گدگ:۔جماعت اہل سنت کرناٹکا کاموقر وفدنے گدگ ضلع کے نرگند تعلقہ میں بجرنگ دل کی دہشت گردی وہجومی تشددسے شہید ہونے والے 19؍سالہ نوجوان سمیر شاہ پور کے گھر پہنچ کر ان کے والد اور بھائیوںسے ملاقات کی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ چند دن قبل فرقہ پرست تنظیم بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں نے دو مسلم نوجوانوں پر ہتھیاروں سے جان لیوا حملہ کیاجس میں شمسیر شدید زخمی ہوا اور سمیر شاہ پور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگیا۔ جماعت اہل سنت کرناٹکا کے ذمہ داروں سے بات کرتے ہوئے نرگند تعلقہ انجمن اسلام کے صدر پٹھان نے اس حادثے کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ جس سے یہ معلوم ہوا کہ شہید ہونے والا یہ نوجوان محنت مزدوری کیا کرتا تھااور کہیں سے بھی شہید سمیرشاہ پور کا تعلق نہ کسی بھی فرقہ پرستی والے واقعات سے رہا ہے اور نہ یہ کسی تنظیم کا رکن تھا۔عرصہ دراز سے نرگند میں آر ایس ایس اور بجرنگ دل جیسی فرقہ پرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کرنا داڑھی ٹوپی والوں کو چھیڑنا حجاب میںملبوس مسلم خواتین کے ساتھ نازیبا حرکت کرنا وغیرہ مذموم کاموں کا سلسلہ جاری تھا۔ایسا محسوس ہورہا تھا کہ فرقہ پرست تنظیمیں بہت بڑے پیمانے پر دنگا فساد کرنا چاہتے تھے جس کے نتیجے میں سمیر شاہ پور کی شہادت واقع ہوئی۔ مولانا سید محمدتنویر ہاشمی، مفتی محمدعلی قاضی مصباحی ، سید شمس الدین قاضی ، مولانا نیاز عالم قادری، مولانا سید عبد الحکیم قادری ، حافظ عثمان غنی نوری، مولانا مجیب اشرف نعیمی اور سید تاج الدین قادری وذمہ داروں نے سمیر شاہ پور کے والد بزرگوار، انجمن اسلام نرگند کے صدر واراکین وعلماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت اہل سنت کرناٹکا آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ جب تک سمیر شاہ پور کو انصاف نہیں مل جاتا اس وقت تک قانونی لڑائی میں ہمارا بھرپور تعاون رہے گا۔ مزید یہ فرمایا کہ نرگند تعلقہ کے علماء کرام ، ائمہ مساجد ، ذمہ داران مسلم نوجوانوں کی سرپرستی کرتے ہوئے ہر طرح کے جذباتی کاموںسے دور رہتے ہوئے قانون کے دائرہ میں سخت کارروائی کرنے میں تعاون کی اپیل کریں۔ہر حال میں امن برقرار رہنا چاہئے اوربھائی چارہ کے جذبے کو فروغ دینا چاہئے ۔ اس موقع پر مولانا سید محمدتنویرہاشمی نے فرمایا کہ ہمارا دیش گنگاجمنی تہذیب والادیش ہے، اس ملک میں رہنے بسنے والے ہمیشہ سے پیارمحبت واخوت اور بھائی چارہ کے ساتھ رہے ہیں۔ مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر ایسے ہیں جن کی وجہ سے نفرتوںکا ماحول بناہوا ہے۔ مگر ہم ان شاء اللہ شہید سمیر شاہ پور کے لیے انصاف کی لڑائی لڑتے ہوئے بھائی چارہ کے عظیم جذبے کو فروغ دیتے رہیںگے۔ جماعت اہل سنت کرناٹکا نے شہید سمیر شاہ پور کے والد بزرگوار کو ایک مالی امداد بھی پیش کی اور تیقن دلایا کہ آزمائش کے ان مراحل میں ہم آپ کے شانہ بہ شانہ چلیں گے۔ اخیرمیں شہید سمیر شاہ پور کے لیے دعاء مغفرت کی گئی اور زخمی شمسیر کے لیے دعاء صحت کی گئی۔ اس ملاقات میں نرگند انجمن کے ذمہ داروں کے علاوہ علماء کرام کی کثیر تعداد شریک رہی۔ جماعت اہل سنت کرناٹکا صوبہ کرناٹک کے علماء کرام ائمہ مساجد وذمہ داران مدارس سے گذار ش کی ہے کہ شہید سمیر شاہ پور کے حق میںدعاء کریں اور جمعہ کے خطبات میں حالات حاضرہ کے تناظر میں سنجیدگی ومتانت کے ساتھ نفرتوں کے دور میں بحیثیت خیر امت ہندوستان جیسے ملک میں زندگی اور بندگی کے خطوط کیسے متعین کرنا چاہئے، ان امور پر سنجیدہ خطابات کا سلسلہ جاری رکھیں اور جہاں کہیں ہجومی تشدد جیسے واقعات پیش آئیں ان کا مقابلہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اکابر علماء کرام کے مشورے سے اقدام کریں۔
