کانگریس پارٹی نے کیا مسلمانوں کے ساتھ اور ایک بھونڈا مذاق;قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے میں مسلم رہنما محروم

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

 

 

بنگلور : کرناٹکا میں کانگریس پارٹی نے پھر ایک مرتبہ مسلمانوں کے اعتبار کو توڑتے ہوئے لیجلیٹیو کاؤنسل میں اعلیٰ نمائندگی سے محروم کردیا ہے اور بڑے دنوں سے لیجسلیٹیو کاؤنسل کی قیادت کے لئے نمائندگی کا جو مطالبہ تھا وہ پورا نہیں ہوسکا ۔ لیجسلیٹیو کاؤنسل کی نمائندگی کے لئے سینیر لیڈر سی یم ابراہیم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا اس سلسلے میں انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمارسے ملاقات کی تھی، بتایا جارہاہے کہ دونوں ہی لیڈروں نے سی یم ابراہیم کو یہ عہدہ دینے کا یقین دلایا تھا لیکن آج شام اے آئی سی سی نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں لیجسلیٹیو کاؤنسل کے اپوزیشن کے عہدے پر سابق رکن پارلیمان اور یم یل سی بی کے ہری پرساد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ یم یل سی پرکاش راتھوڈ کو چیف وہپ کا عہدہ دیا گیا ہے، اسی طرح سے گووندا راجو کو ڈپٹی لیڈر کا عہدہ دیا گیا ہے۔ اس طرح سے لیجسلیٹیو کاؤنسل کے تمام عہدوں سے مسلم کانگریسیوں کو سیاسی حق سے محروم رکھا گیاہے، واضح ہوکہ کانگریس پارٹی میں باربار مسلمانوں کے ساتھ حق تلفی ہورہی ہے لیکن اس سلسلے میں خود کانگریسی مسلمان کھل کر اپنے حق کا مطالبہ نہیں کرپارہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ کانگریسی مسلمان کانگریس کے ذہنی غلام بن چکے ہیں اور وہ اپنے آقاؤں کے سامنے زبان کھولنا جائز نہیں سمجھتے ۔