ اُس سے اُ ن کی پہچان باآسانی ہوجاتی ہے لہٰذا ،قول وقرار ،آداب ولحاظ ،تہذیب وشائستگی ،علم وہنر ، شرافت وانسانیت ،زبان وبیان ،انداز وطرز ادا ،احساس وعمل، محنت ومشقت، سادگی وخلوص ،اقرار ووفا، ایمان ویقین،حوصلہ وہمت، فکر وعمل ،پہچان وپرکھ، عہد ووفا، علم وفن،علامات واشارات ، تخیل وجستجو ،تطووتنور ،تدبر وتجسس، احساس ویقین ، شرافت وپارسائی، تفکرات وتجلیات ،رضا واداء ،فدا و بقاء ،رمز وایمان، سوچ وفکر،نیت وخلوص،بصیرت وبصارت،فضائل وفضیلت ، جمالیات وکمالیات ،متقی وپرہیز گار، باحیا وباوفا ،رہبر ورہنما،عقل وشعورریاضات رفاقت ،صالحات وباقیات،عقیدت ومحبت گفتار وکردار،عالم وکامل،عامل وعابد،تعلیم وتربیت،ذکرواذکار،صبر واستقلال۔حسرت ومحبت ،الفت وچاہت،نظر اورنظریہ ،فکرویقیں وغیرہ ہیں۔اس ضمن میں فیض احمد فیض لکھتے ہیں۔
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اْٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چْرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقیّد ہیں اور سگ آزاد
بُرے لوگوںکی پہچان یہ ہے کہ زمانۂ دراز سے فرعون ،نمرود وشداد کے راستے پر چلنے والے ،بے ایمانی دھوکہ ،فریب وغدار ،بے حیا وبے وفا ،ظالم وجاہل، رقیب ورہزن، جہالت ورزالت،حماقت وعداوت،ریاکار وسیاہ کار،کینہ وکپٹ، زانی ودغاباز، چغلخورومنافق،حاسد وجابر، مکر وفریب،بے ادب وموقع پر ست،ابن الوقت وبالغ جہل، دشمن ِجان ودشمنِ ایمان، جادوگر وستمگر، چابلوس وجفا کش، بے دین وایمان، رشوت خورونشہ خور، شاگرد ِابلیس وشاگرد شیطان،بیکار وداغدار، جھوٹی شان وجھوٹی شہرت کاطلب گار، بداخلاق وبدکردار،غرور وتکبر،دولت وشہرت کابھوکا،نامرادوناکارہ ،بے عمل وبدمزاج،کاہل وجاہل وغیرہ بُرے انسان کے اوصاف وکردار ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔لہٰذا شاعرکانظریہ اس نوعیت کاہے کہ وقت حالات کااندازہ ان اشعارسے لگایا جاسکتاہے۔
بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جْو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں
دنیا میں تبدیلی ضرور آئے گی۔بس وقت کا انتظار ہونا چاہئے۔
٭٭٭٭٭
بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی
چمک اْٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایہء دیوار و در میں جیتے ہیں
٭٭٭٭٭
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ اْن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ اْن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل بْرا نہیں کرتے
غرض کہ دنیا اچھائی اور برائی کامرکز ہے مادّہ پرست لوگ اپنے آپ کو کتنا ہی بڑا بنانے کی کوشش کریں یہ کامیابی حقیقی کامیابی نہیں۔کیونکہ اُن کی یہ کوششیں ظلم وستم جبر وتشدت دھوکہ وفریب اور مادی طاقتوں سے جڑی ہوئی ہیں اس لئے ان کے یہ کام کبھی حقیقی کامیابی کی طرف نہیں لے جاسکتے ۔ تھوڑی دیر کے لئے سورج کی تپش بردشت سے باہر ہوجاتی ہے مگر اُس کے غروب ہونے کاوقت بھی قریب ہوتاہے۔ انسان اناکے سمندر میں انسانیت بھول جاتاہے۔دولت ،شہرت ،عورت ،ایک نشہ ہے نشہ تو ایک مدت کے لئے ہوتاہے جب نشہ اتر جائے تو انسان کاجینا مشکل ہوجاتاہے۔ انسان کبھی دولت کے غرور میں کبھی شہرت کے غرور میں کبھی مقام ومنصب کے غرور میں کبھی بعض کینہ وکپٹ حسد وجلن اورتکبر کی زد میں آکر اپنے آپ کو بلند وبالا کا تمغہ خود دے دیتاہے ۔انسان پانی کا بلبلہ ہے اپنی خوبیوںکااحساس خود ہرایک کوہوتاہے لیکن اپنے آپ کو بلند وبالا ثابت کرنے کے چکرمیں بیکار ونامراد وناکارہ لوگوںکویکجاکرکے جئے جئے کارکروانے لگتاہے یہ اس کی ناکامی،بذدلی،نااہلی اور نالائقی کا بین ثبوت ہے۔ وقت اورحالات کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی ۔لہٰذا علامہ کااقبال کایہ شعر ذہین کے دریچوں میں ہمیشہ سجائے رکھنا چاہیے۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
فیض احمد فیضؔ اس نظم میں بڑے بہترین انداز میں اپنے خیالات پیش کرتے ہیں۔
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
مذکورہ اچھے اور برے انسان کے اوصاف ،خوبیاں ،خصوصیات پر ہردور میں موجودرہے ہیں ہاںجب فرعون موجود ہوتو اسکوختم کرنے کے اللہ تعالیٰ موسیٰ جیسے عظیم بابرکت شخصیت کو روئے زمین پر بھیجتاہے۔ نمرود کی خدائی کادعویٰ دھرا کے دھرا رہ گیا اللہ تعالیٰ نے ابراھیم علیہ اسلام جیسی عظیم المرتبت ہستی کو زمین پر بھیجا ۔ آتش نمرود کوابراھیم کے لئے گلِ گلزار بنادیتاہے ۔فرعون کی فرعونیت ،نمرود کی نمرودیت ،شداد کی شدایت ختم ہوجائے گی بس نام رہے گااللہ کا۔ ہر دورمیں ظالم ،جابر لوگ آئے لیکن حقیقی کامیابی نیک ،شریف ،بااخلاق وباکردار لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
